عوام کو اپنے فیصلے خود کرنے ہیں

عوام کو اپنے فیصلے خود کرنے ہیں
عوام کو اپنے فیصلے خود کرنے ہیں

  

پاکستان میں ایک طرح سے یہ چوتھے مسلسل عام انتخابات ہیں گو کہ 2002ء کے انتخابات ایک مذاق ہی تھے، تاہم ریکارڈ میں تو آتے ہیں۔ اور تین اسمبلیوں کی مسلسل مدت پوری کرنا جمہوریت کی مضبوطی کی علامت ہے۔

تو کیا اب ہم جمہوری طور پر بہت مضبوط ہو گئے ہیں؟ کیا اب سارے قومی فیصلے عوام کی رائے کے زیر اثر ہوتے ہیں؟ دوسرے لفظوں میں کیا عوام کو مکمل اختیارات مل گئے ہیں اور ان کی رائے کا احترام کیا جانے لگا ہے؟

میرے خیال میں ان تمام سوالات کے جوابات نفی ہی میں ہیں۔ چونکہ میں اپنا کالم تعمیری سوچ کے ساتھ لکھتا ہوں تو میں یہ سمجھتا ہوں کہ مسلسل چار عام انتخابات ہونا اور وہ بھی جماعتی بنیادوں پر ایک مثبت تبدیلی ہے۔ اسی دوران اٹھارویں آئینی ترمیم کے ذریعے صوبوں کو ان کے اختیارات تفویض کیا جانا، مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس اور مردم شماری مثبت اقدامات ہیں ۔

لیکن جس چیز کی کمی شدت سے محسوس ہو رہی ہے وہ جمہوری نظام کی ہے۔ یعنی حقیقی جمہوریت، حقیقی جمہوریت میں سیاسی جماعتیں کسی نظریے کی بنیاد پر انتخابات کے مقابلے میں اترتی ہیں اور عوام بھی شخصیات کی تقلید کی بجائے نظریے کی بنیاد پر اپنے حق رائے کا استعمال کرتے ہیں۔ حقیقی جمہوریت میں سیاسی جماعتیں شخصیات کی مرہون منت ہوتی ہیں نہ اس بنیاد پر جماعتی ٹکٹوں کی تقسیم کرتی ہیں۔

حقیقی جمہوریت میں سیاسی جماعتوں میں باقاعدگی سے جماعتی انتخابات کے ذریعے جماعتی قیادت سامنے لائی جاتی ہے۔ حقیقی جمہوریت میں کسی امیدوار کو پیسے کا بے دریغ استعمال کرنا پڑتا ہے نہ برادری اور رشتہ داری کی بنیاد پر ووٹ مانگنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ حقیقی جمہوریت میں تو نگران حکومتوں کی بھی کوئی ضرورت نہیں ہوتی ۔

اب سوال یہ ہے کہ حقیقی جمہوریت آئے کیسے؟

اس کے لیے قوانین اور آئین میں بڑی تبدیلیوں کی ضرورت بھی ہے مگر یہ تبدیلیاں تب ہی ہوں گی جب ہم ان تبدیلیوں کی مسند پر حقیقی جمہوریت کے نمائندوں کو بٹھائیں گے اور یہ کام کرنے کا موقع ہے اب۔

آپ میں سے کتنے ہیں جو اپنا ووٹ اپنی قومی ذمہ داری سمجھ کر کاسٹ کرنے پولنگ اسٹیشن پہنچتے ہیں اور گھنٹوں انتظار کر کے اپنے ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیتے ہیں، آپ میں سے کتنے ہیں جو صرف قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے کسی ایسی جماعت یا امیدوار کو ووٹ دیتے ہیں جو آپ کے خیال سے ملکی مفاد میں سب سے اچھا پروگرام رکھتے ہیں؟

اگر آپ اس وقت تک انتخابات میں متحرک نہ ہوں جب تک کسی جماعت کا امیدوار یا کوئی نمائندہ آپ کو مجبور نہ کر دے، ( لالچ دے کر، برادری کا واسطہ دے کر یا کوئی خوف دلا کر) تو پھر آپ یہ کیسے امید رکھ سکتے ہیں کہ ملک میں حقیقی جمہوریت آئے گی اور تمام فیصلے عوام کی مرضی سے ہوں گے؟

