پاکستان کے خلاف افغان سرزمین کا استعمال

پاکستان کے خلاف افغان سرزمین کا استعمال

وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے امورِ خارجہ طارق فاطمی نے کہا ہے کہ بھارت، پاکستان کے خلاف افغان سرزمین استعمال کر رہا ہے اور ہمارے پاس اِس بات کے شواہد بھی موجود ہیں، افغانستان کی معاشی بہتری کے لئے اگر کوئی مُلک افغانستان کی مدد کر رہا ہے تو ہمیں اس سے کوئی مسئلہ نہیں، لیکن اگر کوئی مُلک پاکستان کے خلاف افغان سرزمین استعمال کرتا ہے تو ہمیں حق ہے کہ ہم اس پر آواز بلند کریں۔ انہوں نے پاک افغان تعلقات میں بہتری اور سرحدی کشیدگی کم کرنے کے لئے بارڈر مینجمنٹ پر زور دیا اس سے انسدادِ دہشت گردی میں بھی مدد ملے گی، افغانستان کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ بارڈر مینجمنٹ صرف پاکستان کی حدود کے اندر رہتے ہوئے کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اب30لاکھ افغان مہاجرین کی مزید میزبانی نہیں کر سکتا۔

بھارت کئی برس سے افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا اور اس کے بہت سے شواہد منظر عام پر بھی آ چکے ہیں، کوئٹہ سے بھارتی جاسوس کی گرفتاری اور اس کے بعد افغانستان کے خفیہ ادارے کے افسر کا پکڑا جانا اِس بات کا ثبوت ہے کہ دونوں خفیہ ایجنسیوں کا پاکستان میں تخریب کاری اور دہشت گردی پر تعاون موجود ہے۔ افغانستان کے ایجنٹ نے تو یہ بات تسلیم بھی کی ہے کہ اُسے پاکستان میں دہشت گردی کی منصوبہ بندی کے سلسلے میں ’’را‘‘ کی معاونت حاصل تھی،جہاں تک افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے کا تعلق ہے ، بھارت کے کئی قونصل خانے افغانستان میں یہی کام کرتے ہیں اور تخریب کاروں کو تربیت دے کر چمن کے راستے پاکستان میں داخل کیا جاتا ہے۔یہ مسئلہ کوئی آج پیدا نہیں ہوا۔ بلوچستان میں بھارتی مداخلت کے ثبوتوں کا تذکرہ بہت پہلے بھی ہوتا رہا ہے اور یوسف رضا گیلانی نے اپنے دور میں اس وقت کے بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ کو فراہم بھی کئے تھے،پاکستان میں بھارتی مداخلت کے ثبوتوں پر مشتمل ایک ڈوزئر اقوامِ متحدہ میں بھی پیش کیا گیا تھا اب بھارتی جاسوس کی گرفتاری کے بعد تو اس امر میں کوئی شبہ باقی نہیں رہ گیا کہ بھارت کے عزائم کیا ہیں اور وہ بلوچستان اور کراچی میں کس نوعیت کی کارروائیاں کر رہا ہے، اب اگر طارق فاطمی ثبوتوں کی بات کر رہے ہیں تو ان کو سنبھال کر رکھنے کی بجائے دُنیا اور پاکستانی عوام کے سامنے لایا جائے تاکہ بھارتی عزائم طشت ازبام ہوں اور جن بھارت نواز حلقوں کا خیال ہے کہ ایسا صرف بھارت دشمنی کی وجہ سے پروپیگنڈے کی نیت سے کیا جا رہا ہے ثبوت ملنے کے بعد وہ بھی بھارتی عزائم سے باخبر ہو سکیں گے۔

