عالمِ اسلام پر نفاق کے گہرے سائے (2)

عالمِ اسلام پر نفاق کے گہرے سائے (2)
عالمِ اسلام پر نفاق کے گہرے سائے (2)

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

حالات بتا رہے ہیں کہ مسجد اقصیٰ کا مسئلہ اس وقت نہایت نازک مرحلہ میں داخل ہو چکا ہے، افسوس کہ ان سطور کے لکھے جانے کے دوران ہی 14 مئی 2018ء کو ٹرمپ کے فیصلہ کے مطابق امریکہ کا سفارت خانہ بیت المقدس میں منتقل ہو چکا اور اس کے خلاف احتجاج کے دوران بڑی تعداد میں فلسطینی شہید ہوئے لیکن سوائے ترکی کے کسی مسلم ملک کو یہ توفیق نہیں ہوئی کہ وہ امریکہ کے اس ایک طرفہ اور اقدام پر امریکہ سے اپنے سفیر کو واپس طلب کرلے، ترکی نے اسرائیل سے تو اپنا سفیر واپس بلایا ہی امریکہ سے بھی اپنے سفیر کو واپس طلب کر لیا ہے، حقیقت یہ ہے کہ طیب اردوان کو جس قدر خراج محبت پیش کیا جائے کم ہے اور عالم اسلام کی بزدلی، بے حمیتی اور غیرت اسلامی سے محرومی پر جس قدر رویا جائے کم ہے۔

افسوس صد افسوس کہ فلسطین کے پڑوسی مسلم ممالک نہ صرف یہ کہ مسجد اقصیٰ کے تحفظ کے لئے کچھ نہیں چاہتے، بلکہ جو فلسطینی مزاحمت کر رہے ہیں، ان پر بھی دباؤ ڈال رہے ہیں، بلکہ کچھ عرصہ پہلے ایک خفیہ پلان بھی منظر عام پر آ چکا ہے معلوم نہیں اس کی حقیقت کیا ہے؟ کہ اسرائیل حماس پر حملہ آور ہوگا، اور جب ان کو غزہ چھوڑنا پڑے گا تو مصری فوج ان کو بھگا کر سینا کے بے آب و گیارہ صحراء میں لے جائے گی، وہاں ان کو آباد کیا جائے گا، اور ان کی آباد کاری کے لئے سعودی عرب اور بعض خلیجی ممالک فائنانس کریں گے، تاکہ فلسطین کا مسئلہ ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائے اور اسرائیل پورے خطہ پر قابض ہو جائے ظاہر ہے اس کے بعد کی منزل مسجد اقصی کا انہدام ہے جس میں اسرائیل کے لئے کوئی رکاوٹ باقی نہیں رہے گی خدا نہ کرے کہ یہ سازش کبھی پایہ تکمیل کو پہنچے اور ملت اسلامیہ کی آنکھیں ایسا برا وقت دیکھنے پر مجبور ہو جائیں۔

