وزیراعظم کو دراصل بیماری کیا ہے؟کس ہسپتال میں اور کیا آپریشن کیا گیا؟تمام تفصیلات پہلی مرتبہ منظر عام پر‎

وزیراعظم کو دراصل بیماری کیا ہے؟کس ہسپتال میں اور کیا آپریشن کیا گیا؟تمام ...
وزیراعظم کو دراصل بیماری کیا ہے؟کس ہسپتال میں اور کیا آپریشن کیا گیا؟تمام تفصیلات پہلی مرتبہ منظر عام پر‎

  

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر صحافی و معروف تجزیہ نگار مجیب الرحمان شامی نے کہاہے کہ وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات کے موقع پر انہوں نے ہلالِ احمرپاکستان کے سربراہ ڈاکٹر سعید الٰہی سے درخواست کی کہ وہ وزیراعظم نوازشریف کی بیماری کے بارے میں ایک مختصر رپورٹ مرتب کریں، جس پر ڈاکٹر سعید الہیٰ نے ایک ’’ہیلتھ بلیٹن‘‘تحریر کیا ہے۔

سینئر صحافی مجیب الرحمان شامی نے اپنے کالم میں ڈاکٹر سعید الہیٰ  کے جاری کئے گئے ہیلتھ بلیٹن کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے:’’ 2011 ءمیں میاں محمد نواز شریف صاحب کو دِل کی دھڑکن بے ترتیبATRIAL FIBRILATION ہونے کی شکایت پیدا ہوئی، پرنسز گریسPRINCESS GRACE HOSPITAL ہسپتال کے ماہر ڈاکٹرز نے دِل کی دھڑکن کو معمول پر لانے کے لئےCARDIAC ABLATION کا فیصلہ کیا۔ اس عمل کے ذریعے دِل کی دھڑکن کو معمول پر لایا جاتا ہے اور دِل کے بڑھے ہوئےTissues یا Nerves کو مختلف طریقوں سے مثلاً کٹ لگا کر،ریڈیو ویوز، فریزنگ یا جما کر یا مائیکرو ویو یا الٹرا ساو¿نڈ کے ذریعے جلا کر کنٹرول کیا جاتا ہے۔ اِسی عمل کے دوران میاں صاحب کے دِل کی ایک شریان پھٹ گئی، جس کے نتیجے میں کافی خون بہہ گیا بالآخر ”CARDIAC SURGEON“ کو بلایا گیا اور اوپن ہارٹ سرجری کے ذریعے متاثرہ شریان کی مرمت کی گئی، اس کے ساتھ ساتھ Ablationکا مرحلہ بھی مکمل کر لیا گیا اور دل کی دھڑکن معمول پر آ گئی۔

2016ءکے آغاز میں میاں صاحب کو ایک بار پھر اِسی تکلیف کا احساس ہوا، لیکن اس کے باوجود اپنے فرائض منصبی سرانجام دیتے رہے۔ مئی2016ءمیں انہوں نے متعدد جلسوں سے خطاب بھی کیا، تکلیف میں اضافہ ہوا تو اپنے سابقہ معالج اور شفا خانے پرنسز گریس ہسپتال میں تشریف لے گئے۔ ڈاکٹرز نے انجیو گرافی کی تو معلوم ہوا ، معاملہ سنگین ہے اور دِل کی چار شریانیں بند ہیں، جس پر ڈاکٹرز کی ٹیم نے امریکہ میں امراضِ قلب کے معروف ہسپتال CLEVELAND CLINIC کے ڈاکٹروں سے مشورے کے بعد فوراً اوپن ہارٹ سرجری کا فیصلہ کیا۔

پرنسز گریس ہسپتال سے میاں صاحب کو ہارلے سٹریٹ میں واقع ہارلے کلینک میں منتقل کیا گیا ،اور دِل کی چار بند شریانوں میں گرافٹ لگائے۔یہ گرافٹ میاں صاحب کی دونوں ٹانگوں اور کندھے سے حاصل کئے گئے تھے۔ اوپن ہارٹ سرجری یا بائی پاس سرجری کو CABG (Coronary Artery Bypass) بھی کہا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں بند شریان کے ساتھ گرافٹ لگا کر دِل کو خون اور آکسیجن کی فراہمی یقینی بنائی جاتی ہے۔ یہ ایک پیچیدہ ، طویل اور تکلیف دہ آپریشن ہے اور آپریشن کے بعد کئی دن تک شدید درد اور ادویات کے منفی اثرات کی وجہ سے مریض نحیف، لاغر اور نیند کی کمی کا شکار رہتا ہے، بھوک میں نمایاں کمی ہو جاتی ہے۔21دن کے بعد مریض نارمل ہونے کی طرف بڑھنے لگتا ہے، میاں صاحب ایک باہمت اور بہادر انسان ہیں۔ انہوں نے آپریشن کے24گھنٹے بعد چلنے کی کوشش کی اور ایک ہفتہ کے بعد باقاعدہ چہل قدمی بھی کی۔ بائی پاس سرجری کے بعد مریض کو کھانے پینے، ورزش، کام کے اوقات کار، آرام اور نیند کے بارے میں بھی خصوصی ہدایات جاری کی جاتی ہیں اور ادویات بھی دی جاتی ہیں۔ امید ہے میاں صاحب جلد وطن واپس آ کر ڈاکٹرز کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے صحت مند زندگی گزاریں گے۔

مزید : قومی