جہاں تک بارڈر مینجمنٹ کا تعلق ہے اس پر تو افغانستان کا غم و غصہ سمجھ سے بالاتر ہے۔ دُنیا کے تمام ممالک میں آمدورفت سفری دستاویزات پر ہی ہوتی ہے۔ اب تک اگر دونوں ممالک کے درمیان لوگ ان کے بغیر آ جا رہے تھے تو اس کا ایک مخصوص پس منظر تھا، جو اب موجود نہیں رہا، اس غیر دستاویزی آمدو رفت کی وجہ سے پاکستان کو شدید مسائل پیش آ رہے ہیں، افغانستان سے طور خم کے راستے دہشت گرد پاکستان میں داخل ہو رہے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اس بارڈر سے روزانہ تیس چالیس ہزار لوگ پاکستان میں آتے یا افغانستان کا رُخ کرتے ہیں، اب تک اگر یہ سلسلہ بوجوہ بلاروک ٹوک جاری تھا، تو بھی اس کی تائید نہیں کی جا سکتی، بارڈر مینجمنٹ مکنیزم تو بہت پہلے شروع کر دینا چاہئے تھا۔اب تاخیر سے ہی سہی اگر یہ کام شروع ہوا ہے تو پھر اسے منطقی انجام تک پہنچانا بھی ضروری ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ پاکستان جو بھی اقدامات کر رہا ہے اپنی سرزمین کے اندر کر رہا ہے، اِس لئے ان پر سیخ پا ہو کر اشتعال انگیزی کی کارروائیاں کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے اور افغانستان نے اگر کسی تیسرے مُلک کے بہکاوے میں آ کر ہی یہ حرکت کی ہے تو بھی یہ درست طرزِ عمل نہیں ہے۔ اب بھی دونوں ملکوں کو بات چیت کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کرنا چاہئے۔

جہاں تک افغان مہاجرین کا تعلق ہے وہ 35سال سے زائد عرصے سے پاکستان میں ہیں اور اب تک اُن کی تعداد میں کوئی خاص کمی نہیں ہوئی، ان برسوں میں افغانستان کے حالات میں جوہری تبدیلی آ گئی، روسی فوجیں واپس چلی گئیں، خانہ جنگی کے بعد کچھ عرصہ افغانستان میں طالبان کی حکومت رہی، پھر امریکہ نے اپنی فوجیں وہاں داخل کر دیں۔ اب امریکی اہتمام میں اشرف غنی دوسرے صدر ہیں جو کابل کے تخت پر بیٹھے ہیں۔ امریکی اور اتحادی افواج کے دس ہزار سے زائد فوجی اب تک افغانستان میں براجمان ہیں، لیکن مہاجرین واپس جانے پر تیار نہیں ہوتے، جن چند ہزار لوگوں کو کبھی کبھار واپس بھیجا جاتا ہے وہ بھی ایک چکر لگا کر لوٹ آتے ہیں، ایسے محسوس ہوتا ہے کہ یہ مہاجرین اپنے وطن کی نسبت خود کو پاکستان میں زیادہ آسودہ حال محسوس کرتے ہیں۔

پشاور میں ٹرانسپورٹ کا سارا کاروبار افغانوں کے ہاتھوں میں ہے۔ شہر میں جگہ جگہ انہوں نے اپنے کاروبار شروع کر رکھے ہیں، پشاور سے باہر اسلام آباد، لاہور اور کراچی تک بھی اُن کی کاروباری سرگرمیاں دیکھی جا سکتی ہیں۔ اسلام آباد کے بعض پوش علاقوں میں تو افغان گھرانے مقامی لوگوں سے زیادہ بہتر انداز میں زندگی گزار رہے ہیں۔ پاکستان میں جو مہاجرین رجسٹر ہیں اُن کے قیام کی مُدت بھی30جون کوختم ہو رہی ہے۔ افغان حکومت اس میں توسیع چاہتی ہے،مگر سوال یہ ہے کہ سرحدوں کی کشیدہ صورتِ حال میں کیا اب مہاجرین کی موجودگی کو پہلے کی طرح برداشت کیا جاتا رہے گا؟ اب حالات ایسے ہیں کہ اس مسئلے کو اقوام متحدہ کے کمیشن برائے مہاجرین کے تعاون سے مستقل طور پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔ کشیدہ صورت حال میں مہاجرین کی پاکستان کے اندر موجودگی سے مسائل پیدا ہوں گے اور معاشرے پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ یہ خیال درست ہو سکتا ہے کہ یہ مہاجرین زیادہ تر پُرامن رہتے ہیں اور انتظامیہ کے لئے مسائل کھڑے نہیں کرتے، لیکن اِس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ مہاجرین کے پردے میں دہشت گرد بھی پاکستان میں کسی بڑے منصوبے کے تحت داخل کئے جا رہے ہوں۔ ان تمام پہلوؤں کو پیشِ نظر رکھ کر اب افغان مہاجرین کے مسئلے کو مستقل بنیادوں پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔

مزید : اداریہ