وزیراعظم کی مزاج پُرسی

وزیراعظم کی مزاج پُرسی
وزیراعظم کی مزاج پُرسی

  

گزشتہ ہفتے لندن جانا ہوا۔ برادران عزیز عطاء الحق قاسمی اور ہلالِ احمرپاکستان کے سربراہ ڈاکٹر سعید الٰہی پہلے ہی وہاں تھے، سو ایک سہ ر کنی وفد تشکیل پا گیا، وزیراعظم نواز شریف کی عیادت کے لیے حاضر ہو گئے۔ پاکستان میں بعض دوستوں نے جن میں منصور آفاق جیسے ثقہ دانشور بھی شامل تھے، یہ خبر اُڑا دی کہ ہمیں مشاورت کے لئے لندن طلب کیا گیا ہے۔ اگرچہ کہ مشاورت کے لیے طلبی بھی اعزاز کی بات ہے، کہ مشورہ کرنا ایک مسنون عمل ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کئی مواقع پر اپنے اصحاب سے مشاورت کی، اور معاملات کو مشورے سے چلانے کا حکم بھی دیا، اِس لئے کسی بھی دوست کو اگر ہم جیسوں سے مشورے کی ضرورت بھی لاحق ہو جائے تو چشم ماروشن، دل ماشاد۔۔۔ لیکن ریکارڈ کی درستی کے لیے یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کی خواہش ہماری اپنی تھی، اور ہمارے ہی دِل میں پیداہوئی تھی کہ ان سے کئی عشروں کا تعلق ہے۔ سیاست کے سینے میں دِل ہو یا نہ ہو، صحافت کے سینے میں تو بہرحال ہونا چاہیے، بلکہ یوں کہیے کہ انسانیت کے سینے کو تو اس سے محروم نہیں ہونا چاہئے۔ وزیراعظم نواز شریف ایک بڑے آپریشن سے گزرے، سو ان کی مزاج پُرسی کرنا لازم تھا، اور ان کی بیماری کی تفصیل سے آگاہ ہونا پیشہ ورانہ ذمہ داری بھی ۔ عزیزم حسین نواز کو اطلاع دی تو انہوں نے پہلی فرصت میں ملاقات طے کر دی۔ وزیراعظم حسبِ معمول تپاک اور محبت سے ملے، اُنہیں دِل کے جس آپریشن سے گزرنا پڑا، اس کے اثرات واضح تھے۔ وہ نقاہت محسوس کر رہے تھے، لیکن پورے حوصلے میں تھے۔ دو روز پہلے شہزادہ چارلس ان سے ملنے آئے تھے، اور ان کے لیے اپنے خصوصی باغ میں تیار ہونے والے شہد کی ایک بوتل بھی لائے تھے، شہزادے کا کہنا تھا کہ اس سے ان کی توانائی کی تیزی سے بحالی میں مدد ملے گی۔ کمرۂ ملاقات پھولوں سے بھرا ہوا تھا، ایک بڑے گلدستے کے بارے میں بتایا گیا کہ ایران کے صدر حسن روحانی نے بھجوایا ہے۔ سعودی عرب کے شاہی خاندان کی طرف سے بھی پیغامات آ رہے تھے۔عالمی رہنماؤں سے لے کر عام پاکستانیوں تک سبھی محو دُعا تھے۔

سرجری کی ابتدائی اطلاعات نے پاکستانی سیاست پر بہت خوشگوار اثرات مرتب کیے۔ عمران خان سے لے کر بلاول بھٹو زرداری اور آصف علی زرداری سے لے کر سراج الحق تک سب نے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ محبت اور مروت کی یہ فضا گہری ہوئی تو بعض عناصر مضطرب ہو گئے انہیں خدشہ لاحق ہو گیا کہ بیماری وزیراعظم کو مقبول تر بنا رہی ہے، اور اس سے ان کی سیاسی طاقت میں اضافے کا اہتمام ہو رہا ہے، سو انہوں نے طرح طرح کی افواہیں پھیلانا شروع کر دیں۔ الزامات لگائے جانے لگے کہ سرجری کا ڈرامہ ہمدردیاں بٹورنے کے لیے رچایا گیا ہے۔ یہ احمقانہ پروپیگنڈا اگرچہ اپنی موت آپ مر چکا ہے۔۔۔ اور یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ وزیراعظم ایک بڑے آپریشن سے گزرے ہیں، وہ بھی اِسی طرح گوشت پوست کے انسان ہیں، جس طرح عمران خان، آصف علی زرداری، طاہر القادری یا شیخ رشید۔ اگر عمران خان زخمی ہوسکتے ہیں، طاہر القادری صاحب کا دِل ان کے ہاتھوں سے نکل سکتا ہے اور کمر دوہری ہو ہو جاتی ہے، شیخ رشید صاحب کو عوارض لاحق ہیں، آصف علی زرداری طرح طرح کے امراض میں مبتلا ہو سکتے ہیں تو نواز شریف کے دل کی دھڑکن تیز کیوں نہیں ہو سکتی اور ان کی شریانیں بلاک کیوں نہیں ہو سکتیں،۔۔۔ بہرحال مقامِ شکر ہے کہ نواز شریف مشکل مراحل سے گزر چکے ہیں۔ ملاقات کے دوران، قومی اور بین الاقوامی امور بھی زیر بحث آئے کہ: ذکر جب چھڑ گیا قیامت کا۔۔۔ بات پہنچی تیری جوانی تک۔۔۔ لیکن ان کا تذکرہ پھر کبھی ہو گا، سو باتوں کی ایک بات یہ ہے کہ وزیراعظم تیزی سے بحال ہو رہے ہیں، وہ دھوم دھام سے پاکستان آئیں گے۔ ان کے کھلے اور چھپے حریف نوٹ کر لیں، وہ ان کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ع ہم آ گئے تو گرمئ بازار دیکھنا۔

