دنیا کے سب سے بڑے اسلامی ملک انڈونیشیا کی آزادی میں پاکستان نے کیا کردار ادا کیا؟ جانئے وہ بات جسے جان کر آپ کو بے حد فخر ہوگا

دنیا کے سب سے بڑے اسلامی ملک انڈونیشیا کی آزادی میں پاکستان نے کیا کردار ادا ...
دنیا کے سب سے بڑے اسلامی ملک انڈونیشیا کی آزادی میں پاکستان نے کیا کردار ادا کیا؟ جانئے وہ بات جسے جان کر آپ کو بے حد فخر ہوگا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان کو اسلام کا مضبوط قلعہ کہا جاتا ہے، اور یہ بات بلاوجہ نہیں کہی جاتی۔ یہ سچ ہے کہ عالم اسلام کے اتحاد کے لئے جو جذبہ پاکستان میں پایا جاتا ہے کہیں اور اس کی مثال نہیں مل سکتی۔ اور یہ جذبہ قیام پاکستان کے بعد ہی نہیں بلکہ اس سے پہلے بھی مسلمانان ہند میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ دنیا کے سب سے بڑے اسلامی ملک انڈونیشیا کی آزادی کی تاریخ کو ہی دیکھ لیجئے، جس میں پاکستان نے بے حد اہم کردار ادا کیا اور اس کردار کا آغاز پاکستان کے وجود میں آنے سے بھی پہلے ہی ہو گیا تھا۔
ویب سائٹ Quora پر کئے گئے ایک سوال کے جواب میں مصنف و سماجی کارکن شاہ نصیب بابر بھٹی بتاتے ہیں کہ انڈونیشیا کی آزادی کا اعلامیہ ڈاکٹر احمد سوئکارنو اور ڈاکٹر محمد حتیٰ نے تیار کیا، جو کہ 17 اگست 1945ءکے دن بالترتیب انڈونیشیا کے پہلے صدر او رنائب صدر قرار پائے۔ یعنی انڈونیشیا کی آزادی کا اعلان پاکستان کی آزادی سے دو سال قبل کیا گیا لیکن منزل تک پہنچنے کے لئے جدوجہد ابھی ختم نہیں ہوئی تھی۔


انڈونیشیا نے اپنی آزادی کیلئے ولندیزی استعمار کے خلاف جنگ لڑی۔ یہ جنگ چار سال پر محیط تھی جس میں 25ہزار سے ایک لاکھ تک لوگ لقمہ اجل بنے۔ قیام پاکستان سے قبل ہی بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ نے انڈونیشیا کی آزادی کیلئے اپنی حمایت کا اعلان کر دیا تھا۔ انہوں نے ولندیزی استعمار کے حامی تاج برطانیہ کے سامنے بھی اپنی آواز بلند کی۔ ان کے احتجاج کا سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ برطانوی فوج میں شامل مسلم سپاہیوں کو انڈونیشیا کی جنگ آزادی میں شمولیت کی ترغیب ملی۔ ایک اندازے کے مطابق 600 سے 800 مسلم سپاہیوں نے برطانوی فوج سے راہ فرار اختیار کی اور انڈونیشیا کی جنگ آزادی میں شامل ہوگئے۔ برطانوی عدالت نے 1947ءمیں ان سپاہیوں کو غدار قراردیتے ہوئے سزائے موت سنا دی۔


برصغیر سے جانے والے مسلم سپاہیوں نے بنڈونگ، میدان، کوٹاراجہ اور بکٹنگ جیسے شہروں میں استعماری فوج کو شکست سے دوچار کیا۔ تاریخ دانوں کا کہنا ہے کہ اس لڑائی میں تقریباً 500 ہندوستانی مسلم سپاہیوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ زندہ بچ رہنے والوں میں سے کچھ پاکستان کی آزادی کے بعد یہاں چلے آئے اور کچھ انڈونیشیا میں ہی مقیم رہے۔
پاکستان کی آزادی کے بعد تاج برطانیہ کے کچھ بحری جہازوں نے ایندھن اور اسلحے کے لئے کراچی کی بندرگاہ کو استعمال کرنے کی کوشش کی لیکن حکومت پاکستان نے فوری طور پر اس پر پابندی عائد کردی۔ اس فیصلے کی وجہ سے قیام پاکستان کے ساتھ ہی نیدرلینڈز کے ساتھ پاکستان کے تعلقات میں کشیدگی آگئی تھی اور 1955ءتک باہمی تعلقات میں بہتری نہ آسکی۔


آزادی کے بعد بھی پاکستان نے انڈونیشیا کی حمایت ہر سطح پر جاری رکھی۔ جب 19 دسمبر 1948ءکے روز نیدرلینڈز نے انڈونیشیا پر ایک بڑے حملے کا آغاز کیا تو اس موقع پر بھی پاکستان نے انڈونیشیا کی آزادی کیلئے لڑنے والوں کو ناصرف سفارتی مدد دی بلکہ فوجی مدد بھی فراہم کی۔ بالآخر جب 27 دسمبر 1949ءکے دن انڈونیشیا کو آزادی کا تحفہ ملا تو پاکستان میں بھی خوشی کے اس موقع پر سرکاری تعطیل کا اعلان کیا گیا۔ اس دن سے لے کر آج تک دونوں برادراسلامی ممالک کے تعلقات انتہائی خوشگوار چلے آرہے ہیں۔