بلوچستان حکومت نے 36ارب روپے خسارے کا بجٹ پیش کردیا ،امن و امان کے لیے 30ارب روپے مختص

بلوچستان حکومت نے 36ارب روپے خسارے کا بجٹ پیش کردیا ،امن و امان کے لیے 30ارب ...
بلوچستان حکومت نے 36ارب روپے خسارے کا بجٹ پیش کردیا ،امن و امان کے لیے 30ارب روپے مختص

  

کوئٹہ(مانیٹرنگ ڈیسک)بلوچستان حکومت نے 36ارب روپے خسارے کا بجٹ پیش کردیا جس میں صوبائی ملازمین کی تنخواہوں میں 10فیصد اضافہ،تعلیم کے لیے چالیس ارب ،صحت کے لیے 18ارب جبکہ امن و امان کے لیے 30ار ب روپے مختص کیے گئے ہیں ۔ بلوچستان اسمبلی کا اجلاس سپیکر راحیلہ درانی کی صدارت میں منعقد ہواجس میں وزیراعلی بلوچستان نے آئندہ مالی سال 2016-17 کا بجٹ اسمبلی میں پیش کیا۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ کا کل حجم 2 کھرب 89 ارب روپے، ترقیاتی پروگراموں کے لئے 71 ارب 18 کروڑ روپے سے زائد جبکہ غیر ترقیاتی اخراجات کے لئے 218 ارب رکھے گئے ہیں۔ وفاقی محصولات میں قابل تقسیم محاصل سے ایک کھرب 82 ارب 60 کروڑ جبکہ براہ راست منتقلی کی مد میں 14 ارب 23 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔ بجٹ اجلاس کے دوران ایوان سے خطاب کرتے ہوئے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں تعلیم، امن وامان کے قیام، صحت اور پینے کے پانی کی فراہمی ترجیحات میں شامل ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے بجٹ تقریر میں کہا کہ صوبے کی کل آمدن کا تخمینہ 2 کھرب 52 ارب 87 کروڑ روپے سے زائد ہے۔ تعلیم کے شعبہ کے لئے 40 ارب، امن وامان کے لئے 30 ارب، صحت کے لئے 18 رکھے گئے ہیں۔ صوبے میں 3 ہزار سے نئی زائد نئی ملازمتیں فراہم کی جائیں گی۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پینشنز میں 10 فیصد اضافہ جبکہ مزدوروں کی کم ازکم اجرت 14 ہزار روپے ہوگی۔ غیر ترقیاتی بجٹ میں 30 ارب روپے سے زائد جاری منصوبوں کے لئے رکھے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ شہر کے لئے پٹ فیڈر کنال سے پینے کا پانی فراہم کرنے کے لئے 40 ارب روپے مختص کرنے کا فیصلہ ہوا ہے جن میں 10 رب روپے آنے والے مالی سال میں فراہم کئے گئے جائیں گے۔ کوئٹہ کو خوبصورت بنانے کے لئے 5 ارب، چین حکومت کے تعاون سے ماس ٹرانزٹ ٹرین چلانے کے لئے 2 ارب اور گرین بس پروجکیٹ کے لئے 1 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ تمام ڈویڑنل ہیڈ کوارٹرز اور بشمول گوادر شہر کی اپ گریڈیشن کے لئے 3 ارب فراہم کئے جانے کا اعلان کیا گیا ہے۔

مزید : کوئٹہ /اہم خبریں