امریکہ، ایران سے جنگ کے بہانے ڈھونڈ رہا ہے!

امریکہ، ایران سے جنگ کے بہانے ڈھونڈ رہا ہے!
امریکہ، ایران سے جنگ کے بہانے ڈھونڈ رہا ہے!

  


ایک طرف ہم پاکستانی ہیں کہ خود ہی سے دست و گریبان ہیں، آپس میں جنگ کے بہانے ڈھونڈ رہے ہیں، کبھی کہتے ہیں بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے اور کبھی کسی چلے ہوئے مذہبی کارتوس کے ذمے یہ فریضہ سونپتے ہیں کہ آل پارٹیز کانفرنس بلاؤ تاکہ فیصلہ کریں کہ موجودہ حکومت رہے گی یا اسے گھر بھیج دینا چاہیے۔ ان کا فرمانا ہے کہ وقت آ گیا ہے کہ پی ٹی آئی کی بساط لپیٹ دی جائے…… اینف اِز اینف!……وغیرہ وغیرہ……

دوسری طرف واحد عالمی سپرپاور ہے جو آئے روز ایران پر چڑھائی کے بہانے ڈھونڈتی ہے۔ اس کے صدر نے آتے ہی اوائل 2017ء میں شیر ببر بننے کے لئے دھاڑنا شروع کر دیا تھا۔ کبھی شمالی کوریا کو ملیا میٹ کرنے کا ارادہ فرمایا تو کبھی ایران کے جوہری معاہدے سے نکل جانے کا عزم ظاہر کیا۔ پھر پاکستان کی طرف توجہ فرمائی اور ہمارے ازلی دشمن بھارت کو اس خطے کا ’چودھری‘ بننے کا سرٹیفکیٹ دے دیا…… لیکن یہ دھاڑ جلد ہی میاؤں میں تبدیل ہو گئی۔…… شمالی کوریا نے مزید ایٹمی دھماکے کر دیئے، مزید رینج والے بین البراعظمی میزائلوں کے تجربے شروع کر دیئے اور دعویٰ کیا کہ امریکی مین لینڈ کا ہر شہر، ہر قصبہ اور ہر قریہ شمالی کورین میزائلوں کی زد پر ہے۔ اور ان میزائلوں کے اندر جوہری وارہیڈز بھی ہوں گے۔ امریکی سیانوں نے صدر کو مشورہ دیا کہ حضور دھمکیاں چھوڑ دیں اور بات چیت کی طرف جائیں، بڑیں ہانکنے کی بجائے حقیقت کا سامنا کریں۔ کل کلاں اگر کِم ال سنگ نے واقعی لاس اینجلز کا رخ کر لیا تو ہمارا کیا بنے گا؟…… چنانچہ مذاکرات کئے گئے، اور ان کے ’پردے‘ میں پسپائی اختیار کی گئی۔

پھر پاکستان کی جانب باگ موڑی۔ ہماری سول اور فوجی امداد بند کر دی، ہمارے فوجیوں کو اپنے عسکری تربیتی اداروں میں ٹریننگ دینے سے انکار کر دیا اور انڈیا کو چتاونی دی کہ لائن آف کنٹرول کا قصہ ختم کرو اور جا پڑو بالاکوٹ پر…… انڈین وایوسینا کے سورمے بالاکوٹ پر آئے، اور نجانے پاک فضائیہ کی سکریمبلنگ دیکھی یا کچھ اور کہ ”دہشت گردوں کی تربیت گاہ“ کی بجائے درختوں کے ایک جھنڈ کو نشانہ بنایا، دم دبائی اور بھاگ گئے۔واپس جا کر ڈینگ ماری کہ بالاکوٹ فتح کر آئے ہیں اور اپنا کوئی نقصان نہیں کروایا۔ انڈین وایوسینا کے سینا پتی نے خوش ہوکر اگلا فرمان جاری کیا کہ اب رات کی تاریکی کی بجائے، دن کی روشنی میں ایل او سی کراس کرو اور پاکستانیوں کو سبق سکھا دو…… بے چاروں کو کیا پتہ تھا کہ پاکستانیوں کو سبق سکھانا ہے یا ان سے سبق سیکھنا ہے!…… چنانچہ اپنے دو طیارے ضائع کروائے…… کوئی اِدھر گرا، کوئی اُدھر گرا…… ایک بھارتی سورما کرنل کو بھی گرفتار کر لیا گیا اور عالمی میڈیا پر ہاہا کار مچ گئی۔ مہاگوروٹرمپ نے سرزنش کی کہ مودی جی یہ کیا کیا؟ مودی نے فرمایا کہ بالاکوٹ پر حملہ اس لئے کامیاب نہ ہو سکا کہ آسمان پر بادل چھائے ہوئے تھے اور راڈار کی آنکھ ان بادلوں کے ’پار‘ نہیں دیکھ سکتی تھی اس لئے ٹارگٹ مِس (miss) ہو گیا اور جہاں تک ہمارے اَبھی نندن کا سوال ہے تو جنگ میں ”آگے پیچھے“ اور ”پکڑ دھکڑ“ تو ہوتی ہی رہتی ہے…… کئی جاننے والے کہتے ہیں کہ انڈیا کی طرف سے دوسری جنگ عظیم میں پرل ہاربر کا حوالہ بھی امریکیوں کو یاد دلایا گیا۔

