ڈاکٹر یاسمین راشد کی بزرگانہ ڈانٹ اور معذرت؟ لاہوری کلچر!

ڈاکٹر یاسمین راشد کی بزرگانہ ڈانٹ اور معذرت؟ لاہوری کلچر!
ڈاکٹر یاسمین راشد کی بزرگانہ ڈانٹ اور معذرت؟ لاہوری کلچر!

  

چلئے،جناب تنازعہ حل ہوا، صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے اپنے بڑے پن کا ثبوت دیا اور اپنے مبینہ بیان کے حوالے سے معذرت کر لی۔ ان کا موقف ہے کہ وہ خود پکی لاہوری اور ان کی عمر ستر سال ہے۔ لاہور والے ان کے بچوں کی طرح ہیں اور وہ ان کو اس حیثیت سے ڈانٹ بھی سکتی ہیں، ان کا کہنا ہے کہ لاہور والوں کی طرف سے جب کورونا کے حوالے سے ایس او پیز کی خلاف ورزی کی گئی اور متاثرین میں اضافہ ہوا تو ان کا دل دکھا تھا، اس لئے انہوں نے کچھ کہہ دیا اگر ان کے الفاظ سے کسی کا دل دکھا ہو تو وہ معذرت چاہتی ہیں،ڈاکٹر یاسمین راشد کے حوالے سے یہ طوفان سوشل میڈیا پر تھا کہ انہوں نے مبینہ طور پر لاہوریوں کو ”جاہل“ کہا ہے۔ ہم نے خود ان کا یہ بیان یا گفتگو نہیں سنی، لیکن جب شور اٹھا اور سنجیدہ حضرات نے بھی اظہار خیال کیا تو ہم نے بھی توجہ دی۔ ہمارے مہربان نسیم شاہد نے تو ملتان سے زندہ دلان لاہور کو نصیحت کی کہ وہ ”مائنڈ“ نہ کریں، اس سے ہمیں خیال ہوا کہ جب بات یہاں تک آئی ہے تو ضرور کچھ ہو گا اگرچہ جہاں تک ”مائنڈ“ نہ کرنے کی بات ہے تو لاہوریوں کو واقعی ایسا نہیں کرنا چاہیے کہ بزرگوں کی طرف سے سخت سست کہہ دینا بھی لاہور ہی کی روایت ہے۔

ہمارے خیال میں تو اگر سوشل میڈیا پر ہی یہ ”چاء کی پیالی میں طوفاں“ والی بات ہوئی تو پھر جن حضرات نے ”مائنڈ“ کیا وہ شائد (پیشگی معذرت کے ساتھ) پکے لاہوری نہیں، نئے لاہوری ہیں جبکہ ڈاکٹر یاسمین راشد تو ننھیال اور سسرال کی طرف سے پکی لاہورن کیا آبائی لاہورن ہیں اگرچہ ان کا یہ مزاج نہیں لیکن بزرگ والی ڈانٹ کا موقف ہمیں تسلیم ہے کہ ہم خود بھی آبائی (پیدائشی) لاہوری ہیں۔ لاہور کی دیرینہ روایات سے واقف اور ان کے امین ہیں، جبکہ ہم ڈاکٹر صاحبہ سے واقف ہونے کے علاوہ ان کے سسر محترم جناب غلام نبی ملک اور ان کے کزن محمد اختر ملک سے بھی تعلق کے دعوے دار ہیں کہ یہ ہمارے محلے دار بھی تھے۔ آج اگر یہ زندہ ہوتے تو ملک غلام نبی اس شور و غوغا پر جو ردعمل ظاہر کرتے وہ بیان کرنے کے قابل بھی نہ ہوتا، ڈاکٹر یاسمین تو بہت ہی تحمل مزاج ہیں کہ ان کے پیشے کا بھی تقاضا ہے اور پھر ان کے والدین بھی تو اپنی جگہ انجمن تھے۔ بہرحال ہم نے تو ان (ڈاکٹر) کے مبینہ ریمارکس کا قطعاً برا نہیں منایا اور ہمارے خیال میں ان کو معذرت کی بھی ضرورت نہیں تھی کہ یہ تو پیار سے ایک بزرگ کے غصہ کا اظہار ہی تھا کہ ہم لاہوریوں نے بھی تو وبا کو مذاق بنا لیا تھا اور کسی قسم کی پروا نہیں کرتے تھے، ہر اعتراض اور سوال کا جواب تو ڈاکٹر صاحبہ ہی کو دینا پڑتا تھا، یوں بھی ان کا تعلق شعبہ صحت سے ہے اور اسی پیشہ سے منسلک ینگ ڈاکٹروں سے ان کا مناقشہ چلتا چلا آ رہا ہے۔وہ ان دنوں اپنی پریکٹس کو نظر انداز کرکے دن رات کورونا وبا کے حوالے سے مصروف ہیں۔

اس سے پہلے کہ ہم کچھ پرانی یادداشت تازہ کریں، یہ عرض کر دیں کہ لاہور میں رہنے والے لاہوریوں کی بھی مختلف اقسام ہیں،پہلے تو وہ خاندان ہیں جوآبائی (پیدائشی) لاہوری ہیں، دوسرے درجہ پر وہ حضرات آتے ہیں، جو پاکستان کو اپنا وطن بنا کر براہ راست لاہور آئے اور یہیں کے ہو کر رہ گئے اب ان کی اولاد بھی پید ائشی لاہوری ہی ہے، چاہے ان کے آباء اپنے آبائی شہر کو یاد کرتے ہوں، تیسری قسم لاہور کے ان باسیوں کی ہے جو اسی ملک کے دوسرے شہروں سے مختلف وجوہ کی بناء پر یہاں آئے اور مقیم ہو کر مقامی ہو گئے، چوتھی قسم ان حضرات کی ہے جو کسی کاروبار ملازمت یا تعلیم کے حوالے سے لاہور میں مقیم ہیں اور چھٹیاں اپنے اپنے آبائی علاقوں میں مناتے ہیں،ان کو ہی میڈیا والے پردیسی کہتے ہیں۔

