سستا گوشت، سرمایہ کاری اور زرمبادلہ بڑھانے کا راستہ

سستا گوشت، سرمایہ کاری اور زرمبادلہ بڑھانے کا راستہ
سستا گوشت، سرمایہ کاری اور زرمبادلہ بڑھانے کا راستہ

  

ملک کی اقتصادی ترقی و استحکام کا انحصار برآمدات میں وسعت اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ پر ہے۔عوام کو سستے نرخوں اشیائے خور و نوش فراہم کرنے کا انحصار ان کی پیداوار بڑھانے اور بے تحاشا ٹیکسوں کے بوجھ سے محفوظ رکھنے پر ہے۔ .عالمی مالیاتی اداروں کے قرضوں سے نجات بھی اسی صورت مل سکتی ہے جب پاکستان کی برآمدی صنعتوں کی پیداواری گنجائش بڑھے اور بین الاقوامی منڈیوں میں پاکستان کی صنعتی اور زرعی مصنوعات و اجناس کی مانگ میں اضافہ و تسلسل برقرار رہے ۔ پاکستانی برآمدات کا ماضی میں زیادہ ترانحصار ٹیکسٹائل مصنوعات پر رہا ہے،موجودہ حکومت بالخصوص وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کو پورا ادراک ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ کئے بغیر اقتصادی ترقی کے خواب کی صحیح تعبیر نہیں مل سکتی۔ ا س مقصد کے لئے حکومت نے ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھا ر ٹی آف پاکستان کی تشکیل نو کی اور اس کی سربراہی نجی شعبہ کی با صلاحیت شخصیت کے حوالے کی،ایسی حکومتی کاوشوں اور فیصلوں کے باوجود برآمدی شعبے میں تشنگی چلی آ رہی ہے۔پولٹری انڈسٹری کے نمائندے کی حیثیت سے ہم نے بارہا حکومتی ذمہ داران اور پالیسی سازوں کو باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ پولٹری انڈسٹری کے فروغ میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جائے ۔ اس صنعت کو بڑھنے کے مواقع فراہم کئے جائیں۔

حکومت کے صنعت دوست اقدامات کے نتیجے میں پولٹری انڈسٹری میں مزید سرمایہ کاری آئے گی ۔ یہ صنعت عوام کو سستا گوشت فراہم کرنے اور ملکی برآمدات بڑھانے کے لئے سود مند ترین ذریعہ ثابت ہوگی ۔ وزیر اعظم اور وزیر خزانہ کے مثبت رویوں کے باوجود بیورو کریسی اور پالیسی ساز اداروں نے ہماری گزارشات کو پذیرائی کے مقام سے دور رکھنے ہی میں مصلحت سمجھی ہے۔ سرکاری ماہرین کے تجویز کردہ اقدامات کے ذریعے زر مبادلہ کمانے اور عوام کو سستا گوشت فراہم کرنے والی صنعت کو الٹا سکیڑنے اور محدود کرنے کی شعوری یا لا شعوری کوشش کی گئی ہے ۔ا س وقت بکرے کا گوشت عام آدمی کی پہنچ سے کافی دور جا چکا ہے۔ اسی قسم کی صورت حال گائے کے گوشت کی ہے . . . ان حالات میں عام آدمی صرف مرغی کا گوشت کھا سکتا اور بیاہ شادیوں کی تقریبات میں مہمانوں کو کھلا سکتا ہے ۔ ایسی صنعت کو حتی الا مکان بڑھانے کی کوشش ہونی چاہئے، لیکن پولٹری کی صنعت کے ساتھ حکومتی اقدامات کا سلوک اس طرح ہے کہ پولٹری کا را میٹریل گرینڈ پیرنٹ ہے جو امپورٹ ہوتا ہے ۔ اس پر 15 فیصد امپورٹ ڈیوٹی عائد کرکے گویا پولٹری کی بنیادی اینٹ ہی بے انتہا مہنگی کر دی گئی ہے ۔ اگلے مرحلے میں مرغی کی خوراک کا سب سے بڑا اور اہم حصہ سویا بین ہے ، اس پر دس فیصد ڈیوٹی اور دس فیصد سیلز ٹیکس لگا کر اسے بھی مہنگا ترین کر دیا گیا ہے ۔

