خانیوال میں تین بہنوں کی موت اورمہوش کاقتل قومی سانحہ ہے ،ناصراقبال

خانیوال میں تین بہنوں کی موت اورمہوش کاقتل قومی سانحہ ہے ،ناصراقبال

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


لاہور (سٹی رپورٹر) ہیومن رائٹس موومنٹ انٹرنیشنل کے مرکزی صدرمحمدناصراقبال خان،چیف آرگنائزر میاں محمدسعید کھوکھرایڈووکیٹ ، سیکرٹری جنرل محمدرضاایڈووکیٹ ،سینئر نائب صدورتنویرخان، محمداشرف عاصمی ایڈووکیٹ، ندیم اشرف ،سلمان پرویز ،مرکزی نائب صدور اخترعلی بدر، ناصرچوہان ایڈووکیٹ ، ممتازاعوان ،محمدشاہدمحمود ،صدر پنجاب محمدیونس ملک ، صدر مدینہ منورہ سرفرازخان نیازی،صدرکراچی یونس میمن ،صدر چنیوٹ راناشہزادٹیپو ،صدرفیصل آبادندیم مصطفی،صدرٹیکسلا سردارمنیر اختر اور صدر قصور میاں اویس علی نے کہا ہے کہ خانیوال میں اپنے گھرکاراستہ بھول کرگرم ریت کے بے رحم طوفان کی زدمیں آنیوالی تین بہنوں کی اندوہناک موت جبکہ فیصل آبادمیں ایک بوڑھی ماں اورچاربہنوں کی واحدکفیل روزہ دار مہوش کابہیمانہ قتل قومی سانحہ ہے۔تینوں بہنوں کی موت بھی درحقیقت قتل ہے ،انتظامی اداروں کی مجرمانہ غفلت اور بے حسی انہیں مارگئی۔معاشرے کاکرداربھی اظہارافسوس اورمذمت تک محدودہوکررہ گیا ہے۔اگرسرکاری ہیلی کاپٹرپر نوازشریف کیلئے طعام لاہورسے مری لے جایا جبکہ معمولی زخمی احسن اقبال کوناروال سے لاہورمنتقل کیاجاسکتا ہے تو خانیوال میں راستہ بھٹک جانیوالی بھوک اور پیاس سے نڈھال تین بدقسمت بہنوں کی تلاش کیلئے سرکاری ہیلی کاپٹر روانہ کیوں نہیں کیا گیا۔


اگرکسی مہذب ریاست میں معصوم بچیاں کسی دشت میں موت کے رحم وکرم پر ہوتیں توان کی تلاش میں زمین آسمان ایک کردیاجاتا ، افسوس پنجاب پولیس کے فرض شناس اہلکارجاتی امراء رائیونڈ سے شریف خاندان کے چوری ہونیوالے مور توبرآمدکرسکتے ہیں مگر گھرکاراستہ بھٹک جانیوالی عام پاکستانیوں کی معصوم بیٹیوں کی تلاش سے انہیں کوئی سروکار نہیں ۔
وہ ایک اجلا س سے خطاب کررہے تھے ۔محمدناصراقبال خان، میاں محمدسعید کھوکھرایڈووکیٹ اور محمدرضاایڈووکیٹ نے مزیدکہا کہ آزاد عدلیہ کے ہوتے ہوئے بھی پاکستان میں عام آدمی کاکوئی پرسان حال نہیں،یہ بات ایک بڑاسوالیہ نشان ہے۔اگرپولیس سمیت ریاستی مشینری نے اپناکرداراداکیاہوتاتوتین معصوم بہنوں کی زندگی بچائی جاسکتی تھی ۔انہوں نے کہاکہ مہوش کواپنی عزت کی حفاظت کرنے کی پاداش میں موت کے گھاٹ اتاراگیا،اس کے قاتل کونشان عبرت بنادیاجائے۔ریاست فوری طورپرخوشاب کی تین معصوم بہنوں اورمہوش کے ورثا کی مالی مددکرے ۔انہوں نے کہا کہ مہوش کے ورثاکوبروقت انصاف کی فراہمی اوران کی مستقل کفالت ریاست کافرض اوراس پرقرض ہے۔اگرقصور کی بے قصورزینب کاقاتل آج زندہ نہ ہوتا توشایدقوم کی ایک اوربیٹی مہوش کواپنی آبرو بچاتے ہوئے بیش قیمت زندگی نہ گنواناپڑتی ۔