ریڈیو بحیثیت ایک مضبوط جنگی ہتھیار

ریڈیو بحیثیت ایک مضبوط جنگی ہتھیار
ریڈیو بحیثیت ایک مضبوط جنگی ہتھیار

  


خواتین و حضرات! ریڈیو مواصلات اور رابطے کا وہ واحد ذریعہ ہے جو ہر مقام پر اور ہر شخص تک پہنچتا ہے۔ ریڈیو تعلیم، تفریح اور اطلاع کا اہم ترین ذریعہ ہے۔ دنیا میں ہر تین افراد میں سے ایک کے پاس آج بھی ریڈیو موجود ہے جو خبریں سننے کا ذریعہ ہے۔ اب ایف ایم چینلز کے آ جانے سے اس کے سامعین میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ خبروں اور دیگر پروگراموں کے لئے آج بھی 62فیصد لوگ ایف ایم چینلز پر 40فیصد لوگ ریڈیو کے سٹیشنوں پر انحصار کرتے ہیں۔ ریڈیو منفی پروپیگنڈہ صوتی جارحیت اور جنگی ہتھیار کے طور پر بھی موثر طریقے سے استعمال میں لایا جاتا رہا ہے اور اب بھی لایا جا رہا ہے۔ ہمارے پڑوسی ملک بھارت نے ماضی میں ریڈیو کا استعمال اس مقصد کے لئے بہت زیادہ کیا ہے اور مستقبل میں کرنے کے لئے ایک موثر اور مضبوط پالیسی تیار کرلی ہے…… اور ہم چپ ہیں ……ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ ہم اپنے سکول کے زمانے سے لے کر آج تک ریڈیو باقاعدگی سے سن رہے ہیں اور اسی کے ساتھ پلے بڑھے ہیں۔

بی بی سی سے لے کر وائس آف امریکہ،ریڈیو سیلون سے لے کر آکاش وانی (آل انڈیا ریڈیو کی اردو سروس) اور پھر اپنے ریڈیو پاکستان لاہور مرکز پر ہماری گہری نظر رہی ہے۔بی بی سی کے نمائندے مارک ٹیلی، ریڈیو سیلون کے امین سیانی اور آل انڈیا ریڈیو کی اردو سروس کے شفیق بھیا کو قریب سے سنا ہے اور ان کی گفتگو کے پیچھے چھپے منفی پروپیگنڈے سے خوب واقف ہیں۔ اسی آل انڈیا ریڈیو کی اردو سروس نے 1970-71ء میں پاکستان اور افواج پاکستان کے خلاف جس شدت سے غلیظ پروپیگنڈہ کیا، اس نے مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے، جواب کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ جس کا ایک ثبوت 2012ء میں ڈھاکہ، بنگلہ دیش میں ہونے والا ”بنگلہ بندھو انٹرنیشنل کانفرنس سینٹر“ میں منعقدہ اجتماع تھا۔ اس کانفرنس میں دنیا بھر سے ان شخصیات اور اداروں کو مدعو کیا گیا تھا جنہوں نے پاکستان کو دولخت کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