اب یہ بات تو ظاہر ہے کہ عالم اسلام میں سوائے ترکی کے، نیز عالم عرب اور خلیج میں سوائے قطر کے اکثر ممالک اس بڑی منافقانہ سازش کو قبول کر چکے ہیں، اور مسلم حکمران ایک ایسے نفاق میں مبتلا ہیں جو اب خفیہ راز نہیں رہا حکمرانوں کے علاوہ اگر کوئی اس کے خلاف آواز اٹھا سکتا تھا تو وہ علماء تھے لیکن ان جیسے ممالک میں علماء ربانین کی ایک بڑی جماعت کو جیل کی کوٹھری میں ڈال دیا گیا ہے اور وہ ناقابل بیان مظالم کے شکار ہیں کچھ وہ اہل علم ہیں جو اس صورت حال سے اپنے دل میں ضرور کسک محسوس کرتے ہیں اور ان کا ضمیر ان کو علامت کرتا ہے، لیکن وہ واقعی مجبور ہیں اس لئے انہوں نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے بہر حال انہیں معذور سمجھنا چاہئے لیکن علماء وائمہ مساجد کا ایک گروہ ایسا بھی ہے جنہیں پیسوں کے ذریعہ حکومتوں نے خرید لیا ہے، اگر وہ سکوت اختیار کرتے تب بھی سمجھا جاتا کہ یہ ان کی مجبوری ہے لیکن اس سے آگے بڑھ کر وہ حکوت کے ہر خلاف شریعت عمل پر مہر تصویب ثبت کرتے جاتے ہیں مصر کے سابق اور موجودہ مفتی اعظم کا حال پوری دنیا کے مسلمانوں نے دیکھا کہ انہوں نے کس طرح الاخوان المسلمون کے غیرت مند اور باحمیت مسلمانوں کی خون ریزی کو جائز ٹھہرایا اور مصر کے دستور سے اس دفعہ کے حذف کرنے کو قبول کر لیا جس کی رو سے دستور کی بنیاد کتاب و سنت کو قرار دیا گیا تھا۔
سوال یہ ہے کہ ان حالات میں علماء اور عام مسلمانوں کی ذمہ داری کیا ہے؟ یہ ایک اہم سوال ہے، اور اس سوال کا تعلق مسلمانوں میں سے کچھ افراد سے کسی خاص جماعت سے کسی خاص گروہ اور تنظیم سے نیز کسی خاص خطہ اور علاقہ کے رہنے والوں سے نہیں ہے، بلکہ پوری ملت اسلامیہ سے ہے تو آیئے ہم غور کریں کہ موجودہ حالات میں مقامات مقدسہ اور بالخصوص مسجد اقصی کی حرمت کی بقا کے لئے ہم کیا کچھ کر سکتے ہیں۔

-1 ہم چوں کہ بیت المقدس اور حرمین شریفین سے بڑے فاصلہ پر ہیں اس لئے ہم براہ راست اپنے مظلوم بھائیوں کی مدد نہیں کر سکتے لیکن ہم یہ تو کر سکتے ہیں کہ اپنا احتجاج درج کرائیں اور مسلم ممالک بالخصوص سعودی عرب، مصر، عرب امارات، اردن اور شام کے سفارت خانوں تک اپنا احتجاجی نوٹ پہنچائیں کہ وہ 1967ء میں اسرائیل کے مقبوضہ علاقوں پر ہرگز اسرائیل کے قبضہ کو تسلیم نہیں کریں اور جب تک اسرائیل اس کو تسلیم نہیں کرے، اس سے ہر طرح کے تعلقات منقطع رکھیں اور اگر ہیں تو منقطع کر لیں۔
-2 اختلاف مسلک و مشرب سے بالا تر ہو کر تمام دینی جماعتیں اور اہم ادارے جیسے جمعیت علماء ہند، جماعت اسلامی ہند، جمعیت اہل حدیث، دارالعلوم دیو بند، دارالعلوم ندوۃ العلماء، جامعہ اشرفیہ مبارکپور، جامعہ سلفیہ بنارس، جامعۃ الفلاح اعظم گڑھ وغیرہ تمام مسلم ملکوں سے اور خاص طور پر کر مذکورہ ملکوں سے مطالبہ کریں کہ وہ امریکہ و اسرائیل کے سامنے سر نہ جھکائیں اور اللہ پر بھروسہ کر کے پوری قوت کے ساتھ مزاحمت کریں حماس کو دہشت گرد تنظیم ماننے سے انکار کر دیں، اور اسرائیل کو دہشت گرد قرار دیں۔

-3 خاص طور پرسعودی عرب کے سامنے یہ بات رکھی جائے کہ موجودہ ولی عہد نے جو راستہ اختیار کیا ہے، یہ صریحاً اسلام مخالف ہے یہ سعودی روایات کے بھی خلاف ہے، یہ خود اس ملک کے دستور کے بھی مغائر ہے جس میں کتاب و سنت کو ملک کے لئے دستور کا درجہ دیا گیا ہے، یہ حرمین شریفین کی تولیت کے عظیم منصب کے لئے مطلوبہ اوصاف و اقدار کے برعکس ہے اور یہ مغرب نواز پالیسی، دینی، معاشی، اخلاقی اور دفاعی ہر پہلو سے خود مملکت کے لئے نقصان دہ ہے نیز یہ ملک اور شاہی خاندان کے اندر بھی ایک بڑے انتشار کا سبب ثابت ہو سکتا ہے، اس لئے وہ اس نئی پالیسی سے باز آ جائیں اور اپنے اس مقام و مرتبہ کا لحاظ کریں جو اللہ تعالیٰ نے اسلام کی نسبت سے ان کو عطا کیا ہے۔(جاری ہے)۔

