محسنوں کو عزت دیں

محسنوں کو عزت دیں
محسنوں کو عزت دیں

  


الیکشن 2018ئسے قبل جماعت اسلامی کے امیر سینٹر سراج الحق نے کہا تھا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو نگران وزیراعظم بنایا جائے اور کئی ایک سیاسی رہنماؤں نے تائید بھی کی تھی۔ اور سوشل میڈیا پر اس بات کو خاصی پذیرائی بھی حاصل ہوئی اور قوم نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کوبطور نگران وزیر اعظم تقرری پر منصفانہ الیکشن کی امید ظاہر کی تھی،لیکن بدقسمتی سے ایسا نہ ہوسکا، پچھلے دنوں یہ خبر سن کر بہت دکھ ہوا کہ محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کوایک پاکستانی شہری کے طور پر آزادنہ نقل حرکت کی سہولت نہیں اور ڈاکٹر صاحب نے لاہور ہائی کورٹ میں اس حوالے سے رٹ کی ہوئی ہے تو اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہم ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب کو وہ عزت اور تکریم نہیں دے رہے جس کے وہ حق دار ہیں۔ اس پر حکومت پاکستان کوفوری نوٹس لینا چاہیے کیونکہ پوری پاکستانی قوم اس حوالے سے متفکر ہے اور وہ چاہتی ہے کہ ڈاکٹر صاحب کو ان کے شایان شان مقام دیا جائے۔

جو قومیں اپنے محسنوں کا خیال نہیں رکھتیں، ذلت و رسوائی ان کا مقدر بن جاتی ہے۔بات یہیں ختم نہیں ہوتی،کیونکہ پاکستان کو ایٹمی و میزائل قوت بنانا ڈاکٹر خان کی متنوع شخصیت کا ایک پہلو ہے، جبکہ رفاہی اور فلاحی خدمات ان کی ہمہ گیر شخصیت کا دوسرا پہلو ہے جس کے تحت ان کی زیر نگرانی کئی تعلیمی اور طبی ادارے عوامی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ طبی اداروں میں نادار اور مستحق افراد کو نا صرف طبی سہولتیں بلکہ ادویات بھی مفت فراہم کی جاتی ہیں۔ اس حوالے سے لاہور میں ڈاکٹر اے کیو خان ہسپتال خاص طور پر قابل ذکر ہے جو 24فروری 2015ء سے اب تک لاکھوں غریب مریضوں کو بغیر کسی معاوضہ کے علاج و معالجہ فراہم کررہا ہے۔ اس ہسپتال میں لیبارٹری ٹیسٹ، ایکسرے، امراض چشم اور ڈائیلسز کی سہولتیں مفت فراہم کی جارہی ہیں اور اب اس کی سات منزلہ اور تین سو بستروں پر مشتمل نئی عمارت تیزی سے تکمیل کے مراحل کی جانب گامزن ہے جہاں ہر مرض کے ماہر ڈاکٹرز غیر مراعات یافتہ اور مستحق طبقے کو اپنی طبی خدمات اور ادویات بلامعاوضہ فراہم کریں گے اس سلسلے میں مخیر اور درد مند دل رکھنے والی شخصیات سے گزارش ہے کہ وہ آگے بڑھیں اور ہسپتال کی مالی یا عمارتی مواد کی شکل میں اعانت فرمائیں۔

یہ ایک طے شدہ بات ہے کہ نئی نسل ہمیشہ اپنے محسنوں کی خدمات سے متاثر ہوتی ہے اور اس کی روشنی میں اپنے مستقبل کا لائحہ عمل مرتب کرکے ان کے نقش قدم پر چل کر ترقی کی منازل طے کرتی ہے۔ بانی پاکستان قائد اعظم محمدعلی جناح ؒ اور مفکر پاکستان علامہ اقبال کے بعد قومی خدمت کے حوالے سے تیسرا بڑا نام محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا ہے۔ ہم نے بانی پاکستان کے افکار پر عمل کرنے کے بجائے انہیں اقوال کی نظر کردیااور مفکر پاکستان علامہ اقبال ؒ کے اعلیٰ و ارفا فلسفہ خود ی کو فراموش کرکے ان کے کلام کو قوال کی نذر کر دیا۔ہم اپنی نسل کو کیا دے رہے ہیں بجائے اس کے کہ ہم اپنے قومی ہیروز کے کارنامے اور ان کی بیمثال و لازوال خدمات پر انہیں سر آنکھوں پر بٹھاتے تاکہ نئی نسل کے اذہان و قلوب میں ان جیسا بننے کی خواہش پیدا ہو اور وہ وطن عزیز کے لئے کارہائے نمایاں سرانجام دیں تاکہ ہمارا ملک بھی دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہوسکے مگر صد افسوس ایسا نہیں ہوسکا۔قومی ہیروز کو عزت دینا پاکستان کو عزت دینے کے مترادف ہے۔ محسنوں کو عزت دو پاکستان کو عزت دو۔

مزید : رائے /کالم