ڈاکٹر سعید الٰہی کی موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان سے درخواست کی گئی کہ وہ بیماری کی ایک مختصر رپورٹ مرتب کر دیں۔ سو، ان کا یہ ’’جاری کردہ‘‘ ہیلتھ بلیٹن‘‘ بھی ملاحظہ کر لیں:

2011 ء میں میاں محمد نواز شریف صاحب کو دِل کی دھڑکن بے ترتیبATRIAL FIBRILATION ہونے کی شکایت پیدا ہوئی، پرنسز گریسPRINCESS GRACE HOSPITAL ہاسپٹل کے ماہر ڈاکٹرز نے دِل کی دھڑکن کو معمول پر لانے کے لئےCARDIAC ABLATION کا فیصلہ کیا۔ اس عمل کے ذریعے دِل کی دھڑکن کو معمول پر لایا جاتا ہے اور دِل کے بڑھے ہوئےTissues یا Nerves کو مختلف طریقوں سے مثلاً کٹ لگا کر،ریڈیو ویوز، فریزنگ یا جما کر یا مائیکرو ویو یا الٹرا ساؤنڈ کے ذریعے جلا کر کنٹرول کیا جاتا ہے۔ اِسی عمل کے دوران میاں صاحب کے دِل کی ایک شریان پھٹ گئی، جس کے نتیجے میں کافی خون بہہ گیا بالآخر ’’CARDIAC SURGEON‘‘ کو بلایا گیا اور اوپن ہارٹ سرجری کے ذریعے متاثرہ شریان کی مرمت کی گئی، اس کے ساتھ ساتھ Ablationکا مرحلہ بھی مکمل کر لیا گیا اور دل کی دھڑکن معمول پر آ گئی۔

2016ء کے آغاز میں میاں صاحب کو ایک بار پھر اِسی تکلیف کا احساس ہوا، لیکن اس کے باوجود اپنے فرائض منصبی سرانجام دیتے رہے۔ مئی2016ء میں انہوں نے متعدد جلسوں سے خطاب بھی کیا، تکلیف میں اضافہ ہوا تو اپنے سابقہ معالج اور شفا خانے پرنسز گریس ہاسپٹل میں تشریف لے گئے۔ ڈاکٹرز نے انجیو گرافی کی تو معلوم ہوا ، معاملہ سنگین ہے اور دِل کی چار شریانیں بند ہیں، جس پر ڈاکٹرز کی ٹیم نے امریکہ میں امراضِ قلب کے معروف ہسپتال CLEVELAND CLINIC کے ڈاکٹروں سے مشورے کے بعد فوراً اوپن ہارٹ سرجری کا فیصلہ کیا ۔ پرنسز گریس ہسپتال سے میاں صاحب کو ہارلے سٹریٹ میں واقع ہارلے کلینک میں منتقل کیا گیا ،اور دِل کی چار بند شریانوں میں گرافٹ لگائے۔یہ گرافٹ میاں صاحب کی دونوں ٹانگوں اور کندھے سے حاصل کئے گئے تھے۔ اوپن ہارٹ سرجری یا بائی پاس سرجری کو CABG (Coronary Artery Bypass) بھی کہا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں بند شریان کے ساتھ گرافٹ لگا کر دِل کو خون اور آکسیجن کی فراہمی یقینی بنائی جاتی ہے۔ یہ ایک پیچیدہ ، طویل اور تکلیف دہ آپریشن ہے اور آپریشن کے بعد کئی دن تک شدید درد اور ادویات کے منفی اثرات کی وجہ سے مریض نحیف، لاغر اور نیند کی کمی کا شکار رہتا ہے، بھوک میں نمایاں کمی ہو جاتی ہے۔21دن کے بعد مریض نارمل ہونے کی طرف بڑھنے لگتا ہے، میاں صاحب ایک باہمت اور بہادر انسان ہیں۔ انہوں نے آپریشن کے24گھنٹے بعد چلنے کی کوشش کی اور ایک ہفتہ کے بعد باقاعدہ چہل قدمی بھی کی۔ بائی پاس سرجری کے بعد مریض کو کھانے پینے، ورزش، کام کے اوقات کار، آرام اور نیند کے بارے میں بھی خصوصی ہدایات جاری کی جاتی ہیں اور ادویات بھی دی جاتی ہیں۔ امید ہے میاں صاحب جلد وطن واپس آ کر ڈاکٹرز کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے صحت مند زندگی گزاریں گے۔

(یہ کالم روزنامہ ’’ پاکستان‘‘ اور روزنامہ ’’دنیا‘‘ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے)

مزید : کالم