اس تقریب میں آل انڈیا ریڈیو کو پاکستان تقسیم کرنے کی کوششوں میں حصہ دار ہونے کے اعتراف میں جس ڈھٹائی سے سرکاری اعزاز سے نوازا گیا، وہ اس کی ایک شرمناک مثال ہے۔بھارت آج بھی اسی پالیسی پر کار بند ہے اور پاکستان کے صوبوں کو اسی انداز میں ملک سے الگ کرنے کی ناپاک کوششوں کو اپنے ریڈیو نیٹ ورک کے ذریعے غلط اور غلیظ پروپیگنڈا پر زور و شور سے کام کر رہا ہے۔ خاص طور پر خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے صوبے، اس کے شہروں اور قصبوں تک رسائی والے پاور فل ٹرانسمیٹر لگا کر آل انڈیا ریڈیو کی نشریات پاکستان اور پاک فوج کے خلاف جھوٹی اور من گھڑت خبروں، کہانیوں، واقعات اور تبصروں کے ذریعے بڑھائی جا رہی ہیں۔ بھارت ان علاقوں کی مصنوعی محرومیوں اور پاک فوج کی جھوٹی وارداتوں کے افسانے نشر کرکے لوگوں کو بدگمان اور ملک سے متنفر کر رہا ہے۔چونکہ بھارت کو علم ہے کہ وہ پاک فوج کا مقابلہ نہیں کر سکتا کہ اس کے پاس بھی جدید جنگی سامان ہے اور وہ بھی ایک ایٹمی طاقت ہے۔ سب سے بڑھ کر وہ پاک فوج اور پاکستان کے عوام کے جذبہ حب الوطنی اور جذبہ جہاد و شوق شہادت سے بخوبی واقف ہے، لہٰذا اس نے ہمارے خلاف صوتی جارحیت کو ہی واحد کامیاب ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کی ہے، جس کے ذریعے اس نے ماضی میں کامیابی حاصل کی اور مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ بھارت کی اس صوتی جارحیت پر ایک تحقیقی اور جامع مضمون روزنامہ ”ایکسپریس“ میں بعنوان ”بھارت کی صوتی جارحیت کے سامنے پاکستان بے دست و پا کیوں“؟ شائع ہوا، رائٹر نے بڑی محنت اور تحقیق سے لکھا ہے جو قابلِ مطالعہ ہے۔ بالخصوص ہمارے سیاسی رہنما، حکمران، محکمہ تعلقات عامہ، پاک فوج اور بیورو کریسی کے پڑھنے اور اس کی روشنی میں ریڈیو پاکستان کی پالیسی پر نظرثانی کرنے کی بھی ضرورت ہے۔

بڑے دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ بھارت کی پاکستان پر صوتی یلغار کے مقابلے میں ہم نے نہ صرف کوئی تیاری نہیں کی، بلکہ موجودہ ریڈیو نیٹ ورک کو کم سے کم کیا جا رہا ہے، جسے آپ ایک مجرمانہ غفلت اور قصداً لاپرواہی کہہ سکتے ہیں۔ حکومت کے خیال میں ریڈیو اب اہم نہیں رہا۔ یہی وجہ ہے کہ ریڈیو پاکستان کے اعلیٰ افسران کے بورڈ کے ایک اجلاس منعقدہ اسلام آباد، 20مارچ کی کارروائی ایک اخباری سرکلر کے طور پر ایشو کی گئی جو 13مئی کے اخبارات میں شائع ہوئی۔ اجلاس میں اعلیٰ افسران کو بتایا گیا کہ ریڈیو پاکستان مالی بحران کا شکار ہے اور آپریشنل اخراجات، سٹاف کی تنخواہوں اور پنشن وغیرہ ادا کرنے کے بعد بمشکل پورے ہوتے ہیں۔ بہت سے ٹرانسمیٹر اور اسٹوڈیو کے آلات اپنی مدت پوری کرنے کے بعد ناکارہ ہو چکے ہیں۔ ان کے تدارک کے لئے ریڈیو کے پاس فنڈز موجود نہیں۔حکومت پاکستان کی ریڈیو کے شعبے میں عدم دلچسپی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ بجائے اس کے کہ مذکورہ بالا ضروریات ہنگامی سطح پر پوری کی جاتیں۔حکومت نے بعض ریڈیو اسٹیشن بند کرنے اور بعض کو Rebroadcasting اور Relay stations میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان میں ریڈیو اسٹیشن میانوالی (وزیراعظم کا شہر)، لاہور میڈیم ویو، پی بی سی براڈکاسٹنگ ہاؤس راولپنڈی۔iii،سنٹرل پروڈکشن یونٹ لاہور،کراچی اور پاکستان براڈ کاسٹنگ اکیڈمی اسلام آباد شامل ہیں، جبکہ ریڈیو پاکستان مِٹھی، بھٹ شاہ، سرگودھا اور ایبٹ آباد کو ری براڈکاسٹنگ یا ری لے (Relay) سٹیشنوں میں تبدیل کرنے کی تجویز ہے۔

