دہشتگردوں کا اگلا نشانہ کون سا ہو گا ؟اب وقت سے پہلے علم ہو جائے گا

دہشتگردوں کا اگلا نشانہ کون سا ہو گا ؟اب وقت سے پہلے علم ہو جائے گا
دہشتگردوں کا اگلا نشانہ کون سا ہو گا ؟اب وقت سے پہلے علم ہو جائے گا

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) شام و عراق میں برسرپیکار شدت پسند تنظیم داعش کی طرف سے مغربی ممالک کو اکثر حملے کی دھمکیاں ملتی رہتی ہیں۔ شدت پسندوں کے ان حملوں سے نمٹنا اس لیے بھی مشکل ہوتا ہے کیونکہ یہ بالکل اچانک ہوتے ہیں اور ان کی حتمی پیشگی اطلاع نہیں مل پاتی۔ اب امریکی سائنسدانوں نے لوگرتھم کا ایک ایسا قانون دریافت کر لیا ہے جس کے ذریعے انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ مستقبل میں داعش کے ممکنہ حملوں کے متعلق حتمی پیش گوئی کر سکتے ہیں۔ اردن کی نیوز ویب سائٹ ”البوابہ“ کی رپورٹ کے مطابق لوگرتھم کا یہ قانون امریکی ریاست فلوریڈا کی میامی یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ وہ شدت پسندوں کے سوشل میڈیا اکاﺅنٹس کے ڈیٹا کا لوگرتھم کے قوانین کے تحت تجزیہ کرکے دہشت گردی کی واردات کی منصوبہ بندی کرنے والے شدت پسندوں تک پہنچ سکتے ہیں۔

لوگرتھم کا یہ قانون فی الحال شدت پسندوں کی انفرادی مانیٹرنگ کی بجائے ان کے گروپوں پر نظر رکھنے کا کام کر سکتا ہے تاہم سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ وہ جلد اسے اتنی ترقی دے دیں گے کہ ان کے ذریعے امریکی شہر اورلینڈو جیسے کسی انفرادی شخص کے حملے کی حتمی پیش گوئی کرنا بھی ممکن ہو جائے گا۔ رپورٹ کے مطابق سائنسدانوں نے داعش سے منسلک 200سے زائد آن لائن گروپوں کو مانیٹر کیا۔ اس دوران انہیں معلوم ہوا کہ یہ گروپ پھلنے پھولنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، انہیں اگر ایک بار ختم کر دیا جائے تو یہ دوبارہ مجتمع ہو جاتے ہیں اور اورلینڈو میں حملہ کرنے والے شخص عمر متین جیسے لوگوں کو پرتشدد کارروائیوں کی طرف راغب کرتے ہیں جن کا ماضی میں شدت پسندی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

مزید : بین الاقوامی