قتل کی اوپر تلے وارداتیں،ایک کا بھی سراغ نہ ملا

قتل کی اوپر تلے وارداتیں،ایک کا بھی سراغ نہ ملا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

تحریر : محمد ارشد شیخ بیوروچیف شیخوپورہ
علمائے کرام نے قرآن وحدیث کی روشنی میں تحریر کیا ہے کہ کسی کو ناحق قتل کرنے والا بہت بڑے گناہ کا مرتکب تو ضرور ہے مگر وہ اس جرم کی وجہ سے کافر نہیں ہوتا ہے اور ایک طویل عرصہ تک جہنم میں دردناک عذاب کی سزا پاکر آخر کار وہ جہنم سے نکل جائے گا ،نیز قرآن وحدیث کی روشنی میں علماء امت کا اتفاق ہے کہ کسی کو ناحق قتل کرنے والے کی آخرت میں بظاہر معافی نہیں ہے اور اسے اپنے جرم کی سزا آخرت میں ضرور ملے گی اگرچہ مقتول کے ورثاء قاتل سے قصاص نہ لے کر دیت وصول کرلیں یا اسے معاف کردیں۔
قرآن کریم میں دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے ایک شخص کے قتل کو تمام انسانوں کا قتل قرار دیا: اسی وجہ سے بنی اسرائیل کو یہ فرمان لکھ دیا تھا کہ جو کوئی کسی کو قتل کرے جب کہ یہ قتل نہ تو کسی اور جان کا بدلہ لینے کے لئے ہواور نہ کسی کے زمین میں فساد پھیلانے کی وجہ سے ہو تو یہ ایسا ہے جیسے اس نے تمام انسانوں کو قتل کردیا اور جو شخص کسی کی جان بچالے تو یہ ایسا ہے جیسے اس نے تمام انسانوں کی جان بچالی غرضیکہ اللہ تعالیٰ نے ایک شخص کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیا کیونکہ کوئی شخص قتل ناحق کا ارتکاب اسی وقت کرتا ہے جب اس کے دل سے انسان کی حرمت کا احساس مٹ جائے، نیز اگر کسی کو ناحق قتل کرنے کا چلن عام ہوجائے تو تمام انسان غیر محفوظ ہوجائیں گے، لہٰذا قتل ناحق کا ارتکاب چاہے کسی کے خلاف کیا گیا ہو، تمام انسانوں کو یہ سمجھنا چاہئے کہ یہ جرم ہم سب کے خلاف کیا گیا ہے۔قتل کی حرمت کے متعلق فرمان الہٰی ہے: جس جان کو اللہ نے حرمت عطا کی ہے اسے قتل نہ کرو، مگر یہ کہ تمہیں (شرعاً) اس کا حق پہنچتا ہو اور جو شخص مظلومانہ طور پر قتل ہوجائے تو ہم نے اس کے ولی کو (قصاص کا)اختیار دیا ہے۔ چنانچہ اس پر لازم ہے کہ وہ قتل کرنے میں حد سے تجاوز نہ کرے۔ یقیناًوہ اس لائق ہے کہ اس کی مدد کی جائے اسی طرح سورۃ الفرقان میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اور جو اللہ کے ساتھ کسی بھی دوسرے معبود کی عبادت نہیں کرتے اور جس جان کو اللہ نے حرمت بخشی ہے اسے ناحق قتل نہیں کرتے اور نہ وہ زنا کرتے ہیں، اور جو شخص بھی یہ کام کرے گااسے اپنے گناہ کے وبال کا سامنا کرنا پڑے گا۔ قیامت کے دن اس کا عذاب بڑھا بڑھا کر دو گنا کردیا جائے گا۔ اور وہ ذلیل ہوکر اس عذاب میں ہمیشہ ہمیشہ رہے گا۔آخری تینوں آیات میں صرف مسلمانوں کے قتل کی ممانعت نہیں ہے بلکہ ہر اُس شخص کے قتل کی ممانعت ہے جس کی جان کو اللہ تعالیٰ نے حرمت بخشی ہے۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم رحمۃ للعالمین بناکر مبعوث ہوئے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے کسی کو ناحق قتل کرنے پر سخت سے سخت وعیدیں ارشاد فرمائی ہیں اور امت کو اس سنگین گناہ سے باز رہنے کی بار بار تلقین فرمائی ہے چند احادیث پیش ہیں حجۃ الوداع کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنے عظیم خطبہ میں ارشاد فرمایا: تمہارے خون، تمہارے مال اور تمہاری آبروئیں ایک دوسرے کے لئے ایسی ہی حرمت رکھتی ہیں۔ تم سب اپنے پروردگار سے جاکر ملو گے، پھر وہ تم سے تمہارے اعمال کے بارے میں پوچھے گا۔ لہٰذا میرے بعد پلٹ کر ایسے کافر یا گمراہ نہ ہوجانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔یعنی کسی شخص کو ناحق قتل کرنا کافروں اور گمراہوں کا کام ہے نیز ایک دوسرے کو کافر یا گمراہ کہہ کر قتل نہ کرنا۔ ارشاد فرمایا: کبیرہ گناہوں میں سے سب سے بڑے گناہ یہ ہیں: اللہ کے ساتھ کسی کوشریک ٹھہرانا، کسی انسان کو قتل کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا اور جھوٹی بات کہنا۔افسوس ہمارہ معاشرہ انتہائی غلط سمت چل پڑا ہے کہ آئے روز معمولی سے معمولی بات پرانسانوں کے قتل کی وارداتیں عام سے عام تر ہوتی جارہی ہیں پچھلے چند روز میں فیصل آباد روڈ پر واقع تھانہ بھکھی کی حدود میں متعدد افراد کو موت کی نیند سلا دیا گیا جن میں بعض ایسے اندھے قتل ہیں جن کا سراغ لگانا پولیس کے لئے معمہ بنا ہوا ہے واقعات کے مطابق ماہ رمضان میں ستائیسویں کی رات قصبہ فیروز وٹواں مکی روڈ پر رات گئے نا معلوم سفاک قاتلوں نے اپنے گھر کی چھت پر سوئے ہوئے انتہائی غریب شخص نیاز احمد انصاری کو بڑی ہی بے دردی کے ساتھ چھری سے ذبح کر دیا جس نے تڑپ ٹرپ کر جان دے دی اور بے رحم و سفاک ملزمان رات کی تاریکی میں فرار ہوگئے اسی طرف پچھلے دنوں مقامی بلسیڈ ٹیکسٹائل ملز کی بیک سائیڈ سے گزرنے والے گندے نالے سے ایک 21/22 سالہ نوجوان کی لاش برآمد ہو ئی جس نے جینز کی پینٹ اور ٹی شرٹ پہن رکھی تھی جس کی شناخت بعد میں عبدالقدوس ولدمحمد امین کے نام سے ہوئی جو کہ ڈیرہ چراغ دین مشمولہ لاگر کارہائشی بیان کیا گیا اور مقامی فیکٹری میں محنت مزدوری کرتا تھا جسے نا معلوم افراد نے گلے میں پھندا ڈال کر موت کی نیند سلانے کے بعد لاش کو گندنے نالے میں پھینک کر فرار ہوگئے جبکہ ملزمان کا تاحال سراغ نہیں لگایا جا سکا ہے ستائیسویں کی رات کو ہی سفاک قاتلوں نے ایک 25/30 سالہ نوجوان کو نواں کوٹ کے ساتھ ڈیرہ بھنگواں سے ملحقہ بانسوں کے ذخیرہ میں لاکر گولیاں مار کر موت کی نیند سلا دیا اور فرار ہو گئے ملزمان نے مقتول نوجوان کے سر میں اور چھاتی پر گولیاں ماریں جس سے وہ ہلاک ہوا قتل کی اس لرذہ خیز واردات کی اطلاع صبح سویرے ایک راہ گیر نے دی جس پر پورے علاقہ میں خوف و ہراس پھیل گیا لوگ قطار درقطار مقتول کی شناخت کے لئے جائے واردات پر پہنچے مقتول نوجوان نے ہلکے سرخ رنگ کی شلوار قمیض زیب تن کر رکھی تھی جبکہ سر پر ہلکے نیلے رنگ کا کپڑا باند رکھا تھااور مقتول کا جسم پتلا اور قد تقریبا ساڑھے پانچ فٹ سے زائد تھا تاہم نوجوان کی شناخت نا ہو سکی پولیس تھانہ بھکھی نے اے ایس آئی محمد اقبال کی مدعیت میں نا معلوم افراد کے خلاف مقدمہ نمبری363/18 بجرم 302 ت پ درج رجسٹرڈ کر لیا ہے جبکہ ملزمان کی تلاش جاری ہے اسی طرح تھانہ بھکھی کے گاؤں آنبہ کالیہ کے رہائشی محنت کش صدی احمد نے تھانہ بھکھی میں مورخہ 14.6.2018 کو ایک مقدمہ بجرم 302 ت پ (قتل ) درج کروایا ہے کہ جس میں صدی احمد کی طرف سے موقف اختیار کیا گیا ہے کہ اس کی بیٹی مقتولہ رخسانہ بی بی کی شادی گزشتہ دس ماہ قبل مقامی گاؤں آنبہ کے رہائشی ملزم کاشف علی سے ہوئی تھی شادی کے چند روز بعد ہی دونوں میں ناچاقی پیدا ہو گئی تھی جو بار بار صلح کروائی گئی دس روز قبل بھی میں اپنی بیٹی کو عید دینے کے لئے گیا تو گھر میں لڑائی ہو رہی تھی مگر میں صلح کروا کر واپس آ گیا مگر بعد میں ملزمان کاشف ، کلثوم بی بی ، علی، وغیرہ نے سنگدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے میری بیٹی کو تیزاب