امریکہ، ایران جنگ نہیں ہو گی؟

امریکہ، ایران جنگ نہیں ہو گی؟
امریکہ، ایران جنگ نہیں ہو گی؟

  


امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیونے بڑے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ امریکہ، ایران کے ساتھ جنگ نہیں کرنا چاہتا، لیکن مشرق و سطیٰ میں بحری راستوں کو جاری اور محفوظ بنانے کیلئے تمام ممکنہ اقدامات کئے جائیں گے ان اقدامات میں ڈپلو میسی /سفارتکاری بھی شامل ہے۔

مشرق وسطیٰ اقوام مغرب کے لئے ہمیشہ سے طاقت کا مرکز رہا ہے۔ برطانوی افواج نے گزشتہ صدی میں بصرہ (عراق)پر قبضہ کر کے یہاں اپنی نو آبادیات کا مرکز قائم کیا اور پھر یہاں بیٹھ کر اپنا اثرورسوخ بڑھایا لیکن جب امریکہ نے یہاں اپنا اثرورسوخ بڑھانا شرو ع کیا تو اس نے ایک سوچی سمجھی اور طویل مدتی پالیسی کے تحت یہاں عسکری اثر ورسوخ بڑھانا شروع کیا۔ ماضی کے حکمرانوں کی پالیسیوں کے برعکس امریکیوں نے یہاں تیل کی سپلائی کو صرف اپنے لئے نہیں، بلکہ دیگر اقوام کیلئے بھی یقینی بنانے کی اپروچ اختیار کی۔ تیل کی قیمت کو پست سطح پر رکھنے کی بجائے ”مناسب اور متوازن“سطح پر ر کھنے اور خطے میں دوست حکمرنوں کے اقتدار کو یقینی بنانے کی پالیسی اختیار کی۔

امریکہ نے یہ پالیسی 70کی دہائی میں نافذ کرنا شروع کی یہ اسی پالیسی کا شاخسانہ تھا کہ یہاں مشرق وسطیٰ میں استبدادی حکومتیں بشمول بادشاہتیں اور فوجی حکومتیں قائم ہوئیں۔ ان عرب حکمرانوں نے اپنے ہی عوام کو دبانے اور دباتے چلے جانے کی پالیسی اختیار کی، جسے امریکہ کی مکمل تائید حاصل رہی امریکہ کی اس پالیسی کو اشتراکی روس کی بھی تا ئید حاصل رہی۔ امریکہ، سوویت یونین اور کہیں کہیں برطانیہ نے بھی استبدادی حکمرانوں کو اپنے عوام پر ظلم ڈھانے میں معاونت کی۔ ان حکمرانوں نے عربوں میں اسلام کی بیخ کنی کے لئے نہ صرف بعث ازم (عرب نیشنل ازم) کو فروغ دیا، بلکہ عرب دنیا کی توانا آوازاخوان المسلمون کو کچلنے میں بھی کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔ اسرائیلی مظالم کے خلاف فلسطینیو ں میں کسی جہادی قوت اور تحریک کو پنپنے نہیں دیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج 70سال گزرنے کے باوجود اسرائیلی مظالم کے خلاف عربوں کی کوئی بھی موثر آواز نہیں اٹھ سکی ۔70کی دہائی میں اختیار کردہ امریکی پالیسی کے باعث مشرق وسطیٰ مسلسل غیر یقینی صورت حال کا شکار رہا ہے یہاں کی ریاستوں پر براجمان حکمرانوں کی استبدادی پالیسیوں کے با عث، عوامی ردعمل کا خوف طاری رہا۔ کبھی کبھی بغاوتیں بھی ہوئیں۔

تیل کی عالمی تجارت کا 40 فی صد مشرق وسطیٰ سے برآمد کیا جاتا ہے مجموعی طور پر 325ارب ڈالر ما لیت کا خام تیل یہاں سے دنیا کے دیگر ممالک بھجوایا جا تا ہے سعودی عرب، عراق، کویت، ایران اور اومان سمیت 15خلیجی ممالک تیل کی عالمی برآمدات کا حصہ ہیں۔ مشرق وسطیٰ سے دنیا کے اطراف برآمد کئے جانے والے خام تیل کازیادہ ترحصہ آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے تیل کے ٹینکر اوسطاََ 17.5 ملین بیرل یومیہ لے کر یہاں سے گزرتے ہیں۔ بلوم برگ ٹینکر ٹریکنگ رپورٹ کے مطابق تیل کی یہ مقدار تیل کی عالمی تجارت کے 40فی صد کے برابر ہے۔ کویت ایران، قطر اور بحرین کا 100فی صد، سعودی عرب اور عراق کا 90فی صد اور متحدہ عرب امارات کی تیل برآمدات کا 75فی صد اسی آبنائے سے ہو کر عالمی منڈی میں جاتا ہے گویا تیل کی عالمی تجارت میں مشرق وسطیٰ انتہائی اہم حیثیت رکھتا ہے۔ اور آبنائے ہرمز اس تجارت میں ریڑھ کی ہڈی کی ما نند ہے۔

