(بورے والا) کاغذ ات کی سکروٹنی ، حامیو ں کا رش، امیدواروں کے اعتراضات کی سماعت

(بورے والا) کاغذ ات کی سکروٹنی ، حامیو ں کا رش، امیدواروں کے اعتراضات کی سماعت

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


بورے والا(نمائندہ خصوصی)پی ٹی آئی،مسلم لیگ(ن) اور آزاد امیدواروں کے کاغذات کی جانچ پڑتال کے وقت حامیوں کا رش رہا،پی ٹی آئی کے تا حیات نا اہل سابق ایم این اے چو دھری نذیراحمد جٹ اور انکی بیٹی امیدوار پی ٹی آئی کی این اے 162 سے امیدوار عائشہ نذیر جٹ کے خلاف اعتراضات کی طویل سماعت ہو ئی،(ن)لیگی امیدوار چو دھری نذیر احمدارائیں،ارشاد احمدارائیں اور یوسف کسیلیہ کے خلاف بھی اعتراضات سامنے آگئے ہیں،ریٹرننگ افسروں کے کمرے امیدواروں کے حامیوں اور وکلاء سے کھچا کھچ بھرے رہے،حتمی لسٹ 19جون کو آویزاں ہو گی ،الیکشن 2018میں حصہ لینے کے لیے جمع کرائے گئے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کے دوران اریٹرننگ آفیسر این اے 162کے روبرو پی ٹی آئی کی امیدوار عائشہ نذیر جٹ اور انکے والد نذیر احمد جٹ کے خلاف انکے مد مقابل ن لیگ کے امیدوار چودھری نذیر احمد ارائیں ،مقامی لیگی کارکن محمد اسلم جمال اور محمد منیر نامی شہری کی جانب سے اعتراضات داخل کرائے گئے تھے چودھری نذیر احمد جٹ کے خلاف داخل کردہ اعتراضات میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ انہیں 22اپریل 2010کو لاہور ہائی کورٹ کے تین رکنی بنچ نے جعلی ڈگری کی بنیاد پر آئین کے آرٹیکل 62/63کے تحت تاحیات نا اہل قرار دیا تھا جسکے خلاف نذیر احمد جٹ کی سپریم کورٹ میں اپیل پر بھی ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا تھا اور انہیں تا حیات نا اہل قرار دے دیا تھا جسکے بعد کسی بھی عدالت نے انکے حق میں کوئی فیصلہ نہیں دیا اس لیے وہ الیکشن لڑنے کے لیے اہل نہیں جبکہ ان کی بیٹی عائشہ نذیر جٹ سعودیہ میں اقامہ ہولڈر ہیں جو انہوں نے کاغذا ت نامزدگی میں ظاہر نہیں کیا معلومات چھپانے پر وہ بھی 62/63کی زد میں آ چکی ہیں اس لیے انہیں نا اہل قرار دیا جائے ن لیگ کے امیدوار نذیر احمد ارائیں کے خلاف اثاثے چھپانے کے حوالہ سے ان کے مخالف نذیر احمد جٹ کی جانب سے کیے گئے اعتراضات کی بھی سماعت ہوئی پی ٹی آئی کے ضلعی صدر خالد محمود چوہان نے بھی نذیر احمد جٹ اور انکی بیٹی کے خلاف اعتراضات داخل کرائے پی پی 230سے ن لیگی امیدوار چودھری ارشاد احمد ارائیں کے خلاف ن لیگ ہی سے تعلق رکھنے والے آزاد امیدوار خالد محمود ڈوگر کی طرف سے انکی بی اے کی ڈگری کو جعلی قرار دینے کے علاوہ انکی طرف سے کاغذات نامزدگی میں ظاہر کیے گئے اثاثہ جات میں واضح فرق کے متعلق بھی اعتراضات کیے جن پر طویل بحث کی گئی ریٹرننگ افسران آج 19جون کو حتمی امیدواروں کی لسٹ آویزاں کریں گے۔
بوریوالا

مزید :

صفحہ اول -