ڈاکٹر طاہر القادری،زیرک شخصیت،چت بھی اور پٹ بھی اپنی،رعب تو جمالیا

ڈاکٹر طاہر القادری،زیرک شخصیت،چت بھی اور پٹ بھی اپنی،رعب تو جمالیا

تجزیہ :چودھری خادم حسین

پاکستان عوامی تحریک کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر طاہر القادری بڑی ذہین شخصیت ہیں اور اکثر وہ خود کو اسرار کے پردوں میں چھپا لیتے ہیں۔حالانکہ ہم جیسے بعض عاجز بندوں کو اندازہ ہوجاتا ہے۔ اس بار وہ وطن آئے تو آنے سے پہلے ہی سانحہ 17جون کی دوسری برسی یا تقریب کا اعلان کرتے چلے آئے اور ڈیرہ بھی مال روڈ پر ہی لگانے کے لئے کہا، بعض مذاکرات کے باوجود وہ نہ مانے اور بالآخر ایک سمجھوتے کے تحت اجازت حاصل کرلی جس کے مطابق یہ دھرنا نماز عشا سے صبح سحری کے وقت تک کا تھا، تاہم حضرت اس دوران دھیمے انداز سے یہ دھمکی بھی دیتے چلے گئے کہ ’’رکاوٹ‘‘ ہوئی تو دھرنا غیر معینہ مدت کے لئے ہو سکتا ہے، یہ اندازہ تھا کہ جب انتظامیہ نے اجازت دی توپھر کوئی رکاوٹ بھی نہیں ہوگی تاہم ڈاکٹر محترم نے اس سے بھرپور فائدہ اٹھایا اور دھمکی دے کر اپنے معتقدین پر ثابت کیا کہ وہ مضبوط پاؤں پر کھڑے ہیں۔ اس کا ثبوت انہوں نے یوں بھی دیا کہ کمر کی تکلیف کے باوجود کھڑے ہو کر تقریر کی (شاید اسی وجہ سے نسبتاً طویل نہیں تھی) اور پھر یہ بھی کہا کہ وہ مضبوطی سے کھڑے ہیں۔

یہ سانحہ ماڈل ٹاؤن خاصا الجھا ہوا ہے، افسوس تو یہ ہے کہ کمشن اور تحقیقات کے بعد بھی اسرار پر سے پردے نہیں اٹھے اور پاکستان عوامی تحریک کا موقف حکومت وقت کے خلاف ہے۔ جبھی تو ڈاکٹر طاہرالقادری نے دیت کو رد کرکے قصاص کا مطالبہ کر دیا ان کا موقف ہے کہ جاں بحق ہونے والوں کے وارثان نے دیت کو پہلے ہی رد کر دیا تھا، اب وہ کہتے ہیں کہ یہ قصاص پاکستان بری افواج کے سپہ سالار جنرل راحیل شریف لے کر دیں اور پھر دوسری سانس میں کہتے ہیں۔ انصاف فوجی عدالتوں کے ذریعے لے کر دیاجائے۔ وہ کتنی دانشمندی سے فوج کو دعوت بھی دیتے اور اس سے گریز بھی کر جاتے ہیں۔ ویسے انہوں نے فرزند راولپنڈی شیخ رشید کی ہاں میں ہاں ملا دی ہے کہ یہ حکومت نزع کے عالم میں ہے اور ستمبر تک روح نکل جائے گی۔