پولٹری کی صنعت کے اہم ترین عوامل میں ناقابل برداشت اضافوں کے باوجود وزیر خزانہ نے اپنی بجٹ تقریر میں اعلان کیا ہے کہ زندہ مرغی ڈیڑھ سو روپے کلو کے حساب سے فروخت ہوگی،حالانکہ فارمر کو زندہ مرغی کی 145 روپے کاسٹ آتی ہے .جن ماہرین نے وزیر خزانہ کو بتایا ہے کہ گرینڈ پیرنٹ پر 15فیصد ڈیوٹی، سویا بین پر دس فیصد ڈیوٹی اور دس فیصد سیلز ٹیکس کے علاوہ بجلی اور دیگر عوامل مہنگے ہونے کے باوجود زندہ مرغی ڈیڑھ سو روپے کلو فروخت ہوسکتی ہے . اس کے بعد صنعت زندہ رہے گی، بہتر ہوگا کہ سرکاری ماہرین پولٹری کے نمائندوں کے ساتھ مل بیٹھ کر اس ریٹ پر فروخت کا فارمولا سمجھا دیں ا ور پھر یہ بھی بتا دیں کہ صنعت بند ہوگی ا ور نہ ہی لاکھوں افراد بے روزگار ہوں گے . پولٹری کی صنعت سے وابستہ کاروباری افراد محب وطن ہیں . تمام جائز ٹیکس حکومت کو بر وقت ادا کرتے ہیں . وہ اپنا جائز منافع ضرور لینا چاہتے ہیں لیکن اس سلسلے میں استحصال سے دور رہتے ہیں . ا نہیں حکومت اور عوام کی ضرو ریات اور مشکلات کا اچھی علم ہے۔

دوسری طرف حکومتی ذمہ داران کو چاہئے کہ صنعت اور عوام کے حق میں مشکل ترین فیصلوں سے پہلے متعلقہ صنعت سے وابستہ افراد سے مشاورت کریں، تاکہ انہیں معلوم ہو سکے کہ ان کے تجویز کردہ اقدامات اور فیصلوں کے نتیجے میں متعلقہ صنعت کو کس قدر نقصانات سے دوچار ہونا پڑے گا . پولٹری پر موجودہ ڈیوٹیوں اور ٹیکسوں کے نتیجے میں پولٹری کی صنعت زبوں حالی کا شکار ہوگی . بے روزگاری بڑھنے کا اندیشہ پیدا ہو گیا ہے . اس کی ایکسپورٹ بڑھا کر زر مبادلہ کما نا کافی مشکل ہو جائے گا . بیرونی دنیا میں حلال گوشت کی مانگ و فروخت کی صورت حال اس طرح ہے کہ دنیا میں حلال گوشت کی مانگ تین سو ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔57مسلمان ملکوں کو اچھی علم اور یقین ہے کہ پاکستان مسلمان ملک ہے ۔ اس کی حکومت اور کاروباری شعبہ کو حلال و حرام کا پورا ادراک ہے ، اس لئے پاکستان سے جو حلال گوشت ملے گا، وہ یقینی طور پر حلال ہوگا ۔اس طرح تین سو ارب ڈالر کی حلال مارکیٹ میں سے پاکستان کوخاطر خواہ حصہ حاصل کر سکتا ہے ۔

اس وقت تک زیادہ تر حلال میٹ غیر مسلم ممالک سے پروسیس ہو کر حلال کھانے والوں کومہیا ہو رہا ہے۔ یہ کام پاکستان کی پولٹری انڈسٹری بخوبی سرانجام دے سکتی ہے، لیکن حلال گوشت اور حلال فوڈ کے لئے پراسیسنگ پلانٹ نہ ہونے کی وجہ سے خالص اور با اعتماد اسلامی ملک پاکستان مسلمان ملکوں کی مانگ کے مطابق حلال گوشت فراہم کرنے سے محروم ہے ۔پاکستان کا کاروباری طبقہ ملکی ترقی کے لئے موجودہ حکومت کی جد وجہد اور کاوشوں کا مداح ہے۔ وزیر اعظم پاکستان نے چین سے گرانقدر سرمایہ کاری لانے اور چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبوں کے لئے چینی قیادت کے ساتھ معاہدوں پر دستخط سے پاکستان میں تعمیر و ترقی کا نیا باب کھلا ہے . ہم چاہتے ہیں کہ حکومت پاکستان میں حلال میٹ پراسیسنگ پلانٹ لگانے کا اہتمام کرے تاکہ حلال میٹ کی ایکسپورٹ میں اضافے سے پاکستانی برآمدات میں تشنگی دور ہوسکے،اس کے ساتھ ساتھ موجودہ بجٹ میں زرعی شعبے کے لئے اعلان کردہ مراعات کی طرح پولٹری انڈسٹری پر توجہ مرتکز کی جائے . ڈیوٹیوں اور ٹیکسوں کے بھاری بوجھ سے اسے نجات دلائی اور دیگر پانچ صنعتی سیکٹر کی طر ح اس صنعت کو بھی زیر و ریٹڈ قرار دیا جائے ۔

مزید : کالم