اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی اور اٹھارہویں ترمیم

اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی اور اٹھارہویں ترمیم

  

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اٹھارہویں ترمیم پر کوئی اختلاف نہیں کر رہا مگر اس میں کئی چیزیں ایسی ہیں جو جلد بازی میں غلط کی گئیں، انہیں ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے پرویز مشرف دور میں اختیارات نچلی سطح پر منتقل کئے گئے لیکن اٹھارہویں ترمیم میں صوبوں کو گورننس چلی گئی۔ اس کے بعد صوبوں نے اختیارات نچلی سطح پر منتقل نہیں کئے۔ کراچی اور لاہور کے مسائل اختیارات کی منتقلی کے بغیر حل نہیں ہو سکتے ان کا کہنا تھا اٹھارہویں ترمیم سے وزیراعلیٰ آمربن گیا ہے…… جن چیزوں کی اصلاح ضروری ہے وزیراعظم نے اس کی کوئی تفصیل نہیں بتائی اس سے پہلے حکومت کے کئی وزراء بھی ملتی جلتی باتیں کرتے رہتے ہیں۔ سندھ میں ان کی جماعت کے کئی لیڈر گورنر راج کے نفاذ کا مطالبہ کر چکے ہیں اور ان کے تازہ دورے میں بھی یہ مطالبہ سامنے آیا۔ دوسری جانب وفاق میں اتحادی جماعت بی این پی (مینگل) نے مخلوط حکومت سے علیحدگی کا اعلان کیا ہے، ایک دوسری اتحادی جماعت جمہوری وطن پارٹی بھی بے اطمینانی کا اظہار کررہی ہے ابھی تک وہ حکومت کے ساتھ ہے لیکن اگر اختلافی لہر کا دائرہ پھیل گیا تو پھر شائد مزید جماعتیں بھی ساتھ چھوڑ جائیں۔

ایک ایسے وقت میں جب اتحادی جماعتیں مخلوط حکومت سے علیحدگی کے راستے پر گامزن ہیں اٹھارہویں ترمیم کا ذکر چھیڑنا دانشمندی نہیں ہے یہ ترمیم جیسی کچھ بھی ہے، بُری ہے یا بھلی، آئین میں متعین طریقِ کار کے تحت ضابطوں کی کارروائی مکمل کرکے کی گئی تھی، یہ کہنا درست نہیں کہ یہ جلد بازی میں کی گئی اس کے لئے تو طویل ترین مشاورت کی گئی اور شائد ہی کسی آئینی ترمیم پر اس قدر طویل بحث کی گئی ہو جتنی اس ترمیم کے لئے کی گئی، ہزاروں گھنٹے غور کے بعد یہ پیکیج پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا چونکہ کمیٹیوں میں تفصیلی غور و خوض ہو چکا تھا اور اس وقت پارلیمنٹ کے اندر جو جماعتیں موجود تھیں ان کے نمائندے بھی پارلیمانی کمیٹیوں میں تھے، اس لئے پارلیمنٹ میں منظوری پر زیادہ وقت نہیں لگا، شائد اسی کو ”جلد بازی“ قرار دیا جا رہا ہے۔ ترمیم دراصل آئین کی اس روح کو بحال کرتی ہے جو 1973ء کے دستور کا مدعا و مقصود تھا۔ غلط فیصلوں کا امکان تو ہر وقت ہوتا ہے اور حکومت کا کوئی بھی فیصلہ کبھی اس عنصر سے خالی نہیں رہا، اگر ماضی میں غلط فیصلے ہوئے تو کیا کوئی دعوے سے کہہ سکتا ہے کہ اب سارے فیصلے درست ہو رہے ہیں اور ان میں کوئی ابہام اور سقم نہیں ہے؟ آج کے فیصلوں کو دیکھ کر ایسے دعوے کرنے کے لئے بہرحال دل گردہ چاہیے اور کئی حکومتی ترجمان ایسا کرتے ہوئے چوکتے بھی نہیں لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ انسانوں کا بنایا ہوا کوئی قانون کبھی خامیوں سے مُبّرا نہیں ہوتا، جن فیصلوں کو ماضی میں بہت سرایا گیا ان کی خامیوں پر اب نظر جاتی ہے تو حیرت ہوتی ہے کہ یہ فیصلے کس حال اور کس آن میں کئے گئے۔

