محکمہ سکولز ایجوکیشن 2015-16ء کیلئے مختص بجٹ میں صرف 42فیصد فنڈز خرچ کر سکا

محکمہ سکولز ایجوکیشن 2015-16ء کیلئے مختص بجٹ میں صرف 42فیصد فنڈز خرچ کر سکا

لاہور(لیاقت کھرل)محکمہ سکولز ایجوکیشن مالی سال 2015-16ء کیلئے مختص بجٹ 32-8 بلین میں سے صرف 42فیصد فنڈز خرچ کر سکا، جس کے باعث گزشتہ مالی سال کے دوران صوبے میں مجموعی تعلیمی صورتحال میں کوئی قابل ذکر بہتری نہیں آ سکی ہے اور نہ ہی پڑھو پنجاب بڑھو پنجاب کے نعرے میں کسی حد تک کامیابی حاصل کی جاسکی ہے۔ مالی سال 2016-17ء میں بھی تعلیمی ماہرین نے تعلیمی بجٹ کے مکمل طور پر خرچ نہ کر پانے اور صوبے میں مجموعی تعلیمی صورتحال میں بہتری پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ تاہم 2016-17ء میں 45ہزار نئے اساتذہ کی بھرتی اور سکولوں میں ارلی چائلڈ ھوڈ پروگرام اور تعلیمی بجٹ کے 100فیصد خرچ ہونے پر پڑھو پنجاب بڑھو پنجاب کے نعرے میں کامیابی کے بارے خیالات ظاہر کئے گئے ہیں جس سے صوبے میں 44فیصد بچے جو کہ سکولوں سے باہر ہیں ، انہیں واپس سکولوں میں لانے میں کامیابی بھی حاصل کی جا سکتی ہے ۔ اس حوالے سے صوبے میں تعلیمی صورتحال کا جائزہ اور تجاویز کے حوالے سے کام کرنے والی ایک اور تنظیم الف اعلان اور تعلیمی ماہرین نے بھی مالی سال 2016-17میں مجموعی طور پر تعلیمی صورتحال میں بہتری کے بارے اظہار کیا ہے اس حوالے سے تیار کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مالی سال 2015-16ء کے دوران محکمہ سکولز ایجوکیشن تعلیم کے لئے مختص کئے جانے والے بجٹ کو محکمہ تعلیم خرچ کرنے میں ناکام رہاہے۔ یہی وجہ ہے کہ پنجاب میں اسکولوں میں داخلے کی شرح بد ستور کم ہے۔ اسکول ایجوکیشن کے لئے مختص کئے جانے والے 32 ارب 81 کروڑ روپے کے بجٹ میں سے اپریل 2016 تک صرف 14 بلین روپے 42فیصد ہی خرچ کئے جا سکے ہیں۔ بجٹ میں تعلیم کے لئے مختص کی جانے والی رقم کو معقول انداز میں خرچ نہ کرپانے کی وجہ سے صوبے کی مجموعی تعلیمی صورتحال میں کوئی قابلِ ذکربہتری دیکھنے میں نہیں آئی۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پنجاب میں پانچ سے پندرہ سال کی عمر کے 44 فیصد بچے اسکولوں سے باہر ہیں جن میں سے 46 فیصد لڑکیا ں اور 42 فیصد لڑکے ہیں۔ پرائمری اسکول کی سطح پر 35 فیصد لڑکے اور 34 فیصد لڑکیاں تعلیم مکمل کئے بغیر اسکول چھوڑدیتے ہیں۔ اگرچہ اسکولوں میں سہولیات کی کمی کو دور کیا جا رہا ہے لیکن معیارِ تعلیم پہلے کی طرح انتہائی پست ہے۔ اعداد وشمار کے مطابق پنجاب میں پانچویں جماعت کے55 فیصد بچے اردو کی کہانی نہیں پڑھ سکتے )دوسری جماعت کی اردو کی کہانی (، 76 فیصد بچے انگریزی کی کہانی نہیں پڑھ سکتے )دوسری جماعت کی انگریزی کی کہانی ( اور 65 فیصد بچے دو ہندسوں کی تقسیم نہیں کر سکتے ہیں۔ حکومت نے مالی سال 2016-17ء میں ’’پڑھو پنجاب،بڑھو پنجاب ‘‘ کے نعرے کے تحت حکومتِ پنجاب نے ایک دفعہ پھر 100 فیصد شرحِ داخلہ حاصل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ اسکولوں میں سہولیات کی کمی کو دور کرنے کے لئے 50 بلین روپئے سے 'سٹرینگ تھنگ آف اسکول پروگرام' بھی شروع کیا جا رہا ہے۔ ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (DFID) کے توسط سے حکومتِ برطانیہ بھی پنجاب حکومت کے اس پروگرام میں 17.6 بلین روپے کی مالی معاونت فراہم کر رہی ہے۔اس بجٹ میں پالیسی سازی کے حوالے سے ایک اہم فیصلہ'ارلی چائلڈ ہوڈ' پروگرام کو متعارف کروانا ہے جس کے لئے موجودہ اسکولوں کے 10,000 کمروں کو 'ارلی چائلڈ ہوڈپروگرام' کی ضروریات کے مطابق تبدیل کرنے کا پروگرام ہے اور مالی سال 2016-17ء میں حکومتِ پنجاب مزید 45,000 پرائمری اسکول اساتذہ کی بھرتی کی منصوبہ بندی کر رہی ہے تاکہ ہر پرائمری اسکول میں کم از کم تین اساتذہ تعینات کئے جاسکیں۔ اگرچہ یہ اعدادوشمار حوصلہ افزاء ہیں لیکن گزشتہ سالوں میں کئے گئے تعلیمی اخراجات کو دیکھتے ہوئییہ شکوک پیدا ہوتے ہیں کہ کیا مقررہ مدت میں یہ اہداف حاصل کئے جا سکیں گے ۔تاہم اس سلسلہ میں محکمہ تعلیم کے حکام کا کہنا ہے کہ مالی سال 2016-17 ء میں تعلیمی اہداف کو پورا کیا جائے گا اور مالی سال 2016-17 میں پڑھو پنجاب بڑھو پنجاب کے نعرے میں 100 فیصد کامیابی اور سکولوں سے باہر بچوں کو سکولوں میں لانے میں کامیابی حاصل کی جائے گی۔

مزید : صفحہ آخر