قدرت کا انوکھا انتقام،جس حال میں بھارت پاکستان کو پھنسانا چاہتاتھاخودہی پھنس گیا

قدرت کا انوکھا انتقام،جس حال میں بھارت پاکستان کو پھنسانا چاہتاتھاخودہی ...
قدرت کا انوکھا انتقام،جس حال میں بھارت پاکستان کو پھنسانا چاہتاتھاخودہی پھنس گیا

  

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان کے حصے کے پانی پر بھی قابض ہونے اور پاکستانی دریاﺅں کو خشک کردینے کے باوجود بھارت میں پانی کا بحران سنگین ترین ہوتا جا رہا ہے اور اب کئی بھارتی ریاستوں میں پینے کے پانی کا بھی شدید بحران پیدا ہو گیا ہے۔ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق بھارتی ادارے سنٹرل واٹر کمیشن کے اعدادوشمار میں بتایا گیا ہے کہ بھارت کے 91بڑے پانی کے ذخائر میں خالی ہونے کے قریب پہنچ چکے ہیں اور اس وقت ان میں کل گنجائش کے صرف 15فیصد تک پانی موجود ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ بھارت میں مون سون کی بارشوں کا فی الحال دور دور تک کچھ پتا نہیں، جس سے بحران مزید سنگین ہونے کا قوی خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق بھارت کے 91بڑے پانی کے ذخائر میں صرف 23.786ارب کیوبک میٹر پانی رہ جانے کا مطلب ہے کہ بھارت کو آئندہ دو سال تک شدید خشک سالی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

بھارت میں پانی کا بحران پیدا ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ملک میں 2014ءاور 2015ءمیںمون سون کی بارشوں میں 12سے 14فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے اور رواں سال بھی ان میں کمی کی توقع کی جا رہی ہے۔ ماہرین کی حالیہ رپورٹ کے مطابق عالمی درجہ حرارت بڑھنے کے باعث 2020ءسے 2049ءکے درمیان بھارت میں خشک سالی کی صورتحال تیزی سے سنگین ترین ہوتی جائے گی۔ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق کئی بھارتی ریاستوں میں پینے کے پانی کی اس قدر قلت پیدا ہو چکی ہے کہ حکومت کو اس سلسلے میں انتہائی اقدامات اٹھانے پڑ رہے ہیں۔ حکومت نے پانی کے ذخائر پر مسلح سکیورٹی گارڈز تعینات کر دیئے ہیں اور پانی کی قلت کا شکار علاقوں میں پانی کی ٹرینیں روانہ کی جا رہی ہیں۔ اس صورتحال سے جنوبی بھارت کی ریاستیں بالخصوص متاثر ہو رہی ہیں۔

مزید : بین الاقوامی