اٹھارہویں ترمیم میں جن باتوں کی اصلاح درکار ہے آئین میں اس کا طریقہ درج ہے اسے اپنا کر ایسا کر لیا جائے تو کسی کو کوئی اعتراض نہیں، لیکن بلا مقصد بیان بازی سے نہ تو ماضی میں کچھ حاصل ہوا ہے اور نہ اب ہو گا اس وقت جب وفاقی بجٹ پر بحث ہو رہی ہے اور حکومت کے ایک بڑے اتحادی ساتھ چھوڑ گئے ہیں ترجیح تو یہ ہونی چاہیے کہ ان کے مطالبات پر غور کیا جائے اور انہیں حکومت کا ساتھ نبھانے پر آمادہ کیا جائے اس وقت لندن میں بیٹھا ہوا ایک شخص یاد آتا ہے جو ماضی میں ایسی صورتِ حال پیدا ہونے پر فوراً متحرک ہو جاتا اور اتحادیوں کو جھوٹے سچے دلاسے دے کر انہیں جہاز میں لاد کر اسلام آباد لاتا اور علیحدگی کا خطرہ کچھ عرصے کے لئے ٹل جاتا، اب یہ شخص دستیاب نہیں، یہ کہنا مشکل ہے کہ حکومت روٹھنے والی اتحادی جماعت کو منانے میں کامیاب ہو جائے گی جن حضرات کے ذمے ”سیاسی ابلاغ“ کا کام ہے وہ اس کی باریکیوں سے شناسا ہی نہیں ان کے بھاشن کے اثرات کی وجہ سے تو پہلے والے اتحادی ساتھ چھوڑتے جا رہے ہیں کوئی نیا حامی کہاں سے پیدا ہوگا۔ اٹھارہویں ترمیم کی اگر ایک شق بھی بدلنے کی ضرورت ہے تو اس کے لئے پارلیمنٹ میں دوتہائی اکثریت درکار ہے،جبکہ موجودہ حکومت تو چھ سات اتحادیوں کی بیساکھیوں پر کھڑی ہے جن میں سے ایک بیساکھی فی الحال کھینچ لی گئی ہے ایسے میں حکومت کو چاہیے کہ اپنی ساری توجہ اتحادیوں کو ساتھ رکھنے پر مرکوز رکھے اٹھارہویں ترمیم کا معاملہ فی الحال موخر کردے۔

جہاں تک بلدیاتی نظام کا تعلق ہے بدقسمتی کی بات ہے کہ کسی سیاسی جماعت نے اس نظام کی مضبوطی کی کبھی کوئی کوشش نہیں کی چونکہ ارکان اسمبلی ہر قسم کے بلدیاتی فنڈ اپنی وساطت سے خرچ کرنا چاہتے ہیں اور ایسا کرتے وقت اپنے حلقوں اور سیاسی مفادات کو پیش نظر رکھتے ہیں اس لئے کوئی بھی حکومت بلدیاتی نظام مضبوط کرنے کے حق میں نہیں، وزیراعظم نے کراچی اور لاہور کے مسائل کی بات کی، سندھ کی حکومت کراچی کے میئر کو اختیارات نہیں دینا چاہتی تو پنجاب میں بلدیاتی ادارے ہی سرے سے ختم کر دیئے گئے ہیں حالانکہ اگر یہ ادارے موجود ہوتے تو کورونا بحران میں غریبوں تک رسائی میں بہتر کردار ادا کر سکتے تھے لیکن تحریک انصاف کی حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی بلدیاتی اداروں کا خاتمہ ضروری سمجھا اب جس نظام کی برکات گنوائی جا رہی ہیں کوئی پتہ نہیں وہ کب قائم ہو گا کب بلدیاتی الیکشن ہوں گے اور کب لوگوں کے مسائل حل ہوں گے لوگوں کو جن مسئلوں کا سامنا اب ہے ان کے حل کے لئے انہین مزید کتنے برس درکار ہوں گے۔ وزیراعظم اگرچہ اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کے بڑے پُرجوش حامی ہیں لیکن ان کی تینوں صوبائی حکومتوں میں کسی جگہ یہ کام نہیں ہوا سندھ میں تو اس لئے نہیں ہوا کہ وہاں مخالف جماعت برسراقتدار ہے لیکن باقی صوبوں میں تو اب تک اختیارات نچلی سطح پر چلے جانے چاہیئں تھے جو نہیں گئے اس کا جائزہ لینے کی بھی ضرورت ہے۔ ہماری تو مخلصانہ گزارش یہی ہے کہ حکومت موجودہ مشکل حالات میں اتحادیوں کو ساتھ رکھنے پر توجہ دے اور غیر ضروری مباحثوں میں نہ الجھے، ایسے وقت میں جب حکومت کی سادہ اکثریت بھی خطرے میں پڑی ہوئی ہے دوتہائی اکثریت سے اٹھارہویں ترمیم کی کوئی شق ختم کرنے کا خواب نہیں دیکھنا چاہیے۔ اگر ممکن ہو تو حکومت سندھ میں گورنر راج کے مطالبے کرنے والے اپنے ارکان کو بھی بیان بازی سے روکے کل کلاں کسی اور صوبے سے ایسی آواز اٹھی تو پھر مشکل ہوگی۔

مزید :

رائے -اداریہ -