پلا دیا جس سے اس کی حالت غیر ہو گئی جس بارے مجھے اجنبی نمبر سے کال موصول ہوئی جس نے بتایا کہ تمہاری بیٹی کی حالت انتہائی غیر ہے جس پر ہم فوری بیٹی کی خبر گیری کے لئے پہنچے جس کی حالت تشویشناک تھی جسے ہسپتال لیجایا گیا جو ہسپتال میں ہلاک ہو گئی درخواست دہندہ کا کہنا تھا کہ میری بیٹی کو ملزمان نے زبردستی تیزاب پلا کرموت کی نیند سلایا ہے تاہم صدی احمد کی درخواست پر تھانہ بھکھی پولیس نے ملزمان کے خلاف مقدمہ کا اندراج کر لیا ہے اور کاروائی شروع کر دی ہے علاقہ میں قتل اور اقدام قتل کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کے پیش نظر پورے علاقہ میں خوف ہ ہراس پھیلا ہوا ہے اور لوگ شدید ذہنی اذیت کا شکار ہیں جبکہ پولیس تھانہ بھکھی بھر پور جدوجہد کے باوجود علاقہ میں ہونے والے اقتال کے ملزمان کو گرفتار کرنے میں قاصر ہے لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ قتل جن کے مقدمات میں ملزمان نامزد ہیں کی تفتیش کسی حد تک ہو رہی ہے مگر علاقہ میں ہونے والے اندھے قتلوں کی تفتیش انتہائی سست روی کا شکار ہے جس عوامی سماجی حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے
قارئیں کرام ؛قرآن وحدیث کی روشنی میں ذکر کیا گیا کہ کسی شخص کو قتل کرنا شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ ہے اور قاتل کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ایک طویل عرصہ تک رہے گا، اللہ اس پر غضب نازل کرے گا اور لعنت بھیجے گا اور اللہ تعالیٰ نے قاتل کے لئے بڑا عذاب تیار کررکھا ہے۔ لہٰذا ہر شخص کو چاہئے کہ وہ قتل جیسے بڑے گناہ سے ہمیشہ بچے اور وہ کسی بھی حال میں کسی بھی جان کا ضائع کرنے والا نہ بنے کیونکہ بسا اوقات ایک شخص کے قتل سے نہ صرف اس کی بیوی بچوں کی زندگی بلکہ خاندان کے مختلف افراد کی زندگی دوبھر ہوجاتی ہے اور اس طرح خوشحال خاندان کے افراد بیوہ، یتیم اور محتاج بن کر تکلیفوں اور پریشانیوں میں زندگی گزارنے والے بن جاتے ہیں۔مگر آج کے دور میں انسانی زندگی انتہائی سستی ہو چکی ہے معمولی بات پر قیمتی زندگیوں کے ضیاع پر سوائے افسوس کے کچھ نہیں کیا جا سکتا سلام اعتدال اور توازن کی جگہ پر کھڑا ہے۔ وہ نہ یہ چاہتا ہے کہ قاتلوں کو کھلی چھٹی دے کرانسانی خون کو ارزاں کر دے اور معاشرے کو ظلم و زیادتی کا مظہر بنا دے اورنہ یہ چاہتا ہے کہ قاتل کے لیے معافی کی گنجایش ختم کرکے معاشرے سے ہمدردی، احسان مندی، بھائی چارے اور ایثار وقربانی جیسی اقدار کے اظہار کے مواقع ختم کر دے اور اس طرح معاشرے کوبالکل بے روح اور بے جان بنا ڈالے۔ چنانچہ اسلام نے ایک طرف ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دے کر اور قصاص کو لازم قرار دے کر، معاشرے کو پوری طرح تحفظ فراہم کر دیا ہے اور دوسری طرف ورثا کو معاف کرنے کا اختیار دے کر معاشرے میں بھائی چارے کی فضا قائم کرنے اور مجرم کے لیے توبہ و انابت اور اصلاح و ہدایت کی بھرپور گنجائش پیدا کر دی ہے۔قرآن مجید سے واضح ہے کہ اسلام نے ایک انسان کے قتل کو تمام انسانیت کا قتل اور ایک انسانی جان کے بچانے کو پوری انسانیت کوبچانے کے مترادف قرار دیا ہے ارشاد ربانی ہے کہ’’اِسی سبب سے ہم نے بنی اسرائیل پر لکھ دیا کہ جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا، اُس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے کسی انسان کو بچایا، اُس نے گویا تمام انسانوں کو بچا لیا۔‘‘

مزید :

ایڈیشن 2 -