پاکستان کرکٹ ٹیم کا دورۂ انگلستان: چندغور طلب مسائل

پاکستان کرکٹ ٹیم کا دورۂ انگلستان: چندغور طلب مسائل
 پاکستان کرکٹ ٹیم کا دورۂ انگلستان: چندغور طلب مسائل

  

پاکستان کرکٹ ٹیم کا دورۂ انگلستان ہمیشہ سے تاریخی اہمیت کا حامل رہا ہے اور دورے کے نتائج آنے والے وقت کے لئے اپنے اثرات مرتب کرتے رہتے ہیں۔عام مشاہدہ ہے کہ ٹیم کے دورۂ انگلستان کے دوران وہاں کی مقامی ثقافت اور تارکین وطن میدان سے باہر ہونے والی سرگرمیوں میں اپنا اہم کردار ادا کرتے رہتے ہیں۔ پہلے پی سی سی پی اور اب پی سی بی ممکنہ خدشات اور کسی قسم کی کشیدگی سے بچنے کے لئے انتظامات کا اعلان کرتی رہی ہے۔ اس ضمن میں اس کالم میں انہیں کوئی تجویز نہیں دی جاسکتی ۔ برطانیہ میں پاکستانی کمیونٹی سیاسی اور ثقافتی طور پر تقسیم ہے۔ بد قسمتی سے پاکستان سے آنے والے مختلف وفود اور کھیل سے متعلق ٹیموں کو بھی بعض اوقات شامل کرلیا جاتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ محبِ وطن پاکستان سے آنے والوں کاشدت سے انتظار کرتے ہیں او ر کرکٹ ٹیم کو دل وجان سے سپورٹ کرتے ہیں اور اسے فاتح دیکھنا چاہتے ہیں۔ ان میں سے بعض عناصر مدتوں سے پاکستانی کرکٹرز، میڈیا کی شخصیات اور کرکٹ آفیشلز کے غیر سرکاری میزبان ہوتے ہیں یا بننے کی کوشش کرتے ہیں۔ اب زمانہ بدل چکا ہے، کرکٹ کے کھیل کے ساتھ مختلف خرافات، یعنی آوارہ گردی اور جواء شامل ہوچکی ہیں۔ ’’بد سے بدنام برا‘‘۔۔۔ اس کا سب سے زیادہ نقصان پاکستان کی کرکٹ کو ہوا ہے۔ دورے کے دوران بعض مشکوک عناصر ٹیم کے کھلاڑیوں کے ساتھ متعارف ہوتے ہیں۔ ضروری ہے کہ اس صورت حال میں ٹیم کے ساتھ منسلک سیکیورٹی انچارج ،کوچنگ سٹاف اور مینجمنٹ ان پر نظر رکھے اوردوسری طرف کرکٹ بورڈ کپتان سمیت تمام سٹاف کو باورکروائے کہ کسی بھی بد نظمی ،بددیانتی اور انتشار کے واقعے کو ٹیم کے ساتھ سفر کرنے والے سٹاف کی مشترکہ کوتاہی سمجھا جائے گا اور اس سلسلے میں جرمانہ یا سزا (COLLECTIVE FINE)بھی مشترکہ ہوگی۔

ایک اخباری خبر کے مطابق شادی شدہ کھلاڑیوں کو محدود عرصے کے لئے اپنی بیگمات لے جانے کی اجازت ہوگی۔ یہ درست سمت میں کیا گیا فیصلہ ہے۔اس ضمن میں کرکٹ بورڈ کو چاہئے کہ کھلاڑیوں کی بیگمات کے لئے بھی ایک خاتون منیجر تعینات کی جائے تاکہ کھلاڑی مکمل طور پر کھیل پر توجہ دے سکیں۔دوسری اطلاعات کے مطابق پی سی بی کے چیئرمین شہریار ایم خان سالانہ چھٹی پر جارہے ہیں۔ یہ چھٹی ان کا حق ہے، مگر انگلستان کے دورے کے دوران حساس نوعیت کے بہت سے مسائل سراٹھا سکتے ہیں، جس کے لئے بورڈ کے سربراہ کا انتظامی طور پر باخبر اور ان کے تدارک کے لئے دفتر میں موجود رہنا اشد ضروری ہے۔ حالیہ تاریخ میں ہونے والے واقعات نے ہماری کرکٹ کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ ایک تجویز یہ بھی ہے کہ کرکٹ بورڈ کے صدر دفتر میں انگلستان میں کرکٹ ٹیم کی سرگرمیوں کے حوالے سے ایک ماسٹر کنٹرول روم تیار کیا جائے اور روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ چیئر مین پی سی بی کو بھجوائی جائے۔ ہماری کرکٹ اب کسی مزید ہوش ربا سازش یا سکینڈل کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ ایک عرصے بعد محمد عامر کی واپسی ہورہی ہے۔دورۂ انگلستان کی خاص نوعیت کے حوالے سے شہریار ایم خان ،نجم سیٹھی اور سبحان احمد نے ان کے ساتھ خصوصی نشست کی اور انہیں سمجھایا کہ دورے کے دوران کیسے اپنے آپ کو سکینڈلز اور تنازعات سے دور رکھنا ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ اس کے فوراً بعد موصوف نے ایک ٹی وی شو اور ویب سائٹ کو انٹرویو عنایت فرمادیا ہے ۔