-4اس وقت مسئلہ فلسطین مخلصین اور منافقین کو پرکھنے کا ایک پیمانہ ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یہود و نصاریٰ کو حرم مکی سے بغض تھا، اسی لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو قدرت کے باوجود حج نہ کرے تو مجھے اس سے غرض نہیں کہ وہ یہودی ہو کر مرے یا نصرانی ہو کر (ترمذی، حدیث نمبر: 812) یعنی اس وقت کعبتہ اللہ سے محبت اخلاص کے لئے معیار تھا، موجودہ دور میں یہود و نصاریٰ کو مسلمانوں سے سب سے زیادہ بغض اس بات سے ہے کہ وہ انبیاء بنی اسرائیل کے مرکز بیت المقدس پر کیوں قابض ہیں، اس لئے اس وقت جو شخص یا جو حکومت مسئلہ فلسطین کو نظر انداز کرتی ہے اور یہودیوں کے ساتھ اس کا سودا کرنے کو تیار ہے وہ اس دور کے منافقین ہیں، اس لئے ایسے ملکوں کے سرکاری عہدہ داروں اور سرکاری مولویوں کو اداروں اور تنظیموں میں مدعو کرنے سے گریز کیا جائے اسی طرح اگر اعداء اسلام کی ہم نوا ان ظالم حکومتوں کی طرف سے کوئی دعوت آئے تو اسے قبول نہیں کیا جائے، اور صاف طور پر لکھا جائے کہ مسئلہ فلسطین میں آپ کی مسلمان مخالف پالیسی کی وجہ سے ہم لوگ اس دعوت کو رد کر رہے ہیں۔
-5 فلسطین کا سودا کرنے میں جن ملکوں کا نام سامنے آ رہا ہے دینی کاموں کے لئے نہ ان سے عطیہ مانگا جائے اور نہ ان کا عطیہ قبول کیا جائے، کیوں کہ ایسے ممالک مسجدیں اور عمارتیں بنوا کر یا تھوڑی بہت رقمی امداد کر کے اپنے حقیقی مکروہ چہرے کو چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
-6 اسرائیل اور اسرائیل نواز امریکی کمپنیوں کا مستقبل طور پر بائیکاٹ کیا جائے، یہ نہ سوچا جائے کہ ہمارے سامان نہ خریدنے سے کمپنی تو بند نہیں ہو گی پھر اس کا کیا فائدہ؟ بلکہ اس بات کو پیش نظر رکھا جائے کہ ہمیں یہ کام ایک دینی فریضہ کے طور پر کرنا ہے، بلا سے کہ ہمارے اس عمل سے دشمن کو خاطر خواہ نقصان نہ پہنچے لیکن ہم عند اللہ ظالم کی حمایت کے گناہ سے تو بچیں گے، کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ظالموں سے تمہارا تعلق نہیں ہونا چاہئے۔
-7 یہ بھی ضروری ہے کہ مسلمان 1967ء سے پہلے کی طرح زیادہ سے زیادہ مسجد اقصیٰ کی زیارت کا شرف حاصل کریں اور بیت المقدس کے سفر کا اہتمام کریں تاکہ ظاہر ہو کہ مسلمانوں کو اس مسجد سے اب تک ویسا ہی تعلق ہے جیسا تعلق پہلے تھا۔
-8 مسجد اقصیٰ کے موضوع پر زیادہ سے زیادہ جلسے کئے جائیں، جمعہ کے بیانات میں، مدارس اسلامیہ کے سالانہ جلسوں میں مسلم جماعتوں اور تنظیموں کے پروگراموں میں اس موضوع کو پیش کیا جائے، مضامین کے ذریعہ یہودیوں کی قتل و غارت گری ظلم و بربریت اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی کو خوب واضح کیا جائے برادرانِ وطن کے ساتھ مل کر مسئلہ فلسطین پر سیمینار رکھے جائیں اور اس میں زبانی بیانات تحریری دستاویزات اور تصویروں کے ذریعے فلسطینیوں کی مظلومیت کو زیادہ سے زیادہ نمایاں کیا جائے۔