خواتین و حضرات! جہاں تک ریڈیو پاکستان لاہور سٹیشن کا تعلق ہے تو یہ اب بسترِ مرگ پرہے اور آخری سانسیں لے رہا ہے۔ اس کا میڈیم ویو 630کلو ہارٹس تقریباً ناکارہ ہو چکا ہے۔ جو صرف ریڈیو سٹیشن کی حدود تک ہی سنا جا سکتا ہے۔ لاہور ریڈیو اب لاہور میں صاف نہیں سنا جا سکتا اور بعض علاقوں میں بالکل نہیں سنا جاتا۔اسی طرح لاہور ریڈیو کی نشریات FM چینل پر بھی بڑی مشکل سے سنی جاتی ہیں، کیونکہ اس کے دائیں بائیں کے چینلز اتنے پاور فل ہیں کہ یہ ان میں دب کر رہ گیا ہے۔ ریڈیو لاہور، جو پاکستان کی پہچان، علم و ادب کا گہوارہ، ثقافت و معاشرت کی ترویج کا مرکز ،خاص طور پر ڈرامے کے فروغ میں کلیدی حیثیت رکھتا تھا،اب جاں بلب ہے۔ ڈرامہ ختم ہو چکا ہے، لکھاری اور صدا کار رخصت ہو چکے ہیں اور پروگراموں کا بجٹ ختم کر دیا گیا ہے،جبکہ انتظامیہ اور بجٹ / اکاؤنٹس کے شعبے میں خطیر رقم خرچ کی جا رہی ہے۔موجودہ ارباب اختیار کے نزدیک ریڈیو کی جگہ سوشل میڈیا زیادہ اہمیت رکھتا ہے، جو ایک مفروضہ ہے۔ سوشل میڈیا اب ہر شخص کے اختیار میں ہے کہ اس پر کوئی بھی خبر، خیالات، تبصرے، ویڈیو اور من گھڑت کہانیاں لوڈ یا پوسٹ کر دے۔ یہ میڈیم غیر سنجیدہ اور غیر معتبر ہے، کسی بھروسے اور حوالہ کے لئے ناقابل یقین ہے۔

اس کے برعکس بھارت نے اپنے ریڈیو نیٹ ورک کو بہت پاور فل اور وسیع کر لیا ہے اور 1970-71ء میں یہ صوتی ہتھیار دوبارہ استعمال کرنے کی حکمتِ عملی اور منصوبہ بندی طے کر لی ہے۔ بالخصوص پاکستان کے ساتھ اپنی سرحدوں پر نئے اور طاقتور ٹرانسمیٹر نصب کر رہا ہے۔ پاکستان کے ساتھ ملحقہ تین ریاستوں راجستھان، گجرات اور مقبوضہ کشمیر میں آل انڈیا ریڈیو کے 183سٹیشن اور 105ٹرانسمیٹر کام کر رہے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں جاری آزادی کی تحریک کو دبانے اور آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور دیگر پاکستانی علاقوں میں اپنا گمراہ کن پروپیگنڈہ کرنے کے لئے سرکاری ریڈیو کے نیٹ ورک میں اضافہ کرلیا ہے اور اسے مضبوط تر بنانے میں مصروف ہے، جبکہ ہمارے ہاں اس کے بالکل برعکس کام ہو رہا ہے۔یعنی لاہور جیسے میڈیم ویو سٹیشن کو ختم کرنے کی سازش ہو رہی ہے۔ یاد رہے کہ ابلاغ عامہ کا موثر ترین ذریعہ ریڈیو آج کے دور میں کسی بھی مہلک جنگی ہتھیار سے کم نہیں۔ علاوہ ازیں بھارتی پنجاب میں آل انڈیا ریڈیو کے 18اسٹیشن کام کر رہے ہیں اور تمام صاف اور واضح سنے جا سکتے ہیں۔ اگر آپ میڈیم ویو پر ریڈیو کی سوئی گھماتے جائیں تو آپ کو تمام اسٹیشن انڈیا کے ملیں گے۔ لاہور نمبر۔2یعنی نیوز چینلز ڈھونڈے سے نہیں ملے گا اور اگر ٹیون ہو بھی گیا تو صاف سنائی نہیں دے گا۔

