اسمبلی بنی اکھاڑہ

اسمبلی بنی اکھاڑہ
اسمبلی بنی اکھاڑہ

  


چشم فلک بہت سے نئے تماشے دیکھ رہی ہے جو پہلے کبھی دیکھے نہ سنے…… مثلاً عملاً قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر بے بس و بے اختیار ہو چکے ہیں، اسمبلی چلانا ان کے لئے ممکن ہی نہیں رہا، انہیں اجلاس ملتوی کرنے کے سوا دوسرا کوئی آپشن نظر ہی نہیں آتا۔ خیر اس سے بھی بڑا تماشہ یہ ہو رہا ہے کہ اپوزیشن تو رہی ایک طرف،حکومتی بنچوں سے اپوزیشن کے رہنماؤں کو تقریر نہیں کرنے دی جا رہی۔ اب یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے یہ شرط رکھ دی ہے کہ اگر انہیں اسمبلی میں خاموشی سے سنا جائے گا تو اپوزیشن لیڈر بھی تقریر کر سکیں گے۔ وگرنہ انہیں بولنے نہیں دیا جائے گا۔ یہ ”نہلے پہ دہلا“ کبھی اس سے پہلے نہیں مارا گیا۔ دراصل گزشتہ دس ماہ کے عرصے میں اپوزیشن نے بھی یکطرفہ ٹرین چلائی، اپنی تقریریں کر کے حکومتی باری پر شور شرابہ اور بائیکاٹ کرنا بھی معمول بنا چکی ہے۔ اب ایسے میں ”تنگ آمد بجنگ آمد“ کے مصداق وزیر اعظم نے ذرائع کے مطابق تحریکِ انصاف کے وفد اور ارکان اسمبلی کو یہ ٹاسک دیا ہے کہ وہ اسمبلی میں شہباز شریف سمیت کسی کو نہ بولنے دیں۔ پہلے یہ شرط رکھیں کہ وزیر اعظم جب خطاب کریں گے تو مکمل خاموشی سے سنا جائے گا۔ ارے بابا پہلے تو یہ کام اسپیکر کا ہوتا تھا، اب اسے بھی ہائی جیک کر لیا گیا ہے، کیا اسپیکر اتنے ہی بے بس اور کمزور ہیں۔ ان سے تگڑے تو چودھری پرویز الٰہی ہیں جنہوں نے مسلم لیگ (ن) کے تین ارکانِ اسمبلی کو شور شرابے پر پنجاب اسمبلی سے نکال دیا تھا اور اپوزیشن بھی معطل کر دی تھی۔ اسد قیصر کے سامنے تو روزانہ احتجاج ہوتا ہے، گھیراؤ کیا جاتا ہے، مگر وہ کچھ نہیں کر پاتے، البتہ اجلاس ملتوی کر کے چیمبر میں چلے جاتے ہیں۔

یہ سب کچھ بجٹ اجلاس کے موقع پر ہو رہا ہے۔ جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ تاریخ کا بدترین بجٹ پیش کیا گیا ہے۔ اگر واقعی بدترین پیش کیا گیا ہے تو پھر اس پر بحث بھی تو کرنی چاہئے، اس کے بد ترین ہونے کے حقائق سامنے آنے چاہئیں، مگر یہاں تو شہباز شریف بھی بات اس نکتے سے شروع کرتے ہیں کہ عمران خان سے زیادہ جھوٹا شخص انہوں نے زندگی میں نہیں دیکھا یہ کون سی بحث کا آغاز ہے اور اس کا بجٹ سے کیا تعلق ہے؟ کیا یہ حقیقت واضح نہیں ہو چکی کہ دونوں طرف سے شخصیات پر شخصی حملے ہوتے ہیں اور دونوں طرف سے احتجاج بھی ہوتا ہے۔ کیا ہماری لغت اب یہی رہ گئی ہے کہ ملک کے معزز ترین ادارے میں ایک دوسرے کو گالیاں دی جائیں، بُرا بھلا کہا جائے اور کئی کئی دن گزر جائیں اسمبلی میں بات تک نہ ہو سکے۔

یہ تو وہ ایوان ہے جس نے آئین کی اس شق کا دفاع کرنا ہے، جس میں آزادیء اظہار کی ضمانت دی گئی۔ اگر حکومت و اپوزیشن میں یہ مقابلہ شروع ہو جاتا ہے کہ کسی کو بولنے نہیں دینا تو پھر اس اسمبلی کے وجود کا جواز کیا رہ جاتا ہے؟ قائد ایوان کی بہر حال ایک حیثیت ہوتی ہے۔ اس کی بات سننی چاہئے تاکہ اصل حقائق سامنے آئیں، مگر ایوان میں کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی جب وزیر اعظم عمران خان خطاب کرتے ہیں۔ سب کو وہ منظر بھی یاد ہے جب عمران خان وزیر اعظم منتخب ہوئے تھے اور انہیں کانوں پر ہیڈ فون چڑھا کر بولنا پڑا تھا۔ انہونیاں تو مسلسل ہو رہی ہیں اور انہی کی وجہ سے حالات دن بدن دگرگوں ہوتے جا رہے ہیں اب باقاعدہ نظام کے تحت وزیر اعظم بننے والے کو اگر کٹھ پتلی وزیر اعظم، جعلی وزیر اعظم، مسلط کردہ وزیر اعظم کہا جائے گا تو ایوان کیسے چلے گا؟

شہباز شریف اسی ایوان میں ڈیڑھ ڈیڑھ گھنٹے کی تقریر کرتے رہے ہیں اور ان کی عمران خان پر تنقید پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی اور وزیر مشیر خاموشی سے سنتے رہے ہیں، لیکن جواب میں مسلسل بائیکاٹ یا پھر اتنا شور شرابہ کرنے کی روایت ڈالی گئی کہ دوسرا بول ہی نہ سکے۔ ظاہر ہے حزب اقتدار بھی پھر اسی طرح کا جواب دینے کے لئے میدان میں آ گئی ہے۔ اب پانسہ ایسا پلٹا ہے کہ اپوزیشن زچ ہو گئی ہے۔بجٹ پر اگر بحث نہیں ہوتی تو حکومت کو کیا فرق پڑے گا؟ البتہ اپوزیشن اس الزام کی زد میں ضرور آئے گی کہ اس نے بجٹ کے بارے میں کوئی ٹھوس تجاویز نہیں دیں اور حکومت کو بجٹ پاس کرنے کے سلسلے میں کسی دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑا……کبھی اخبارات یہ سرخیاں جماتے تھے کہ اسمبلیاں اکھاڑہ بن گئیں، حالانکہ کبھی کبھار کوئی واقعہ ہو جاتا تھا، جس کی وجہ سے اسمبلی کے اندر ہلچل مچتی تھی اور معاملہ چند گھنٹوں میں سلجھا لیا جاتا تھا، اب تو الجھن کا کوئی حل ہی نہیں نکل رہا۔ دس ماہ سے زائد گزر گئے ہیں پارلیمینٹ سچ مچ کا اکھاڑہ بنی ہوئی ہے، روزانہ ارکان اسمبلی ایک دوسرے سے الجھتے ہیں، سپیکر کے ڈائس کا گھیراؤ کرتے ہیں، چور چور کے نعرے لگتے ہیں، ڈاکو ڈاکو کی صدائیں سنائی دیتی ہیں۔ یہ سب کام پارلیمینٹ کے نہیں،مگر ہو رہے ہیں اور پارلیمینٹ کا جو حقیقی کام ہے،یعنی قانون سازی یا عوام کی بہتری کے لئے اقدامات،ان کا کہیں کوئی اتہ پتہ دکھائی نہیں دیتا۔ صورت حال اتنی خراب ہے کہ مسلم لیگ (ن)، پیپلزپارٹی، جمعیت العلمائے اسلام اسمبلی سے مایوس ہو کر سڑکوں پر آنا چاہتی ہیں۔ ایک مضبوط اور شفاف جمہوری فورم گالم گلوچ کا استعارہ بن چکا ہے۔

کوئی زمانہ تھا کہ ایک تیل ڈالتا تو دوسرا بجھا دیتا تھا۔ اپوزیشن بولتی تھی تو حزب اقتدار کی طرف سے مدلل جوابات دیئے جاتے تھے، مگر وہ زمانے خواب و خیال ہوئے، اب تو نشانے باندھ کر مورچوں میں بیٹھے ہیں، ذرا سی بات ہوتی نہیں کہ توپوں کا رخ عملاً کسی جواز کے بغیر حزب اقتدار یا پھر حزب اختلاف کی طرف کر دیا جاتا ہے۔ ایسے حالات میں عوام کی اپوزیشن کے ساتھ ہمدردیاں بڑھ جاتی ہیں،مگر یہاں معاملہ دوسرا ہے۔ پہلے دن اپوزیشن نے جو رویہ اختیار کیا اور اسے اب تک برقرار رکھا ہوا ہے، اس نے عوام پر اچھا تاثر نہیں چھوڑا۔ بائیکاٹ یا اسمبلی کے اندر احتجاج ایک دو دن کے لئے ہوتا ہے، مسلسل ایک ہی بات کو دہرانے سے معاملہ مشکوک بھی ہو جاتا ہے۔

اب اس کے جواب میں حکومتی ارکان علی الاعلان کہہ رہے ہیں کہ وہ کسی کو نہیں بولنے دیں گے۔ ایسے میں اسمبلی تو پھر پہلوانی اکھاڑے سے بھی زیادہ بے ترتیب ہوگی، جہاں سیاسی مخالفت کی گرد اڑ رہی ہے اور جنگ و جدل کا بگل بجا ہوا ہے۔ اسمبلی کو مل جل کر اکھاڑا بنانے والے نجانے کیا چاہتے ہیں۔ حکومت تو صرف یہ چاہتی ہے کہ کسی طرح بجٹ کی منظوری مل جائے۔ اس کے بعد اس کی مجبوریاں ختم ہو جائیں گی، لیکن حزب اختلاف، یعنی مشترکہ اپوزیشن اس کے بعد کیا کرے گی؟ ہر چیز کی ایک خبریت اور اہمیت ہوتی ہے۔ یہ ختم ہو جائیں تو پہاڑ بھی ٹوٹ پڑے تو معمول کی کارروائی سمجھی جاتی ہے۔ اپوزیشن کے پاس ایک ہی ہتھیار ہوتا ہے کہ وہ اسمبلی کے اندر بولے اور اتنا بولے کہ حزب اقتدار کو دن میں تارے نظر آجائیں۔ اگر حکومت اپنے ارکان کے ذریعے اپوزیشن کی زبان بندی کر دے تو اس کی آواز کیسے سنائی دے گی۔ پہلے بھی انہی کالموں میں اپوزیشن کو مشورے دیئے گئے تھے کہ وہ نظام کو چلنے دے۔ نظام چلتا رہے گا تو بہتری کی گنجائش بھی نکل آئے گی، مگر لگتا ہے کہ وہ ہر قیمت پر حکومت گرانا چاہتی ہے، یہ جنون کہیں اور بھی لے جا سکتا ہے، کچھ اور بھی گر سکتا ہے، مثلاً: جمہوری نظام جواب ڈگمگانے لگا ہے۔

مزید : رائے /کالم