شمالی کوریا اور پاکستان سے ”نمٹنے“ کے بعد ٹرمپ مہاراج ایران کی طرف متوجہ ہوئے۔ اپنے طیارہ برادر، بدنامِ زمانہ کارپٹ بمباری والے بی۔52 اور ائر ڈیفنس میزائل (Patriot) کی بیٹریاں خلیج فارس میں بھیج دیں۔ خیال تھا کہ ایرانی خود کو محصور پا کر ”ہوش“میں آ جائیں گے لیکن ایرانی تو اور بھی اکڑ گئے۔ شمالی کورین اور پاکستانی رسپانس دیکھ کر انہوں نے بھی مزاحمتی کارروائیاں تیز کر دیں۔ ابھی کل ہی ایران کی طرف سے اعلان کیا گیا ہے کہ: ”ہم امریکیوں کو دس دن کی مہلت دیتے ہیں۔ اس کے بعد یورینیم کی ذخیرہ اندوزی کی وہ حد کراس کر جائیں گے جس کا ذکر 2015ء والی نیوکلیئر ڈیل میں کیا گیا تھا“۔

یہ ڈیل ایران اور اقوام متحدہ کے باقی پانچوں مستقل اراکین (امریکہ، برطانیہ، روس، چین، فرانس) کے درمیان ہوئی تھی اور اس میں ایک نان نیو کلیئر ملک (جرمنی) یعنی ”ہریلوکٹے“ کو بھی شامل کر لیا گیا تھا…… اور اس گروپ کو 5+1 کا نام دیا گیا تھا:

جو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرے

بعد میں آخر مہاراج ٹرمپ اس ڈیل سے باہر نکل ہی گئے، ایرانی تیل کی برآمد پر پابندیاں لگا دیں اور سپاہِ پاسدارانِ انقلاب (IRGC)کو ایک دہشت گرد تنظیم ڈکلیئر کر دیا…… اللہ اللہ خیر سلا……

اس معاہدے کی رو سے ایران جو اس وقت (2015ء میں) اپنی یورینیم افزودگی کو موجودہ شرح 3.7% پر منجمد کرنے کو تیار ہو گیا تھا (ویپن گریڈ افزودگی کی حد 90% ہوتی ہے) اور اس افزودہ یورینیم کا ایک بڑا حصہ اور نیز بھاری پانی کی خاصی مقدار بھی بیرونی ممالک کو فروخت کرنے پر رضامند ہو گیا تھا، اب وہی ایران ’تنگ آمد بجنگ آمد‘ کے لئے تیار بیٹھا ہے۔ اس ڈیل کے یورپی شرکا(فرانس، برطانیہ اور جرمنی) بظاہر امریکہ کا ساتھ نہیں دے رہے۔ان کا موقف ہے کہ وہ اس دس سالہ ڈیل کے حق میں ہیں لیکن ایران کو یہ بھی معلوم ہے کہ یہ سب اندرسے ایک ہیں۔ صرف چین اور روس البتہ ابھی تک چپ ہیں لیکن ان کا ری ایکشن دیکھنے کا موقع ابھی نہیں آیا…… یہ تو جب ایران۔ امریکہ ٹاکرا شروع ہو گا تو تب یہ دونوں ممالک اپنے اپنے کارڈ شو کریں گے!

اپنی طرف سے امریکہ دھیرے دھیرے اس جنگ کی طرف بڑھ رہا ہے۔ وہ محض بہانے ڈھونڈ رہا ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد اس کا ملٹری کلچر یہ رہا ہے کہ وہ ناٹو کو ساتھ لے کے چلتا ہے۔ لیکن اس قسم کی جنگی صورت حال کہ جو آج ایران اور امریکہ کے درمیان ہے اس میں NATO کی شمولیت فی الحال غیر یقینی ہے۔ اور امریکہ کو معلوم ہے کہ اگر یورپ، اس جنگ میں ایران کے خلاف اس کا ساتھ نہیں دیتا تو یہ مساوات معکوس ہو کے رہ جائے گی۔ روس اور چین بھی ایک طرح کی مضطرب دلچسپی سے سارے منظر کے تماشائی بنے ہوئے ہیں۔

گزشتہ ہفتے خلیج عمان میں تیل کے دو ٹینکروں پر حملہ ہو گیا تھا اور ان میں آگ لگ گئی تھی۔ تاہم آگ پر جلد قابو پا لیا گیا اور عملے کو بحفاظت نکال لیا گیا۔ امریکہ نے فوراً اس حملے کا ذمہ دار ایران کو ٹھہرایا لیکن ایران نے سختی سے تردید کر دی۔ امریکی فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان ٹینکروں کو ان بحری بارودی سرنگوں کی وجہ سے آگ لگی ہے جو ایران نے خلیج عمان میں لگا رکھی ہیں۔ لیکن سیٹلائٹ تصاویر یہ ظاہر کرتی ہیں کہ ٹینکروں کو میزائل (یا مارٹر) مار کر تباہ کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ یہ تصاویر فی الحال پردۂ اخفاء میں رکھی گئی ہیں۔ لیکن ٹینکروں کے جاپانی مالکان نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے آئل ٹینکر کسی سمندری مائن سے نہیں بلکہ میزائل سے ہٹ (Hit) کئے گئے اور ایران کا اس خلیج میں کوئی ایسا میزائلی اڈہ بھی نہیں کہ جہاں سے ان آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا جا سکے……

اور یہ بہانہ، امریکہ کے لئے نیا نہیں ……آج سے 55برس پہلے لنڈن جانسن امریکی صدر تھے۔ ان کے دور میں ویت نام کے دو حصے تھے۔ شمالی ویت نام پر کمیونسٹوں کا قبضہ تھا اور جنوبی ویت نام امریکہ کے زیر اثر تھا اور امریکی بحری اور بری افواج جنوبی ویت نام میں مقیم رہا کرتی تھیں بالکل اسی طرح جس طرح آج جنوبی کوریا میں ہیں۔نقشے پر دیکھیں تو ویت نام کے شمالی حصے میں ایک خلیج واقع ہے جسے خلیج ٹان کن (Gulf of Tonkin) کہا جاتا ہے…… خلیج (Gulf) پانی کا وہ حصہ ہے جس کے تین اطراف میں خشکی ہو اور وہ ایک طرف سمندر سے ملا ہوا ہو جیسے خلیج فارس، خلیج بنگال اور اس طرح کی سینکڑوں دوسری خلیجیں …… یہ جغرافیائی اصطلاح ”جزیرہ نما“ کا الٹ ہے۔ جزیرہ نما خشکی کے اس بڑے ٹکڑے کو کہا جاتا ہے جس کی تین اطراف پانی سے گھری ہوئی ہوں اور چوتھی کسی براعظم سے ملحق ہو……

اگست 1964ء میں ویت نام کی اس خلیج ٹان کن میں“ایک امریکی تباہ کن بحری جہاز (ڈسٹرائر)پر میزائل حملہ کر دیا گیا تھا۔ امریکہ تو پَر تول رہا تھا کہ کوئی موقع ہاتھ آئے اور وہ ویت نام پر حملہ کرکے اس پر قبضہ کرے یا اس کو کمیونسٹ غلبے سے نکال کر اپنے غلبے میں لے آئے۔ اس حملے کی باقاعدہ انکوائری کرائی گئی اور ثابت کیا گیا کہ یہ حملہ واقعی شمالی ویت نامیوں نے کیا یا کروایا ہے۔ کچھ دیر تک یہ کشیدگی جاری رہی اور آخر ستمبر 1965ء وہ جنگ شروع ہوئی جس کو ’ویت نام کی جنگ‘ کہا جاتا ہے۔ یہ ایک نہائت خوں آشام اور خونریز جنگ تھی جو 1973ء کے بعد تک بھی جاری رہی اور جس میں ہزاروں لاکھوں ویت نامی (دونوں اطراف کے) مارے گئے۔ اس کی ہولناکی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس میں 60ہزار امریکی ٹروپس موت کے گھاٹ اتر گئے اور لاکھوں معذور اور اپاہج ہو گئے…… دوسری عالمی جنگ کے بعد جانی نقصانات کے حوالے سے یہ جنگ، امریکہ کے لئے سب سے مہنگی جنگ تھی۔ بعد میں ثابت ہوا کہ خلیج ٹان کن میں امریکی بحری جنگی جہاز پر میزائل / مارٹر حملہ ہوا تھا جو خود امریکی CIA نے کروایا تھا تاکہ شمالی ویت نام پر حملہ کیا جا سکے!

آج پھر امریکی جسم میں خارش ہو رہی ہے اور لگتا ہے کہ اس نے خلیج عمان میں خلیج ٹان کن کے اعادے کا ارادہ کر لیا ہے۔اس سلسلے کی تازہ ترین خبر یہ ہے کہ امریکی وزارتِ دفاع نے مشرق وسطیٰ میں 1000مزید امریکی ٹروپس بھیج دیئے ہیں۔ امریکی سنٹرل کمانڈ کا ”آرڈر آف بیٹل“ دیکھیں تو حیرت ہوتی ہے کہ ایران کے مقابلے کے لئے ایک ایرانی کے مقابلے میں ایک سو امریکی ٹروپس صف بند کر دیئے گئے ہیں۔ ایران لاکھ کہتا رہے کہ اس نے ان آئل ٹینکروں پر حملہ نہیں کیا لیکن امریکہ نہیں مانتا:

دیکھئے اس بحر کی تہہ سے اچھلتا ہے کیا

مزید : رائے /کالم