خواتین و حضرات! آج ریڈیو ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں ہر جگہ سنا جاتا ہے۔ یونیسکو کی 2015ء کی ایک رپورٹ کے مطابق ترقی پذیر ممالک میں 43فیصد اورترقی یافتہ ممالک میں 56فیصد لوگ روزانہ ریڈیو کے ذریعے خبریں سنتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی صدر اپنا عوام سے خطاب ریڈیو پر کرتے ہیں جو ہر ماہ ہوتا ہے۔ قابل توجہ بات یہ بھی ہے کہ پاکستان میں اعلانیہ اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور بیشتر علاقوں میں بجلی مہیا نہ ہونے کے باوجود ریڈیو تک سب کی رسائی ہے اور خبریں و موسیقی کے پروگرام سنے جاتے ہیں۔ اسی ریڈیو کے ذریعے بھارت کے پاکستان اور پاکستانی افواج کے خلاف منفی پروپیگنڈے کا موثر جواب دیا جا سکتا ہے۔ ماضی میں ریڈیو لاہور کے دو پروگرام، اشفاق احمد کا ”تلقین شاہ“ اور نظام دین کا پنجابی پروگرام ”جمہور دی آواز“ بھارتی عوام، افواج اور حکومت کی نیندیں اڑانے کے لئے کافی تھے۔ مشرقی پنجاب میں سکھوں کے لئے نشر کیا جانے والا پروگرام ”پنجابی دربار“ ان علاقوں میں بڑی توجہ سے سنا جاتا تھا، لیکن کیا کِیا جائے جب لاہور ریڈیو کی نشریات شملہ پہاڑی اور ایمپرس روڈ سے آگے سنی ہی نہیں جا سکتیں تو یہ مشرقی پنجاب کو کیونکر خالصتان میں بدلنے میں اپنا کردار ادا کر سکتی ہیں۔

حکومت کے نزدیک چونکہ ریڈیو کا ادارہ کماتا نہیں، اس لئے یہ سرکاری خزانے پر بوجھ ہے تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ سرکاری تعلیمی ادارے، ہسپتال، پولیس اور بہت سے دوسرے ادارے کیا کما کر دے رہے ہیں،جن پر سرکاری بجٹ کا اچھا خاصا حصہ صرف ہوتا ہے۔ ان اداروں کا کام قوم بنانا ہے، ملک میں امن اور عدل و انصاف قائم کرنا ہے۔ ریڈیو تو ملک کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کا محافظ ہے۔ دنیا میں کہیں بھی ریڈیو کا کام کمرشل یا بزنس حاصل کرنا نہیں۔ حکومت نے پاکستان ٹیلی ویژن کے مردہ گھوڑے میں جان ڈالنے کے لئے قوم پر بجلی کے بلوں میں بلا امتیاز 35روپے ماہانہ وصول کرکے اسے زبردستی زندہ رکھا ہوا ہے۔ ریڈیو کے لئے کوئی فعال پالیسی کیوں نہیں بنائی جا سکتی، جبکہ یہ حکومت کی واحد آواز ہے جو ہر جگہ پہنچائی جا سکتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بھارت کی صوتی جارحیت کا جواب دینے کے لئے ریڈیو پاکستان کو مضبوط سے مضبوط تر اور اس کی نشریات کو وسیع سے وسیع تر کیا جائے۔

مزید : رائے /کالم