یہ مانا کہ پاکستان کی سب سے بڑی بدقسمتی یہ رہی ہے کہ ہمیں جمہوری ذہن کی حامل درست قیادت میسر نہیں آسکی، مگر عوام کو بھی تو ذمہ داری لینی چاہیے نا اگر ہم اپنے وقتی اور گھٹیا مفاد کی خاطر ووٹ کا استعمال کریں گے تو پھر یہ امید کیونکر رکھی جا سکتی ہے کہ ہماری رائے سے قومی فیصلے ہوں گے اور ایوانوں میں جمہور کی آواز گونجے گی؟ اگر ہم ذات ، برادری یا علاقائی تعصب کے زیر اثر اپنے ووٹ کا حق استعمال کریں گے تو پھر کیونکر ملک میں ایک قومی قیادت برسراقتدار آسکے گی؟

آج پاکستان میں ایک قومی اسمبلی کے حلقے کا الیکشن لڑنے کے خرچے کا اندازہ پچیس کروڑ سے ایک ارب روپیہ لگایا جا رہا ہے۔ یہ پیسہ کہاں اور کس کے لیے خرچہ جانا ہے؟ الیکشن کمیشن کی طرف سے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے حلقوں کے خرچے کی مقرر کردہ حد کے قانون کی سرعام دھجیاں بکھیر دی جاتی ہیں اور

الیکشن کمیشن اپنا سا منہ لے کر رہ جاتا ہے۔ یہ سب رقم کس لیے خرچ کی جاتی ہے؟ جی یہ ووٹ اور ووٹر کا ضمیر خریدنے پر ہی خرچ ہوتی ہے۔ کوئی بڑی رقم لے کربکتا ہے تو کوئی روٹی پر بک جاتا ہے۔ جب عوام بکاو مال کی طرح بازار لگائے اپنے گاہک کے منتظر ہوں گے تو پھر خریدار بھی ایوانوں میں پہنچ کر اپنے ذاتی مفادات کے تحفظ اور اپنے منافع کے لیے ہی کام کریں گے۔

وہ قومی مفاد میں فیصلے کریں گے نہ قانون سازی۔

آج قوم کے پاس وقت ہے سوچنے کا اور سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنے کا۔ آج اپنے نمائندوں کی پرکھ کرو، ان سے سوال پوچھو کہ وہ کیا پروگرام رکھتے ہیں؟ کون سی قانون سازی کریں گے اور ملک میں کیا کیا تبدیلیاں لائیں گے؟

ہم سب کو سوچ سمجھ کر خالص قومی مفاد میں اپنا ووٹ استعمال کرنا چاہیے اور اپنے اردگرد بھی نظر رکھنی چاہیے کہ کوئی اپنے ذاتی مفاد میں قومی مفادات کا سودا تو نہیں کر رہا ہے؟ ہمیں اپنی سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کے سامنے مطالبہ رکھنا چاہیے کہ قوم کے اندر اتفاق رائے کی فضا قائم کی جائے، کوئی بھی بڑا فیصلہ لینے سے پہلے عوام کو اعتماد میں لیا جائے، ملک سے بے اعتباری اور بے اعتمادی کی فضا کو ختم کیا جائے، ہمیں مطالبہ کرنا چاہیے کہ قوموں کی برادری میں پاکستان کا وقار بحال کیا جائے، پاکستانی اداروں کی نئے سرے سے تربیت کی جائے اور تمام اداروں سے سیاسی مداخلت اور سفارشی کلچر کا خاتمہ کیا جائے، ہر طرح کی بدعنوانی کی بیخ کنی کی جائے۔

ہمیں مطالبہ کرنا چاہیے کہ قومی سرمائے کو انسانی ترقی پر خرچ کیا جائے یعنی سرمایہ کاری بلڈنگوں یا سڑکوں کی بجائے انسانوں پر کی جائے۔ اگر انسان صحت مند اور تعلیم یافتہ ہوگا تو ترقی ہوگی۔ ایک سائنس دان اپنی ایک ایجاد سے کئی موٹرویز کے وسائل پیدا کرتا ہے۔

جس معاشرے کے انسان صحت مند، تعلیم یافتہ اور متحرک ہوتے ہیں وہ معاشرہ خود بخود ترقی کی راہ پر گامزن ہو جاتا ہے۔ اب فیصلہ عوام کے ہاتھ میں ہے کہ وہ آنے والے اپنے پانچ سال کی باگ ڈور کس کے ہاتھ دیتے ہیں اور ہمارے بڑے عوام کے فیصلے کو قبول کرتے ہوئے پاکستان کے مستقبل کو کیسے سنوارتے ہیں۔

مزید : رائے /کالم