اتحاد بین المسلمین اور گرینڈ الائنس کی باتیں

اتحاد بین المسلمین اور گرینڈ الائنس کی باتیں
 اتحاد بین المسلمین اور گرینڈ الائنس کی باتیں

  



رمضان المبارک کے دوسرے اور تیسرے عشرے میں افطار پارٹیوں کی تعداد میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ کچھ افطاریاں خالصتاً ’’تقریب کچھ تو بہر ملاقات چاہئے‘‘ کے حوالے سے دی جاتی ہیں۔ افطار ڈنر کا اہتمام ’’دو آتشہ‘‘ اس لئے بھی ہو جاتا ہے کہ دعوت افطار کا اہتمام کرنے والے جہاں اپنے سماجی، سیاسی اور کاروباری مقاصد کے حصول کو پیش نظر رکھتے ہیں، وہاں نیت یہ بھی ہوتی ہے کہ روزہ کھلوانے کا ثواب بھی حاصل کر لیا جائے۔ اسی ہفتے ایک مدت بعد ایسی افطار پارٹی میں شرکت کا موقع ملا، جو تمام مکاتب فکر کو اکٹھا کر کے اتحاد بین المسلمین کو مضبوط کرنے کے لئے دی گئی تھی۔ افطار پارٹی کا اہتمام معروف سیاسی اور دینی رہنما میاں مقصود احمد کی طرف سے کیا گیا تھا۔ میاں مقصود احمد جماعت اسلامی پنجاب کے امیر ہیں، انہوں نے یہ سوچ کر افطار پارٹی کو مختلف رنگ دیا کہ حالات نے تمام لوگوں کو اپنے اپنے مسائل اور اہداف کی وجہ سے مسلم اتحاد سے دور کر دیا ہے۔ ایک دَور وہ بھی تھا کہ حیلوں، بہانوں سے اتحاد بین المسلمین کو فروغ دینے کے لئے بار بار خصوصی محفلوں اور تقریبات کا اہتمام کیا جاتا تھا، تمام مکاتب فکر کے لوگ شامل ہوتے اور یہ عہد کیا جاتا تھا کہ اختلافات کو کم کرتے ہوئے باہمی محبت اور اخوت کا ثبوت دیا جائے گا۔ میاں مقصود احمد نے سوچا کہ افطار پارٹی میں شیعہ اور سنی جماعتوں اور تنظیموں کے رہنماؤں کو مدعو کر کے اتحاد اور یگانگت کو فروغ دیا جائے۔ اسی مقصد کے تحت انہوں نے تمام اہم شخصیات کو اکٹھا کیا۔ محترم لیاقت بلوچ مہمانِ خصوصی کے طور پر موجود تھے۔ جب نماز مغرب ادا ہوئی تو لیاقت بلوچ سیکرٹری جنرل کی بجائے قائم مقام امیر جماعت ہو چکے تھے کیونکہ سراج الحق عمرہ کی ادائیگی کے لئے سعودی عرب روانہ ہو گئے تھے۔ اظہار خیال کرتے ہوئے سبھی لوگوں نے باہمی اتحاد، یگانگت اور اخوت پر زور دیا کہ اختلافات کو دور کرتے ہوئے اسلامی بھائی چارے کو فروغ دیا جائے۔ افطار پارٹی میں اہم شخصیات میں مفتی اشفاق الرحمان، مفتی عمیر الدین، علامہ زبیر احمد ظہیر، سید ضیاء اللہ شاہ بخاری، عبدالوحید روپڑی اور سید حسن باری گیلانی نمایاں تھے۔ افطاری کے بعد سب نے ایک ہی امام کے پیچھے نماز مغرب ادا کی۔ جسے سبھی نے سراہا۔

افطار پارٹیوں کا شور اپنی جگہ۔۔۔ سیاست کا ماحول کافی گرم ہے۔ دیگر معاملات ایک طرف، وزیر اعظم نواز شریف، سپریم کورٹ کی تشکیل کردہ پانامہ کیس کی تفتیش کرنے والی جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے تو ہلچل مچ گئی۔ مسلم لیگ (ن) کی طرف سے کہا گیا کہ میاں نوازشریف نے نئی تاریخ رقم کی ہے جس پر آنے والی نسلیں بھی فخر کریں گی۔یہ بھی کہا گیا کہ وزیر اعظم نواز شریف سینہ تان کر تفتیش کے لئے گئے اور فخر سے سر اونچا کر کے واپس آئے۔ اُدھر اپوزیشن حلقوں کا اپنا ہی موقف سامنے آیا کہ دیکھا ہمارا، کمال۔۔۔ آخر کار ہم نے وزیر اعظم نوازشریف کو مجبور کر دیا کہ وہ گریڈ اٹھارہ اور انیس کے افسروں کے سامنے تفتیش کے لئے پیش ہوں۔ یہ موقف پیش کرنے والوں میں پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید پیش پیش ہیں۔ شیخ رشید لاہور میں عوامی تحریک کے قائد ڈاکٹر طاہر القادری کے افطار ڈنر میں بطور خاص شریک ہوئے۔اسی روز وزیراعظم نواز شریف نے جے آئی ٹی ارکان کے سامنے پیش ہو کر نئی تاریخ رقم کی۔ افطار پارٹی کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ دیکھ لیجئے۔۔۔ شیخ رشید کو تو آج اسلام آباد میں ہونا چاہئے تھا لیکن ہماری محبت میں شیخ صاحب لاہور میں ہمارے ساتھ موجود ہیں۔