مصباح الحق تجربہ کار ہیں، مگر سیدھے سادے اظہر علی سے ٹیم کے مکمل کنٹرول اور نظم ونسق کے حوالے سے زیادہ توقع نہیں کی جاسکتی ۔دورۂ انگلستان کے لئے سترہ رکنی ٹیم کا اعلان بھی کردیا گیا ہے۔ ذاتی طور پر مجھے فاسٹ باؤلر ضیاء الحق اور ٹاپ آرڈر بیٹسمین فواد عالم کاٹیم میں نہ ہونا انتہائی نامناسب لگاہے۔فاسٹ باؤلر ضیاء الحق پاکستانی اے ٹیم کے ساتھ انگلستان کا دورہ کررہے ہیں، سلیکشن کمیٹی کودیکھنا یہ ہوگا کہ وہاں یہ کیسا پرفارم کرتے ہیں۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کے ساتھ کامیاب منیجر انتخاب عالم جارہے ہیں، لیکن ان کی عمر اب ایسی ہے کہ وہ ایسے کرکٹرز کو کنٹرول کرسکیں گے؟ یا ان کا پیچھا کر سکیں گے؟جو پاکستان میں اپنے قریبی دوستوں سے عہدوپیمان کرکے جاتے ہیں کہ وہ انگلستان کی ان تمام خرافات سے مستفید ہوکرواپس لوٹیں گے جو وہاں کی سوسائٹی کاجزو اوّل ہیں۔نیم خواندہ کرکٹرز کی منفی سوچ اور نہ بدلنے والی ذہنیت کا اندازہ وہی لوگ کر سکتے ہیں جو مقامی کلب اور ریجن کے ساتھ منسلک رہے ہوں۔ یہ بھی بدقسمتی ہے کہ اخلاص اور جذبہ رکھنے والے لوگ عمر رسیدہ ہوچکے ہیں۔ ماضی میں ٹیم کے ساتھ ایسے لوگ بھی بھیجے جاتے رہے ہیں جو فین بیس ایڈمنسٹریٹر کہلوائے جاتے رہے ہیں۔اس صورت حال میں ضروری ہے کہ کراچی یا لاہور ریجن کے کسی حاضر سروس عہد یدارکو اسسٹنٹ منیجر کے طور پر ٹیم کے ساتھ بھیجا جائے۔ آغا اکبر کو ٹیم کے ساتھ بحیثیت میڈیا مینیجر منسلک کردیا گیا ہے، جبکہ ٹور کے دوسرے حصے میں امجد بھٹی میڈیا منیجر کے طور پر ٹیم کے ساتھ ہوں گے۔ ہماری کرکٹ کے لئے میڈیا منیجر کا تقرر زیادہ پرانی بات نہیں ہے۔ قومی ٹیم کا منیجر ہی میڈیا کا سامنا کرتا ہے۔ توقع کرنی چاہئے کہ ان صاحبان کے ہوتے ہوئے ٹیم کے منفی پہلوؤں کے حوالے سے میڈیا سے تکلیف دہ خبریں نہیں ملیں گی۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے گورننگ بورڈ کے اجلاس میں سکول کرکٹ ٹورنامنٹ کی منظوری دی جاچکی ہے۔ یہ مقابلے ایک ہزار سکولوں کے مابین ہوں گے۔ مَیں یہ سمجھتا ہوں کہ کرکٹ کے مقابلے کروانے سے جسمانی جوہر کے حامل لڑکے تو سامنے آجائیں گے، لیکن آسٹریلیا ، بھارت ،نیوزی لینڈ ،جنوبی افریقہ حتیٰ کہ بنگلہ دیش جیسے کرکٹ کی سوچ اور سمجھ بوجھ والے وسائل کہاں سے آئیں گے۔ بدقسمتی سے ہماری قومی فرسٹ کلاس کرکٹ میں چوکے چھکے کھلاڑیوں کی جگت بازی، ٹھٹھے بازی اور ذہنی عیاشی کے علاوہ تربیت سازی کا کوئی انتظام نہیں۔ اب یہ کلچر ہماری کرکٹ میں اپنی جڑیں مضبوط کرچکا ہے۔ کرکٹ بورڈ کو اپنی پوری توجہ کھلاڑی کی ذہنی پختگی ، لگن اورتربیت سازی پرصرف کرنی چاہئے۔ برابری کی بنیاد پر پی سی بی کو کلب کرکٹ میں بھرپور توجہ دینی چاہئے، کیونکہ یہ کل وقتی کرکٹ کی سرگرمی ہے، جس کا کراچی،لاہور اور دیگر شہروں میں نظام تباہ ہوچکا ہے۔کلبوں اور ریجنوں کو یہ ہدایات جاری کی جائیں کہ وہاں اپنی سرگرمیوں کو ویب سائٹ یا فیس بک پر جاری کریں۔ اس ضمن میں پی سی بی ضروری مالی وسائل فراہم کرسکتا ہے۔ اس طرح پی سی بی اور عوام ا لناس کے علم میں ہوگاکہ مقامی سطح پر کیا کچھ ہورہاہے، کھلاڑی کیسا پرفارم کررہے ہیں اورسلیکشن کے مراحل میں کیا سقم ہے؟

مزید :

کالم -