آبنائے ہرمز پانی کی وی شکل پر مشمل ہے جو خلیج فارس کو بحر ہند سے ملاتی ہے اس کے شمال میں ایران، جنوب میں متحدہ عرب امارات اور عمان واقع ہیں۔ یہ مغربی سمت میں 96 میل لمبی اور 21میل چوڑی ہے۔ یہاں سے جو شپنگ لائینز نکلتی ہیں، وہ صرف 2 میل چوڑی ہیں۔ اس کی گہرائی کم ہے، جس کی وجہ سے یہاں بارودی سرنگیں نصب کرکے جہازوں کے لئے خطرات پیدا کئے جا سکتے ہیں۔ ایران یہاں زمینی میزائلوں کے ذریعے ٹینکروں پر حملہ آور ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب تک آئل ٹینکروں پر حملوں کا الزام ایران پر لگایا جا رہا ہے۔ ایران پر امریکی اقتصادی پا بندیوں نے ایرانی معیشت پر دباؤ پیدا کیا ہے ایران کی معیشت کا انحصار تیل کی برآمد پر ہے۔ ایران بظاہر تیل کی تجارت کو نشانہ بنا کر تیل کی عالمی منڈی میں قیمتوں میں اضافے کے ذریعے اپنی آمدنی بڑھا کر معاشی دباؤ گھٹا نے کی پالیسی پر گامزن دکھائی دیتا ہے۔تاریخی اعتبار سے آج تک آبنائے ہرمز کو کبھی بند نہیں کیا گیا ہے۔

یہاں سے گزرنے والے ٹینکر ز نشانہ ضرور بنتے رہیلیکن شپنگ لائنز کو بلاک نہیں کیا گیا۔ 1980-88 میں عراق ایران جنگ کے دوران، عراق نے خرج جزیرے میں واقع ایرانی آئل ٹرمینل پر حملہ کیا،تاکہ ایران جوابی کارروائی کرے اور اس طرح امریکہ اس تنازعے میں کود پڑے، لیکن ایران نے سمجھ داری کا ثبوت دیا اور جوابی کارروائی نہ کر کے امریکہ کو جنگ میں شامل کرنے کی عراقی پالیسی نا کام بنادی۔ ایسا لگتا ہے کہ اب بھی ایسا ہی ہوگا۔ گو ایران دھمکیاں لگا رہا ہے، ٹمپریچربڑ ھا رہا ہے۔ گو مگو کی صورتحال کو بڑھا وا دے رہا ہے،تا کہ تیل کی عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھیں اور ایران کی تیل سے حاصل ہونے والی وصولیوں میں اضافہ ہوسکے دوسری طرف امریکہ جاری معاملات سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔ جنگی جنون کو بڑ ھا وا دے کر عربوں پر عجمیوں کا خوف طاری کر رہا ہے۔ ایک طرف ایران پر اقتصادی پابندیاں عائد کر کے عربوں کی تسکین کا بندوبست کر رہا ہے، انہیں یقین دلا رہا ہے کہ وہ عربوں کا ہمدرد ہے۔ دوست ہے، ان کی سلامتی کا متمنی ہے، لیکن دوسری طرف اسرائیل کا سرپرست بھی بنا ہوا ہے۔

اخوان المسلون کے ساتھ مصر، عراق، اور شام کے علاوہ سعودی عرب میں جو کیچھ کیا گیا۔ وہ ہماری تاریخ کا شرمناک باب ہے۔ فلسطینیوں میں حقیقی اسلامی شعور کی بیخ کنی کی منصوبہ بندی کی گئی۔ایسی لیڈر شپ ابھرنے ہی نہیں دی گئی جو صیہونیوں یہودیوں کیلئے چیلنج بن سکے۔آج ہم دیکھتے ہیں کہ عرب ذلت اور رسوائی کا شکار ہیں۔ سعودی عرب پر پرنس محمد بن سلمان جیسی شخصیت کا قبضہ ہے وہ سعودی عرب معاشرے کو اپنے مغربی آقاؤں کے خیالات کے مطابق ڈھالنے کے لیے جو حرکتیں کر رہے ہیں۔ ان سے مسلمانوں کے سر شرم سے جھک جاتے ہیں۔تین درجن سے زائد اقوام پر مشتمل اسلامک ملٹری الاٹنس کو دیکھ لیں، اس کی کیا حیثیت ہے۔امریکہ مشرقی وسطی میں طے شدہ پالیسی کے تحت ایران کو بڑھاوا دے رہا ہے بظاہر اس کے خلاف مگر دراصل اسے عربوں کے خلاف ابھار رہا ہے تاکہ عربوں کو ڈرا دھمکا کر امریکی اسلحہ کی خریداری پر مجبور کیا جا سکے۔عربوں سے امریکی افواج کی انکے ممالک کی حفاظت کے نام پر رقوم بٹوری جا سکیں اور سب سے اہم بات عربوں کی توجہ صہیونی یہودیوں کی ان نایاک کاوشوں سے پرے رکھی جائے جو وہ تھرڈ ٹیمپل کی تعمیر کے لیے کر رہے ہیں۔سردست امریکہ اپنی کاوشوں میں کامیاب نظر آ رہا ہے۔سعودی عرب اور دیگر ممالک ایران کے خلاف مورچہ زن ہیں یہ بات طے شدہ ہے کے امریکہ ایران جنگ نہیں ہو گی لیکن سعودی عرب ایران جنگ کرا کے عربوں کو سبق سکھایا جا سکتا ہے۔ دیکھئے تاریخ ہمیں کیا دکھاتی ہے۔

مزید : رائے /کالم