-9 اس وقت ہمارے دینی مدارس میں تاریخ کا مضمون گویا پڑھایا ہی نہیں جاتا لیکن کم سے کم سیرت نبویؐ کے ساتھ مقامات مقدسہ کی تاریخ کو شامل نصاب کیا جائے تاکہ آنے والی نسل کا اپنے مقدس مقامات سے محبت و اعتقاد کا رشتہ بغیر کسی کمی کے قائم رہے۔
-10سوشل میڈیا کے ذریعہ مسئلہ فلسطین کی اہمیت، مغرب کی دوہری پالیسی اور اس سلسلے میں موجودہ مسلم حکمرانوں کی کوتاہی کو ہر ہر مسلمان تک پہنچایا جائے اور اس کو پر امن اور مہذب احتجاج کا ذریعہ بنایا جائے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم کسی برائی کو دیکھو تو قوت سے بدلنے کی کوشش کرو قوت صرف ہتھیار ہی کی نہیں ہوتی قانون کی بھی ہوتی ہے اور جمہوری معاشرے میں اتحاد و اجتماعیت کی بھی ہوتی ہے، اگر قوت کا استعمال ممکن نہ ہو تو زبان سے روکنا ضروری ہے آج کل پر امن احتجاج کی جو صورتیں اختیار کی جاتی ہیں یا جن کا ذکر اوپر کیا گیا ہے یہ سب زبان ہی سے روکنے کے زمرہ میں آتے ہیں اور اگر زبان سے بھی کہنا ممکن نہ ہو تو انسان دل میں کڑھن محسوس کرے یہ ایمان کا بالکل آخری درجہ ہے (مسلم حدیث نمبر: 49) اب اگر کوئی شخص حکمرانوں کے روبرو کچھ بول نہ سکے دل کی کڑھن کے ساتھ خاموشی اختیار کر لے تو وہ ایمان کے آخری درجہ میں ہے اگر کڑھن محسوس کرنے کے بجائے وہ خوشامد اور چاپلوسی کرنے لگے جیسا کہ اس وقت عالم اسلام کے بعض علماء و ارباب افتاء کا حال ہے تو گویا وہ ایمان کے اس آخری درجہ سے بھی محروم ہے۔ جہاں تک ہندوستان کی بات ہے تو عالم اسلام اور مقامات مقدسہ کے بارے میں اس کی ایک روشن تاریخ رہی ہے چنانچہ ہندوستان کے علماء اور اکابر نے خلافت عثمانیہ کے سقوط کے وقت خاموشی اختیار نہیں کی اور یہ نہیں سوچا کہ یہ ہمارا مسئلہ نہیں ہے ، یہ پرایا مسئلہ ہے بلکہ اس وقت کے متحدہ ہندوستان میں اس کے خلاف بھرپور احتجاج کیا گیا اور خلافت تحریک وجود میں آئی ملت کے ذمہ داروں کے لئے لمحہ فکر ہے کہ اگر اسلامی اقدار کے خلاف کھلے ہوئے عناد، یہود و نصاریٰ کی دوسری اور مقامات مقدسہ کے احترام کی پامالی پر بھی ہماری رگ حمیت نہیں پھڑکے اور ہماری دینی غیرت کو جوش نہیں آئے تو پھر کون سا وقت ہوگا جب ہم اللہ سے کئے ہوئے اس وعدہ کو پورا کر سکیں گے کہ ہم نے اپنے پورے وجود کو خدا کے ہاتھوں بیچ دیا ہے (توبہ:111) اور یہ کہ ہمارا کچھ نہیں ہے ہم اللہ اور صرف اللہ کے لئے ہیں: ہماری نماز اور ہماری قربانی ہماری زندگی اور ہماری موت اللہ رب العالمین کے لئے ہے۔
(مولانا رحمانی بھارت کے ممتاز عالمِ دین ہیں)۔

مزید :

رائے -کالم -