اب ڈاکٹر یاسمین راشد سے جو الفاظ موسوم کئے گئے وہ ایک خالص لاہورن کی طرف سے ہیں اور ہمارے لاہوری کلچر کے مطابق تو یہ نرم اور پیار والے ہیں جو بزرگ نے بزرگی کے حوالے سے کہے اس لئے پرانے لاہور والوں نے تو اتنابُرا نہیں منایا ہو گا یہ یقینا وہ نوجوان ہو سکتے ہیں جو پیدائشی طور پر تو لاہوری ہیں، تاہم نوجوان ہیں اور شاہد دیرینہ روایات سے واقف نہیں یا ان کے علم میں ہی نہیں ہیں، لہٰذا ان کا ”مائنڈ“ کرنا تسلیم کر لیتے ہیں اور اب ڈاکٹر یاسمین راشد کی ”معذرت“ سے ان کی تسلی ہو جانا چاہیے۔

ہم نے یہ اتنا طویل ”بھاشن“ یوں دیا کہ ہم بھی انہی لاہوریوں میں سے ہیں جن کو مہربان نسیم شاہد نے ”مائنڈ“ نہ کرنے کو کہا ہے تو صرف ان کی خدمت میں عرض ہے کہ ہم پرانے شہر کے پیدائشی پرانے لاہوریوں کو اس پر غصہ نہیں آیا کہ یہ تو ہمارے شہری (لاہوری) کلچر کا ایک معمولی سا حصہ ہے، ورنہ ہم دوستوں کے درمیان تو خلوص اور محبت کا اظہار گالی گلوچ (ماشاء اللہ) سے ہوتا تھا اور اب بھی اگر ہم ”بڈھوں“ کو وہ پرانے ”بڈھے“ مل جائیں تو منہ کا ذائقہ تبدیل کر لیا جاتا ہے اگرچہ اب پابندی کا یہ عالم ہے کہ خدانخواستہ گھر میں بھول چوک سے کوئی ”ثقیل“ لفظ ادا ہو جائے تو فوراً ٹوک دیا جاتا ہے کہ ہمارا ننھا پوتا وہ لفظ دہرا دیتا ہے، چنانچہ ہم بہت محتاط ہیں، اگرچہ ہمارے بچپن میں گھرانوں میں ایسی سخت پابندی نہیں تھی،اگرچہ بچوں کو گالی سے منع کیا جاتا تھا، ویسے اگر اس دور میں یہ سوشل میڈیا ہوتا تو لڑکوں کی آپس میں توتکار والی ایک ہی ویڈیو کافی تھی کہ آج کے دور والے ”نوجوان“ اپنے ہوش پر قابو نہ پاتے۔

.

بہرحال بات طویل ہوگئی۔ ہم ڈاکٹر یاسمین راشد کے سسر اور اپنے محلے دار خود سے بڑے ملک غلام بنی (مرحوم) کی بات کرکے رخصت چاہتے ہیں۔ یہ خود ڈاکٹر صاحبہ کو بھی یاد ہے اور وہ اس پر ہنسابھی کرتی ہیں ملک غلام نبی تھے تو پیدائش مسلم لیگی(ہم سب کی طرح) تاہم بھٹو صاحب کی شخصیت کے سحر سے متاثر ہو کر پیپلزپارٹی میں آ گئے تھے۔ ساتھ ہی ان کے کزن ملک اختر (مرحوم) بھی کہ وہ تو کونسلر اور ایم پی بھی رہے تھے۔ دونوں حضرات نے 70ء والے انتخاب میں حصہ لیا، ملک اختر قومی اور ملک غلام نبی صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ ملک اختر بعد میں وفاقی وزیر قانون اور ملک غلام نبی پیپلزپارٹی کے دور اقتدار میں صوبائی وزیر تعلیم تھے، بات چونکہ ڈاکٹر یاسمین راشد کی ہے اس لئے ملک غلام نبی ہی کی بات کرتے ہیں کہ وہ پرانے شہر لاہور کے باسی تھے اور اپنی گفتگو میں ”مہذبا نہ الفاظ“ کا استعمال بڑی بے دردی سے کرتے تھے، حتیٰ کہ ایک بار اسمبلی چیمبر میں طلباء کا ایک وفد مطالبات لے کر ان سے ملنے آیا اور نوجوانوں کی طرح ضد کرنے لگا، ملک صاحب نے ان کو سمجھانے کی کوشش کی، جب وہ نہ مانے تو موصوف نے ایسی حرکت کر ڈالی کہ طلباء کمرے ہی سے بھاگ نکلے تھے، انہی کی بات ہے، بھٹو صاحب لاہور آئے، حسب سابق اچھے موڈ میں تھے اور روایت کے مطابق محفل جمی تھی ا ور مزاح بھی چل رہا تھا، ایسے میں بھٹو صاحب نے ملک غلام نبی کو مخاطب کرکے کہا”ملک صاحب! سنا ہے، آپ گالیاں بہت دیتے ہیں“ ملک صاحب نے برجستہ جواب دیا ”کون…… (بڑی گالی) کہتا ہے“ اور محفل کشت زعفران بن گئی، اس لئے دوستو! مائنڈ نہ کرو کہ ہم نے نہیں کیا۔

مزید :

رائے -کالم -