بلاشبہ پاکستان عوامی تحریک کا یہ شو موثر تھا تاہم اگر کوئی یہ کہے کہ اس سے انقلاب آ جائے گا تو یہ ممکن نہیں کہ یہ سب حاضرین ڈاکٹر طاہرالقادری کے عقیدت مند ہیں اور ان سے وہ بہت سی توقعات وابستہ کر سکتے ہیں، انہوں نے خود کہا کہ 35سال سے ان کی تربیت کی ہے۔ یہ درحقیقت منہاج القرآن کا تعلیمی سلسلہ ہے جو ملک کے طول و عرض میں پھیلا ہوا ہے، اس کے علاوہ ان کے بعض اور بھی متاثرین ہیں۔ یہ معتقدین تو ان کی باتوں پر آنکھ بند کرکے یقین کرتے ہیں تاہم اکثر ایسے بھی ہیں جو ان کی علمیت اور جدید مواصلاتی سہولتوں سے مستفید ہونے کو اچھا جانتے لیکن ان کے سیاسی عمل سے اتفاق نہیں کرتے، بعض حلقے ترکی میں گولن تحریک اور پاکستان میں منہاج القرآن کی تحریک میں مماثلت ڈھونڈتے ہیں جو کسی حد تک ہے۔

ڈاکٹر طاہر القادری نے اس جلسہ عام کے ذریعے مستقبل کے لئے کئی بنیادیں رکھ دیں، اب اپنے پلیٹ فارم پر تحریک انصاف، پیپلزپارٹی ، ق لیگ اور شیخ رشید کو بلایا اور موقع دیا، حضرت شیخ الاسلام دیرینہ خواہش کے حامل ہیں کہ قیادت وہ کریں، اگر عمران خان اسلام آباد میں ذرا سمجھداری سے کام لیتے اور محترم کی ایسے تعریف کرتے کہ ان کو اپنی برتری کا احساس ہوتا تو وہ اپنا دھرنا پہلے سے ختم نہ کرتے۔

ٹریفک کے مسائل، شاہراہ قائداعظم اور ملحقہ مارکیٹ کے تاجروں کے کاروبار کا ٹھپ ہونا اور پھر ٹنوں کے حساب سے سڑک پر کوڑا جمع ہونے کے علاوہ سڑک کی گرین بیلٹ اور پودوں کو نقصان پہنچنا الگ مسئلہ ہے، انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ حساب لگا کر محترم کو بل روا نہ کرے کہ بحالی پر اتنا خرچ ہوا۔

یہ سب رہا اپنی جگہ، کیا ہمارے حکمران اس عمل کے تمام پہلوؤں پر غور کریں گے اور فیصلے سڑکوں پر نہیں ہونے دیں گے۔ یہ تبھی ممکن ہے کہ پارلیمان کی سطح پر ڈیڈ لاک نہ ہونے دیں۔ پاناما پر کیوں ایسا ہوا؟ اور کیوں اسے ایشو بنا لیاگیا حالانکہ یہ سبھی تسلیم کرتے تھے کہ ’’احتساب سب کا‘‘ اور اس میں کون نہیں آتا، اسی لئے تو مستقل ادارہ بنانے کی تجویز بھی دی تھی کہ مکمل غیر جانبدار ادارہ ہو جو مسلسل احتساب کا عمل جاری رکھے، اب تک جتنی بھی اطلاعات ہیں ان کے مطابق زیادہ حضرات کا تعلق دوسری جماعتوں سے ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے کم سے کم حضرات کے نام ہیں، مسئلہ صرف وزیراعظم کا ہے تو اگر آف شور کمپنیوں کے حوالے سے صاحبزادگان کا نام ہے تو پھر والد کا بھی نام آ جائے تو کیا ہو جائے گا اسے انا کا مسئلہ بنانے کی بجائے بہتر طریق کار ڈھونڈھنا چاہیے کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی بچ جائے۔ سپریم کورٹ بار والے نکات کو بھی سامنے رکھ کر مذاکرات کریں تو بہتر ہو سکتا ہے۔ حکمران جماعت کو چاہیے کہ وہ اپوزیشن کو اندرونی کہانی والی پریس کانفرنس نہ کرنے دے کہ جواب الجواب کا نیا سلسلہ شروع ہو جائے گا یہ بہتر نہیں، اب بھی وقت ہے کہ درمیانی راستہ نکال کر پھر سے ڈائیلاگ کا آغاز کریں اور جلد فیصلہ کریں، ایوان میں پاناما کے حوالے سے ترمیم واپس لے کر تو اچھا کام کیا ہے۔

مزید : تجزیہ