کیا خواتین اپنے ایام مخصوصہ کی وجہ سےچھوٹنے والے روزے رمضان المبارک کے شروع ہونے سے پہلے ہی رکھ سکتی ہیں؟عرب ملک کے گرینڈ مفتی نے پیشگی روزوں کے مسئلے پر تفصیلی روشنی ڈال دی

کیا خواتین اپنے ایام مخصوصہ کی وجہ سےچھوٹنے والے روزے رمضان المبارک کے شروع ...
کیا خواتین اپنے ایام مخصوصہ کی وجہ سےچھوٹنے والے روزے رمضان المبارک کے شروع ہونے سے پہلے ہی رکھ سکتی ہیں؟عرب ملک کے گرینڈ مفتی نے پیشگی روزوں کے مسئلے پر تفصیلی روشنی ڈال دی

  

دبئی (مانیٹرنگ ڈیسک) رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ جاری ہے جس میں مسلمانوں کو روزے کے حوالے سے کئی شرعی مسائل کا سامنا کرناپڑتا ہے اور وہ اپنے سوالات کے جوابات کے لیے کسی مستند شخص کے متلاشی ہوتے ہیں۔دبئی کے ادارے اسلامک افیئرز اینڈ چیئرٹیبل ایکٹیویٹیز ڈیپارٹمنٹ کے مفتی اعظم ڈاکٹر علی احمد مشائل نے ایسے ہی ایک سوال کا جواب دیاہے جو ذیل میں آپ کی رہنمائی کے لیے بیان کیا جارہاہے۔

سوال: کیا خواتین اپنے ایام مخصوصہ کی وجہ سے چھوٹنے والے روزے رمضان المبارک شروع ہونے سے پہلے ہی رکھ سکتی ہیں؟عرب ملک کے گرینڈ مفتی نے پیشگی روزوں کے مسئلے پر تفصیلی روشنی ڈال دی

جواب: خواتین ایام مخصوصہ کے باعث رہ جانے والے روزے پیشگی نہیں رکھ سکتیں کیونکہ قضاءکے روزہ اس روزے کے لیے ہوتا ہے جو کسی شخص نے ایک مخصوص دن میں ترک کیا ہو۔ چونکہ خواتین کو پیشگی یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ان کے ایام مخصوصہ رمضان المبارک کے کن دنوں میں آئیں گے اس لیے غیرمعینہ دن کے روزے کی قضاءپیشگی نہیں دی جا سکتی۔ تمام فرض عبادات نماز، روزہ، زکوٰة اور حج کا ایک مخصوص وقت ہوتا ہے اور یہ اسی مخصوص وقت پر ادا کی جانی چاہئیں۔

مزید : Ramadan News