پاکستان میں افغان مہاجرین کو بااختیار بنانے کیلئے یواین ایچ سی آر کی معاونت

پاکستان میں افغان مہاجرین کو بااختیار بنانے کیلئے یواین ایچ سی آر کی معاونت

اسلا م آباد(آن لائن) پاکستان میں موجودافغان مہاجر نوجوانوں کو بہترین ووکیشنل ٹریننگزاور روزگار کے پراجیکٹس کے ذریعے بااختیار بنانا اہم قدم ہے تاکہ افغان مہاجرین کے اس انسانی سرمائے (ہیومن کیپیٹل ) کو بروئے کار لا کر اُن کی اپنے وطن واپسی پر وہاں تعمیرِ نو اور ترقی کے عمل میں اُن کی شمولیت کو یقینی بنایا جاسکے" ان خیالات کا اظہار ڈنمارک کے ناظم الامور مسٹر جیکب روگلڈ جیکبسن نے اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (یواین ایچ سی آر) کے پاکستان میں نمائندے مسٹر اندریکا راٹواٹے سے ملاقات کے دوران کیا۔ گُزشتہ روز ) 17 جون ( کو ہونے والی اس ملاقات میں افغان مہاجرین اور پاکستان کے بے گھر ہوجانے والے افراد کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ مسٹر جیکبسن نے افغان مہاجرین کی تازہ صورتحال اور اُن کی رضاکارانہ وطن واپسی کے معاملے پر اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے کردار کو سراہا اور کہا کہ ڈنمارک کی حکومت افغان مہاجرین کے مسئلے کو علاقائی تناظر میں دیکھتی ہے۔

اور ایسا پائدار حل چاہتی ہے جس سے افغان مہاجرین اور دیگر بے گھر ہونے والے افراد جتنا جلد ہوسکے باحفاظت اپنے گھروں کو واپس جاسکیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈنمارک یواین ایچ سی آر کے جنوب مغربی ایشیا میں پروگرام میں بڑے معاونین میں سے ایک ہے۔ اس موقع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے مسٹر راٹواٹے نے کہا کہ یواین ایچ سی آر تعلیم، ہنر کی تربیت اور روزگار کی معاونت کے باہمی تعلق سے نوجوانوں کو بااختیار بنانے کی خواہاں ہے۔ انہوں نے یاددہانی کروائی کہ منصفانہ اور مکمل تعلیم اور تاحیات سیکھنے کے عمل کے فروغ پر ملّینیم ڈیویلپمنٹ گولز اور سسٹین ایبل ڈیویلپمنٹ گولز میں بھی اتفاق کیا گیا ہے۔ ڈنمارک نے یواین ایچ سی آر کے پاکستان میں 2016 کے پروگرام کے لیے تقریباً تین ملین امریکی ڈالر مُختص کیے ہیں۔ڈنمارک کی معاونت سے یواین ایچ سی آر افغان مہاجرین کے مسائل کے حل کی حکمت عملی، ان کی رضاکارانہ وطن واپسی اور مہاجر افغان نوجوانو ں کی ووکیشنل ٹریننگ او ر تکنیکی نوعیت کی مہارتوں کے ذریعے انہیں بااختیار بنانے جیسی سرگرمیاں کرنے کے قابل ہوسکے گی۔

مزید : کامرس