سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کے لئے الیکشن کمیشن کا ضابطہ ء اخلاق

سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کے لئے الیکشن کمیشن کا ضابطہ ء اخلاق

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں، انتخاب میں حصہ لینے والے امیدواروں، انتخابی اور پولنگ ایجنٹوں کے متعلق ضابطہ اخلاق جاری کر دیا ہے۔جس کے مطابق سیاسی جماعتیں، امیدوار اور انتخابی ایجنٹ لوگوں کی آزادی اور حقوق کی پاسداری کریں گے جن کی آئین اور قانون میں ضمانت دی گئی ہے۔ سیاسی جماعتیں اور امیدوار الیکشن ایکٹ 2017ء کے مطابق پبلک آرڈربرقرار رکھنے سے متعلق الیکشن کمیشن کی جانب سے ہدایات اور قواعد و ضوابط کی پابندی کریں گے۔ سیاسی جماعتیں مردوں اور خواتین کو الیکشن میں حصہ لینے کے یکساں مواقع فراہم کرنے کی پابند ہوں گی۔ ضابطہء اخلاق میں کہا گیا ہے کہ امیدوار ریلیاں نکالیں گے نہ ہی میٹنگ میں لاؤڈ سپیکر کا استعمال ہوگا الیکشن کمیشن کو بدنام کرنے پر توہین عدالت کی کارروائی ہوگی۔ مذہب کے نام پر مہم چلانے پر پابندی ہوگی امیدوار کے پولنگ ایجنٹ کے لئے ضروری ہوگا کہ وہ حلقے سے تعلق رکھتا ہو اور اس کے پاس اس حلقے کا شناختی کارڈ ہو، ضابطہ ء اخلاق کی خلاف ورزی پر ریٹرننگ افسر امیدوار کو شوکاز نوٹس جاری کرے گا۔ ریٹرننگ افسران امیدواروں کی فہرست اور ضابطہ ء اخلاق کی کاپی آویزاں کریں گے۔ماضی میں ہونے والے ہر الیکشن کے موقع پر الیکشن کمیشن کی جانب سے جو ضابطہ ء اخلاق جاری کیا گیا وہ موجودہ ضابطہ کی طرح خوبصورت الفاظ کا مرقع تھا اور اس سے ہمیشہ اچھی توقعات ہی وابستہ کی گئیں موجودہ ضابطہ ء اخلاق بھی خوشنما ہے اور اگر اس پر پوری طرح عمل کیا جائے تو یہ الیکشن کمیشن ، سیاسی جماعتوں ،امیدواروں، ووٹروں اور ہر اس شخص کے لئے اچھا ہے جو کسی نہ کسی انداز میں الیکشن میں متحرک ہے یا آنے والے دنوں میں ہوگا۔ ضابطہ ء اخلاق میں جو باتیں کی گئی ہیں اور سیاسی جماعتوں سے جو توقعات وابستہ کی گئی ہیں ان سے کسی کو بظاہر زیادہ اختلاف بھی نہیں، لیکن جس طرح ماضی میں ضابطہ ء اخلاق کی خلاف ورزیاں ہوتی رہیں اس طرح اب بھی ایسے امکانات بہرحال موجود رہیں گے ،لیکن توقع بہترین کی ہی کی جانی چاہیے۔ تاہم خلاف ورزیوں کے لئے بھی تیار رہا جائے۔
الیکشن میں ہر بالغ مرد و عورت کو جس کی عمر 18سال ہے اور جس کا نام ووٹروں کی فہرست میں درج ہے پولنگ والے دن اپنا ووٹ اپنی آزاد مرضی سے اس پولنگ سٹیشن پر ڈالنے کی اجازت ہے جہاں اس کا ووٹ موجود ہو لیکن ماضی میں دیکھا گیا ہے کہ ملک کے بعض حصوں میں کسی حلقے کے مقامی امیدوار مل بیٹھ کر خود ہی طے کر لیتے ہیں کہ صرف مرد ووٹر ووٹ ڈالنے آئیں گے اور خواتین کو ووٹ ڈالنے کی اجازت نہیں ہوگی ایسا فیصلہ عموماً امیدوار مل کر کرتے ہیں جس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ مقامی روایات کے تحت خواتین کو ووٹ ڈالنے سے روکا جاتا ہے جبکہ ایسی کوئی اجازت نہیں کہ امیدوار آپس میں بیٹھ کر کوئی خلافِ قانون فیصلہ کرلیں، ستم ظریفی یہ ہے کہ اگر کوئی خاتون اس فیصلے کے علی الرغم ووٹ ڈالنے کے لئے آ جائے تو اسے پولنگ سٹیشن کے باہر سے ہی زبردستی واپس بھیج دیا جاتا ہے۔ اور اس کا ووٹ کاسٹ نہیں کرایا جاتا۔ماضی میں بعض حلقوں میں ایسے الیکشن ہو چکے ہیں جن میں خواتین کو ووٹ نہیں ڈالنے دیا گیا تاہم بعد میں جب ایسی شکایات ملیں تو الیکشن کمیشن نے ایسے انتخاب کو کالعدم قرار دے دیا۔ قابلِ غور بات یہ ہے کہ ایسی سرگرمی میں وہ رہنما بھی ملوث ہوتے ہیں جو پورے ملک میں ایسی کوئی پابندی قبول کرنے کے حق میں ہوتے ہیں اور نہ ہی ایسی کوئی کوشش کرتے ہیں، بلکہ سیاسی جماعتوں کی خواتین پورے ملک کے شہروں میں متحرک ہوتی ہیں، انتخابی مہم چلاتی ہیں، گھر گھر جا کر اپنے حامی امیدواروں کے لئے ووٹ مانگتی ہیں، سیاسی رہنما خواتین کے اجتماعات سے خطاب کرتے ہیں اور خواتین براہِ راست اپنے لیڈر کا یہ خطاب سنتی ہیں جب پورے ملک میں ایسی کوئی پابندی نہیں تو کسی ایک شہر کے کسی مخصوص حلقے میں ایسی کیا بات ہے کہ امیدوار باہم مل کر ایسا فیصلہ کر لیں جو ضابطہ ء اخلاق کے بھی خلاف ہو اور ملک کے قانون کے بھی، لیکن بعض اوقات مخصوص سیاسی رہنما ایسے طرز عمل کا اظہار کرتے ہیں جس پر حیرت ہوتی ہے۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ اگر ماضی میں ایسا ہوتا رہا ہے تو اب بھی ہوگا، تاہم جو لوگ ماضی میں اس طرح کا بندوبست کرتے رہے وہ اب بھی الیکشن کے منظر پر موجود ہیں اس لئے ان پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
انتخابی مہم میں امیدوار ایک دوسرے کے خلاف الزام تراشی پر بھی اتر آتے ہیں اور مخالف کے بارے میں ایسی باتیں کرتے رہتے ہیں جو درست نہیں ہوتیں اور محض مخالف کو نیچا دکھانے کے لئے کی جاتی ہیں ایسی الزام تراشی سے امیدواروں اور ان کے حامیوں کے درمیان تلخی پیدا ہوتی ہے جو بڑھتے بڑھتے بعض اوقات تصادم کی شکل بھی اختیار کر لیتی ہے اور ایسا بھی ہوتا ہے کہ یہ انتخابی تلخی اشتعال اور فائرنگ یہاں تک کہ کسی کے قتل پر بھی منتج ہو۔ سیاسی جماعتوں کا فرض ہے کہ وہ اپنے امیدواروں کو پابند کریں کہ وہ ووٹروں تک اپنا پیغام مثبت انداز میں پہنچائیں اور منفی سرگرمیوں سے پرہیز کریں۔ ووٹروں کو یہ بتائیں کہ وہ ان کے لئے کس طرح بہتر ثابت ہوں گے اور منتخب ہونے کی صورت میں ان کے لئے کیا کریں گے یا کس حد تک جدوجہد کریں گے۔ اگرچہ ماضی میں امیدوار اپنے وعدے بھول بھی جاتے رہے ہیں اور اب کے بھی کوئی نئی مخلوق میدان میں نہیں اتری ہوئی سب پرانے چہرے ہیں جو نئے ہیں ان کے باپ دادا بھی انتخاب لڑتے رہے ہیں اور جھوٹے سچے وعدے بھی کرتے رہے ہیں یہی کچھ یہ امیدوار بھی کریں گے لیکن وہ جو کچھ بھی کہیں اپنے آپ تک محدود رکھیں دوسروں کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے بُرے القابات کا چناؤ نہ کریں،اشتعال انگیز الفاظ استعمال نہ کریں، مخالفین کے خلاف قابلِ اعتراض زبان استعمال نہ کریں اور ایسے الفاظ کا استعمال نہ کریں جن سے تلخیاں پیدا ہوں۔ سیاسی جماعتوں کا فرض ہے کہ وہ اپنے امیدواروں کو ضابطہ ء اخلاق کا پابند بنائیں اور ابھی سے ان کی تربیت کریں تاکہ خوشگوار اور پُرامن فضا میں انتخابی مہم آگے بڑھ سکے اور انتخابات کے دن بھی خوشگوار طور پر پولنگ ہو، انتخابات اپنی جگہ جتنے بھی اہم ہوں یہ زندگی سے بہرحال زیادہ اہمیت نہیں رکھتے اور نہ ہی انتخابات کو زندگی اور موت کا مسئلہ بنانا چاہیے۔ انتخاب سلیقے اور قرینے سے لڑیں اور اگر ووٹر آپ کو منتخب کریں تو ان کے احسان مند ہوں اور اگر وہ آپ کو اپنے اعتماد کا حق دار نہیں سمجھتے تو بھی یہ ان کا حق ہے جو کسی ووٹر سے نہیں چھینا جا سکتا۔

مزید :

رائے -اداریہ -