تحریک انصاف کے کارکنوں کا جمشید دستی سے اتحاد پر احتجاج

تحریک انصاف کے کارکنوں کا جمشید دستی سے اتحاد پر احتجاج

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


مظفرگڑھچوک مکول (بیورورپورٹ،نامہ نگار ) پاکستان تحریک انصاف کے ضلعی سیکرٹریٹ کے سامنے پارٹی کے ورکروں نے قیادت کی طرف سے این اے 182 اور این اے 183 میں جمشید دستی کے مدمقابل پارٹی کے امیدوار کا اعلان نہ کرنے پر شدید احتجاج کیا اور ٹائر جلاکر سڑک بلاک کردی جس کے بعد مشتعل(بقیہ نمبر22صفحہ12پر )

کارکنوں نے اپنے ہی ضلعی سیکرٹریٹ کا گھیراؤ کرکے توڑ پھوڑ شروع کردی اور دفتر میں موجود فرنیچر اور شیشے بھی توڑ ڈالے اس دوران کارکنوں کو روکنے کی کوشش کی گئی تو وہ نہ رکے اور دفتر میں لگے پینافلیکس بھی پھاڑ ڈالے۔ احتجاج کرنیوالے کارکنوں میں شامل صابر عاربی، عابد بلوچ، شعیب سہرانی، مہر زین، اظہر جوئیہ، حنان گوپانگ، افضل پنوار، زوہیب کوریہ، کبیر خان، علی عباس قریشی، اکرم بلوچ، اسد مکول، سجاد بلوچ، آصف بلوچ، حسن شیخ، عرفان عباسی، شیخ شجاع احمد، ہاد خان، وقاص عبدالعزیز، وسیم کھرل، چوہدری عبدالرافع سنی، جنید، شجاع الدین، شیخ جنید افضل اور دیگر نے کہا کہ پارٹی قیادت اور چئیرمین عمران خان کے خلاف بیان بازی کرنے والے جمشید دستی کے ساتھ ممکنہ اتحاد کو مظفرگڑھ کے کارکن ہرگز قبول نہیں کرسکتے کیونکہ جمشید دستی جعلی ڈگری ثابت ہونے پر سزا یافتہ ہیں اور وہ آئل ٹینکرز سے بھتہ خوری کے مقدمات میں بھی ملوث ہیں جن کے خلاف کریمنل ریکارڈ موجود ہے ایسے شخص کے ساتھ پارٹی کا اتحاد کرنا مظفرگڑھ میں پارٹی کو دفن کرنے کے مترادف ہوگا۔ انہوں کہا کہ ہم بلے کے نشان کو ہی ووٹ دینگے اگر کسی کو بھی پارٹی ٹکٹ نہ دیا گیا تو الیکشن کا بائیکاٹ کیا جائیگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر پارٹی قیادت نے اپنا فوری فیصلہ تبدیل نہ کیا تو بنی گالہ اور شاہ محمود قریشی کے ملتان میں گھر کے سامنے طویل دھرنا اور بھوک ہڑتالی کیمپ لگایا جائیگا۔