20سال سے تعمیرو مرمت نہ ہوئی،ریلوے کوارٹرز بوسیدہ،چھتیں ٹپکنا معمول بن گئیں

20سال سے تعمیرو مرمت نہ ہوئی،ریلوے کوارٹرز بوسیدہ،چھتیں ٹپکنا معمول بن گئیں

ملتان (جنرل رپورٹر) ریلوے کالونیوں کی گزشتہ 20سال سے تعمیرو مرمت کے نام پر افسران نے کروڑوں روپے کے فنڈز دفتری فائلوں میں لگادیئے ہیں جبکہ حکام بالا کو ’’سب اوکے‘‘ کی رپورٹ کررہے ہیں اور ریلوے ملازمین کی ماہانہ تنخواہوں سے گزشتہ کئی برسوں سے کوارٹروں کی تعمیرو مرمت کے (بقیہ نمبر17صفحہ7پر )

نام پر ہونیوالی 5فیصد کٹوتی تاحال جاری ہے۔ کوارٹروں کی تعمیرو مرمت نہ ہونے سے ریلوے کالونیوں میں موجود کوارٹرز اپنی مدمت معیاد سے بھی زائد استعمال ہوچکنے کی وجہ سے بارشوں کے دنوں میں چھتوں کا کئی روز ٹپکتے رہنا معمول بن چکا ہے۔ روزنامہ ’’پاکستان‘‘ کی جانب سے گزشتہ روز ہونیوالے سروے میں لوکو کالونی کے بلاک 39 اور 78 کے کوارٹروں کو روڈ سے 1فٹ گہرا پایا گیا جہاں سیوریج سسٹم ناکارہ ہے اور بارش کے دنوں میں روڈ سے 1فٹ گہرے کوارٹروں میں پانی کھڑا رہتا ہے جس کو نکالنے میں مکینوں کو شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سیوریج سسٹم خراب ہونیکی وجہ سے کوارٹروں میں جمع ہونیوالے پانی سے کوارٹروں کی بوسیدہ دیواروں کے گرنے اور موذی امراض پھیلنے کا خدشہ ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ 20، بیس سال سے رہائش پذیر ریلوے ملازمین اب ریلوے انتظامیہ کو تحریری شکایات کرکر کے تھک چکے ہیں اور انکا کہنا تھاکہ افسران کی مٹھی گرم کرنے پر فوری طور پر شکایت دور کردی جاتی ہیں اور جو نہ کرے وہ سالہا سال انتظامیہ کی نظر کرم کا منتظر رہتا ہے۔ اسی طرح خستہ حال کوارٹروں کی چھتوں کا گرنا معمول بن چکا ہیں۔ واضح رہے کہ یکم جون 2016ء کو بلاک نمبر39 کے کوارٹر A کے چھت گرنے سے لوکو شیڈ کے خانسامہ سلیم مغل کا 12سالہ بیٹا حمزہ ولد سلیم مغل شدید زخمی جبکہ 6ماہ کی بچی معجزاتی طور پر بچی تھی۔ ذرائع کے مطابق ریلوے کالونیوں میں ایسے متعدد واقعات رونماء ہوچکے ہیں مگر ریلوے انتظامیہ ٹس سے مس نہیں ہورہی۔ مذکورہ معاملے بارے ریلوے انتظامیہ سے رابطہ کیا گیا مگر ریلوے انتظامیہ کی جانب سے کوئی خاطر خواہ جواب نہ ملا جس کیخلاف بھرپور احتجاج کرتے ہوئے ریلوے ملازمین نے کوارٹروں کی فی الفور مرمت اور تنخواہوں میں سے ماہانہ ہونیوالی 5فیصد کٹوتی کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر