نالائق ٹیم کی وجہ سے پوری قوم وینٹی لیٹر پر ہے،بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے:سینیٹر سراج الحق

نالائق ٹیم کی وجہ سے پوری قوم وینٹی لیٹر پر ہے،بجٹ پاس نہیں ہونے دیں ...
نالائق ٹیم کی وجہ سے پوری قوم وینٹی لیٹر پر ہے،بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے:سینیٹر سراج الحق

  


اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے بجٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہاہے کہ نالائق ٹیم کی وجہ سے پوری قوم ونٹی لیٹر پر ہے،بجٹ کو پاس ہونے نہیں دیں گے، ایوان اور چوراہوں میں احتجاج کریں گے ،23جون کو آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کریں گے، ملک مہنگائی اور تباہی کی طرف جارہاہے اس سازش کو ناکام کریں گے جبکہ ماہرین معیشت نے کہاکہ پاکستان تحریک انصاف کے پہلے تین سال کے دوران مہنگائی اور غربت میں اضافہ ہوگا،اگر ایک سال میں آئی ایم ایف پروگرام سے نہ نکلے تو پاکستان کی سلامتی کو خطرہ ہوگا،امریکہ معاشی حالت خراب کرکے ملک میں سیاسی حالات خراب کرنے کی کوشش کررہاہے، وفاقی بجٹ پاکستان کے لیے تباہی کا ایجنڈا ہے کسی صورت پاس ہونے نہ دیاجائے ،آئی ایم ایف کوامریکہ اپنے ہتھیارکے طورپر استعمال کررہاہے ۔

اسلام آباد میں جماعت اسلامی پاکستان کے زیراہتمام قومی بجٹ سیمینار کاانعقاد کیاگیا جس کی صدارت امیرجماعت اسلامی پاکستان سینیٹرسراج الحق نے کی جبکہ سیمینار میں ماہرین معیشت نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔سیمینارسے،نائب امیرجماعت اسلامی لیاقت بلوچ، سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان امیر العظیم ، ماہر معیشت ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی ،اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے ناظم اعلی محمد عامر، کسان بورڈ کے سربراہ چوہدری نثار احمد ایڈوکیٹ ،صحت کے ماہر و پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر محمد ارشد،ماہر زراعت و قائداعظم یونیورسٹی کے پروفیسرانورشاہ،ماہر بینکنگ ڈاکٹر عتیق ظفر،ڈاکٹر اسد زمان ماہر معیشت ودیگر نے بھی خطاب کیا۔

امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ جو اللہ کے ذکر سے منہ موڑتاہے اللہ ان کی معیشت تنگ کردیتاہے، یہ بات ثابت ہوگئی ہے اور قوم کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ بجٹ ناکام ترین و بدترین بجٹ ہے، سب ماہرین نے اس بجٹ کو مسترد کردیا، سیاسی استحکام کے لیے معاشی استحکام ضروری ہے، پاکستان ہمارا گھر ہے اور اس کشتی کو سائل تک پہچانے کے لیے فکر مند ہیں، ہمارے گھر میں آگ لگی ہے،کرکٹ ورلڈکپ میں سرفراز کی کپتانی میں شکست ہوئی ہے، اس طرح حکومت کی پوری ٹیم کو شکست ہوئی ہے، آئی ایم ایف امریکہ کا کوڑا ہے،22کروڑ عوام کی قسمت کا فیصلہ دو غیر منتخب لوگ کررہے ہیں ، پروگرام کی ناکامی کے بعد دونوں امریکہ جاکر کسی بینک میں نوکری کریں گے،حکومت اتنا شور کررہی ہے کہ کوئی بجٹ پر بحث نہ کرسکے،مہنگائی سے عوام کی قوت خرید ختم ہوگئی ہے اور وزیراعظم کہے رہاہے کہ اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے، یہ افسوس ناک امر ہے میں سمجھتاہوں کہ یہ مسئلہ کا حل نہیں ہے، حکومت سمجھتی ہے کہ ہمارا کام امن قائم کرناہے اور معیشت کی ذمہ داری آئی ایم ایف اور صحت کی ڈبلیو ایچ او کی ہے،جب صبر کا پیمانہ لبریز ہوتاہے تو ماضی میں جو ہوا حکمرانوں کے ساتھ ہواوہ اچھا نہیں ہے اس کے بعد ایوان کو تالے لگیں گے،حکومت برداشت کامادہ پیدا کرے،عوام یہ چاہتے ہیں کہ تحریک انصاف نے جو وعدے کئے وہ پورا کرے۔انہوں نے کہاکہ ایک کروڑ نوکریوں کے بجائے روزگار ختم ہوگیا، گھروں سے لوگوں کو بے گھر کردیاگیاہے تاجر ناخوش ہیں، تاجر نا خوش ہوں تو ملک ترقی نہیں کرسکتا،نالائق ٹیم کی وجہ سے پوری قوم ونٹی لیٹر پر ہے،چینی کی قیمت 3روہےاضافہ کیاگیا ہے اور قوم جانتی ہے کہ شوگر ملز کس کی ہیں؟پاکستان میں گنا پیدا ہوتاہے، سیمنٹ کے پہاڑ ہیں مگر پھر بھی مہنگا کیاجارہاہے، پوری قوم کا مطالبہ ہے کہ اس بجٹ کو واپس لیاجائے، آئی ایم ایف کا معاہدہ ختم کیاجائے ،سودی نظام کا خاتمہ کیا جائے اور بجٹ پر مشاورت کی جائے،پانچ منٹ بھی حکومت نے بجٹ پرمشاورت نہیں کی، کس طرح بجٹ پاس کرنے کی اجازت دے سکتے ہیں؟ بجٹ کو پاس ہونے نہیں دیں گے ،ایوان اور چوراہوں میں احتجاج کریں گے ،23جون کو آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کریں گے، ملک مہنگائی اور تباہی کی طرف جارہاہے، اس سازش کو ناکام کریں گے،یہ بجٹ پاکستان کے مستقبل کے لیے خطرناک ہےاس کا مقابلہ کریں گے۔

ماہرمعیشت ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بجٹ آئی ایم ایف کی پیشگی شرائط پر مبنی ہے، بجٹ آئین پاکستان کے شق تین کی خلاف ورزی ہے، 23ملین بچے سکول سے باہر ہیں، مفت تعلیم ریاست کی ذمہ داری ہے، بجٹ تحریک انصاف کے منشور کے بھی خلاف ہے،جو تباہ حال معیشت ملی تھی اس میں مزید تباہی لائی گئی ہے،پاکستان تحریک انصاف کے پہلے تین سال مہنگائی اور غربت میں اضافہ ہوگا،ابھی تک 6ہزارارب قرض تحریک انصاف کی حکومت میں بڑھے ہیں،اس حکومت پر عوام کی بداعتمادی زیادہ ہے،بجٹ میں بہتری کا کوئی اقدام نہیں لیاگیا ہے،گذشتہ 24سال میں لوگوں کو 165ارب ڈالر ملک سے باہرگیاہے جبکہ قرض 106ارب ڈالر ہے،165ارب ڈالرتجارتی خسارہ6سال میں ہواہے ،115ارب ڈالر کی بیرون ملک سے ترسیلات آئی ہیں، این ایف سی ادا کرکے3462ارب وفاق کے پاس بچے گا اور سود اداکرنے کے بعد بجٹ خسارہ کاہوگا،حکومت نے کہاتھاکہ عدل وانصاف کی بنیاد پرٹیکس لگائیں گے مگر اس پر عمل نہ کرسکی ،نجکاری کے عمل سے پاکستان کو نقصان ہواہے، اس لیے نجکاری نہیں ہونی چاہیے،7%تعلیم کے لیے مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی نے بجٹ لگانے کا کہاتھا اور4%صحت پر لگائیں گے جبکہ تحریک ابصاف نے اس سے زیادہ کا وعدہ کیاتھا مگر اس پر کسی نے عمل نہیں کیا،ٹیکس ایمنسٹی سکیم نہیں ہونی چاہیے،آئی ایم ایف اور فیٹف کو امریکہ پاکستان کے خلاف استعمال کررہاہے،نوآبادیاتی نظام کی نئی شکل کی طرف ملک کو لے جایا جا رہا ہے،اگر ایک سال میں آئی ایم ایف پروگرام سے نہ نکلے تو پاکستان کی سلامتی کو خطرہ ہوگا،امریکہ معاشی حالت خراب کرکے ملک میں سیاست حالات خراب کرنے کی کوشش کررہاہے یہ وفاقی بجٹ پاکستان کے لیے تباہی کا ایجنڈا ہے۔انہوں نے تجویز دی کہ ہر قسم کی آمدن جو ایک حد سے زیادہ ہواس پر ٹیکس لگایا جائے،پانچ ہزار کا نوٹ منی لانڈرنگ کے لئے استعمال ہورہاہے اس کو ختم کیا جائے، بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام لوگوں کو بھکاری بنارہارہاہے، اس کو بند کرکے بنکوں کے ذریعے لوگوں کو قرض دیئے جائیں،سود کا جلد سے جلا خاتمہ کیاجائے۔

سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان امیر العظیم نے کہاکہ جماعت اسلامی کا عزاز ہے کہ ہر قومی و بین الاقوامی مسئلہ پر قومی بصیرت سامنے لے کر آتی ہے،کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ قومی بجٹ نہیں آئی ایم ایف کا بجٹ ہے اور ٹیکس اکٹھے کئے جائیں گے ،آج متبادل چیزوں کے حوالے سے رہنمائی دی جائے گی،قوم کی اجتماعی بصیرت سے فیصلوں سے ہی ملک اس معاشی شکل سے نکل سکتاہے،آج کا سیمینار مستقبل کا لائحہ عمل دے گا۔

نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ حکومت کے آنے پر تحفظات ہیں ،بجٹ میں جو چیزیں سامنے آئی ہیں اس کا تحریک انصاف کے منشور سے دور کا بھی تعلق نہیں ہے ،قرضوں کی بیساکھیوں کو توڑنے کے لیے بھی کوئی لائحہ عمل نہیں ہے کہ عالمی اداروں کے قرض سے کس طرح نکلاجائے؟عمران خان کی حکومت سے لوگوں کو امیدتھی کہ بیرون ملک سے سرمایہ آئے گا مگر اس طرح کچھ نہیں ہوا،بیرون ملک سے ڈیم کے لیے بھی کچھ نہیں آیا ہے، ایمنسٹی کے لیے بھی 250لوگوں نے صرف رابطہ کیاہے،زراعت کو ہر دور میں تباہ کیاگیا،عوام کااعتماد ہوتو سرمایہ کاری ہوتی ہے، عمران خان نے ہرایک کے ساتھ ایک جیسا رویہ رکھا ہے ۔

اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے ناظم اعلی محمد عامر نے کہاکہ اس طرح کے سیمینار ہوتے رہنے چاہیے،دنیا انڈسٹری اور زراعت سے نکل کر نالج اکانومی پر چلی گئی ہے ترقی یافتہ ممالک اس پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں،4کروڑ بچے سکول 70لاکھ کالجوں اور جامعات میں17لاکھ زیرتعلیم ہیں، 2کروڑ20لاکھ بچے پاکستان میں سکولوں سے باہر ہیں،علم کا معیار بھی ٹھیک نہیں ہے،تعلیمی اداروں کو بہتر کے ساتھ مزید بنانے کی اشد ضرورت ہے،وفاق نے تعلیم کے بجٹ پر 20%کم کر دیا گیا ہے،پنجاب نے بھی تعلیم کے لیے فنڈز کم کردیے ہیں،اس بجٹ کے ساتھ مضبوط پاکستان کو بنانا ممکن نہیں ہے، 2.4%تعلیم کے لیے بجٹ مختص کیا گیاہے بجٹ میں اضافہ ہوناچاہیے۔

جی آئی کسان و کسان بورڈ کے سربراہ چوہدری نثار احمد ایڈوکیٹ نے کہاکہ زراعت پر حکمران نے کوئی توجہ نہیں دی ہے۔تمام بڑی فصلیں کم پیدا ہوئی ہے ، حکمرانوں نے مل کر زراعت کو تباہ کیاہے،بھارت زراعت کو بہت آگے لے گیا ہے،تحریک انصاف کی حکومت نے زراعت پرساری سبسڈی ختم کردی گئی ہے،امریکہ کسانوں کو سبسڈی دیتاہے،پانی کم ہوگیاہے مٹی میں زرخیزی ختم ہوگئی ہے ،جو ادویات استعمال کی جارہی ہیں اس سے فصلیں تباہ ہورہی ہیں، جس طرح مصر میں تباہ کی گئی ہے،سبسڈی حکومت بحال کرے.ڈیزل مہنگا ہوگیاہے جس کی وجہ سے کسان اس کو برداشت نہیں کرسکتاہے،کسانوں کو بلاسود قرض دیاجائے صنعتوں کا قرض معاف ہوجاتاہے مگر کسانوں کو قید کر دیا جاتا ہے،زراعت کی ترقی سے ہی ملک ترقی کرے گا۔

ماہر زراعت و قائداعظم یونیورسٹی کے پروفیسرانورشاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ قرضوں پر سود کی ادائیگی سب سے بڑا مسئلہ ہے.سود کا ریٹ حکومت نے بڑھایاہے جس کی وجہ سے قرضوں میں اضافہ ہوا ہے۔حکومت پر اس کی وجہ سے بوجہ بڑ گیاہے۔12.25%ہمارا انٹرسٹ ریٹ ہے.عوام سے ٹیکس لے کر سود کی ادائیگی کی جائے گی جبکہ سرمایہ کاروں کو ریلیف دیا جا رہا ہے.ٹیکس میں اضافہ کی وجہ سے ڈیمانڈ کم ہوجاتاہے اور چیزوں کی قیمت بڑھ جاتی ہے۔

صحت کے ماہر و پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر محمد ارشد نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہیلتھ فار آل پر ہم کام کررہے ہیں صحت ہر شہری کا بنیادی حق ہے پاکستان میں.48.7%بچے پیدا ہونے کے بعد مرجاتے ہیں 260مائیں ایک ہزار میں ہر سال زچکی کے دوران مرجاتی ہیں۔18ملین لوگ ایک سے زائد بیماریوں کا شکار ہیں14ملین ہائی بلڈ پریشر کی بیماری کا شکار ہیں۔14سے 21%لوگ سیگریٹ استعمال کرتے ہیں۔8سو روزانہ دل کی بیماریوں سے مرتے ہیں۔5سے 7ہزار لوگ ہر سال خودکشی پاکستان میں کرتے ہیں۔50لاکھ لوگ معذور ہیں.30%لوگوں کو صاف پانی تک رسائی ہے جبکہ 70%کے پاس یہ سہولت نہیں ہے۔45%خواتین میں نیوٹریشن کی کمی کا شکار ہیں.40%کینسر کاموجب تمباکوہے.جتنا صحت پر خرچ کریں گے اس کے نتائج بھی بہتر ہوں گے.70%صحت کا بجٹ تنخواہوں پر اور20%نئے منصوبوں اور 10%ضائع ہوجاتاہے۔1593لوگوں کے لیے ہسپتال میں ایک بیڈ ہے۔1073لوگوں کے لیے پاکستان میں ایک ڈاکٹر ہے . صحت کو صوبوں کو دینے کے حوالے سے کوئی منصوبہ بندی نہیں کی جس سے مزید مسائل بڑگئے۔قومی صحت پالیسی پاکستان میں موجود نہیں ہے . 0.01% صحت پر تحقیق پر خرچ کیاگیاہے۔

ماہر بینکنگ ڈاکٹر عتیق ظفر نے کہاکہ بجٹ پر ہی سب کا اتفاق ہے کہ اس سے مہنگی ہوگی۔پچھلا بجٹ انتخابی بجٹ تاکہ الیکشن میں جیتاجائے یہ بات درست ہے موجودہ حکومت نے بھی بجٹ میں 50%خسارہ رکھا گیا ہے۔اس بجٹ کی کوئی ڈائریکشن نہیں ہے کہ کس شعبہ کو ترقی دے کر معیشت کو ٹھیک کریں گے کامیاب نوجوان پروگرام کے لیے 100ارب رکھے گئے ہیںیہ واحد بجٹ ہے جس میں تنخواہوں میں کمی ہوگی اضافہ کے ساتھ نہیں ملے گی۔حکومت بھی اخراجات میں کمی نہیں ہورہی ہے۔وزراءنے تنخواہ میں کمی کا اعلان کیاہے جس سے کوئی فرق نہیں پڑے گی۔تنخواہیں دار طبقہ سے ٹیکس پہلے لے لیا جاتا ہے اور باقی لوگ ٹیکس سے بچ جاتے ہیں۔

مزدور کے رہنما شمس الرحمن سواتی نے کہاکہ کرکٹ کے عالمی چیمپئن کے پاس حکومت ہے اور انہوں نے عوام کو کلین بولڈ کردیاہے۔جس طرح وزیراعظم عمران کی تقریر سمجھا نہیں آرہی تھی کہ کبھی تصویر نہیں اور کبھی آواز نہیں ہے۔اس طرح بجٹ کی سمجھ نہیں آرہی ہے۔مزدوروں کو کسی قسم قسم کا تحفظ حاصل نہیں ہے حکومت مزدوروں سے بھی ٹیکس لینا چاہتی ہے۔

ڈاکٹر اسد زمان ماہر معیشت نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اللہ نے 14سوسال قبل مسلمانوں کو عظیم قوم بنایا۔آج دشمن ہمیں تقسیم اور حکمرانی کرو پر عمل پیرا ہے۔ہم فلاحی کاموں میں زیادہ خرچ کرتے ہیں مگر لوگوں کے اعتماد کی کمی کی وجہ سے ٹیکس نہیں دیتے ہیں۔

ڈاکٹر راشد آفتاب نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بل کو ایوان میں آنے کے بعد کمیٹی میں بھیج دیا جاتا ہے مگر بجٹ پر سب سے کم بحث ہوتی ہے۔قرض کے بعد دفاعی بجٹ آتاہے اس کے بعد دیگر شعبوں کو فنڈز دینا مشکل ہوجاتاہے۔استعداد کی کمی ہمارا مسئلہ ہے یہ آئی ایم ایف کا مسئلہ نہیں ہے۔

رئیل اسٹیٹ کے تاجر عمران بخاری نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ رئیل اسٹیٹ کے کاروبار پر حکومت نے خود کش حملہ کیاہے جو ترقی کررہا تھا آج خسارے میں چلاگیا ہے اربوں روپے ہرماہ حکومت کو دیتے ہیں۔

مزید : قومی