ڈاکٹر طاہر القادری ہر سال رمضان المبارک کے دوسرے ہفتے میں کینیڈا سے وطن آتے ہیں۔ تحریک منہاج القرآن کے سالانہ اعتکاف پروگرام میں شرکت کرتے ہیں ۔ جس میں ہزاروں لوگ شریک ہوتے ہیں عید کے بعد ڈاکٹر صاحب واپس چلے جاتے ہیں۔ ان کے مخالفین ان کی آمد پر یہ کہہ کر دل کا غبار نکالتے ہیں کہ کینیڈا والے بابا جی چندہ جمع کرنے کے لئے آئے ہیں۔ عید کے بعد نذر، نذرانے لے کر واپس چلے جائیں گے۔ اس مرتبہ ایسا نہیں ہوگا کیونکہ اس مرتبہ تو شہداء ماڈل ٹاؤن کی تیسری برسی پر ان کا لاہور میں موجود ہونا ویسے بھی بنتا تھا۔ڈاکٹر صاحب نے واضح کر دیا کہ وہ فوراً واپس نہیں جائیں گے۔ بتایا گیا کہ وہ سیاسی اور دینی جماعتوں (حکومت مخالف) کا اتحاد بنانا چاہتے ہیں۔افطار پارٹی میں چونکہ مختلف جماعتوں کے رہنمایان کرام کو بلایا گیا تھا۔ اس لئے شیخ رشید، لیاقت بلوچ، چودھری محمد سرور، منظور احمد وٹو، رضا ہارون (پاک سر زمین پارٹی والے) اور دیگر مہمانوں کو مختصر اظہار خیال کا موقع بھی دیا گیا۔ لیاقت بلوچ نے کہہ دیا کہ عید کے بعد گرینڈ الائنس بنانے پر بھی توجہ دی جائے۔یہ سنتے ہی شیخ رشید تو پھڑک اٹھے۔ انہوں نے اس ایشو کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے ڈاکٹر طاہر القادری سے درخواست کی کہ وہ عید کے فوراً بعد یہ ’’نیک کام‘‘ بھی کریں۔ اس پر ڈاکٹر طاہر القادری نے حامی بھری، لیکن یہ بھی واضح کر دیا کہ یہ کام اتنا آسان بھی نہیں ہے۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ وہ تنہا موجودہ حکمرانوں کو گرا دے گا تو وہ خوش فہمی میں مبتلا نہ ہو۔ ہمارے مد مقابل موجودہ حکمران بڑی مضبوطی سے اقتدار پر مسلط ہیں، انہیں اتارنے کے لئے ہم سب کو متحد ہونا پڑے گا۔سخت جدوجہد کی ضرورت ہو گی۔

ڈاکٹر طاہر القادری نے حقیقت بیان کر دی۔ ان حالات میں گرینڈ الائنس بھرپور انداز میں بنتا ہوا دکھائی نہیں دیتا۔ مرحوم و مغفور نوابزادہ نصراللہ خان کا کمال تھا کہ وہ سخت مخالفین اور خود کو بڑا لیڈر سمجھنے والوں کو اکٹھا کر کے زمینی حقائق سے آگاہ کر دیا کرتے تھے اور پھر ایسا فارمولا منوا لیتے کہ سبھی لوگ الائنس کے لئے رضا مند ہو جاتے تھے ۔ اب نوابزادہ نصراللہ خاں کی قیادت اور مشاورت تو میسر نہیں۔ عمران خان خود کو نوازشریف کا متبادل سمجھتے ہیں تو آصف زرداری خم ٹھونک کر سامنے آ جاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگلے الیکشن میں جادوئی عمل سے وہ پنجاب دوبارہ حاصل کر کے پورے ملک پر حکمرانی کرنے والے ہیں۔ حد یہ ہے کہ چھوٹی چھوٹی جماعتیں بھی اتحاد میں شامل ہونے کے لئے اہم عہدے دینے کی شرط پیش کر رہی ہیں۔ ان حالات میں گرینڈ الائنس ممکن نہیں، اس مقصد کے لئے ڈاکٹر طاہر القادری لاکھ کوشش کر لیں، ’’لیڈر حضراأ قابو میں آنے والے نہیں۔ اگر کوئی گرینڈ الائنس تشکیل دیا گیا تو وہ ایسا ڈھیلا ڈھالا اور غیر موثر ’’الائنس‘‘ ہوگا جو اپنے مقاصد حاصل نہیں کر پائے گا لہٰذا ڈاکٹر طاہر القادری کو پہلے اچھی طرح ’’ہوم ورک‘‘ کرنے کے بعد گرینڈ الائنس کا کھیل کھیلنا چاہئے۔ ایسا نہ ہو، اپنے تمام داؤ پیج آزمانے کے بعد انہیں چاہنے والوں کے طعنے سننے پڑیں کہ بھاری پتھر کو چوم کر چھوڑنے پر ایسا ہی ہوا کرتا ہے۔۔۔ جہاں تک افطار ڈنر میں بدنظمی کی شکایت ہے تو سچی بات ہے ڈاکٹر طاہر القادری کے پیرو کار کہیں دکھائی نہیں دیئے،دھکم پیل اور افراتفری کرنے والے کسی اور ہی جماعت کے لوگ لگتے تھے، جو اپنا کلچر لئے ہوئے تھے۔ یار لوگ کہتے ہیں، خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے دھرنے کے دوران اپنے کارکنوں کو ’’کزن‘‘ کے کارکنوں سے دور نہیں رکھا تھا ۔اب اس کے اثرات بھی برداشت کریں انہوں نے ایسے کئی کمالات سیکھے ہیں۔ آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا! اونٹ والوں سے دوستی کی جائے تو گھر کے دروازے بھی اُ ونچے بناناپڑتے ہیں۔

مزید : کالم