نسل پرستی، مغرب اورہم

نسل پرستی، مغرب اورہم
نسل پرستی، مغرب اورہم

  

نسل پرستی کی وہ چنگاری جو دھائیوں سے امریکی آئین کی برابری اور برادری کی گارنٹیوں کی راکھ تلے سلگ رہی تھی بالاآخر شعلہ بن کر بھڑک اٹھی اور نہ صرف ”امریکہ کلر بلائینڈ ہے“جیسے خوشنما نعروں نے حسن کو گہنا دیا بلکہ زندگی، آزادی اور خوشی کے حصول جیسے اعلی مقاصدکو بھی بے یقینی کی گمنام وادیوں کی نذرکر دیا۔ جارج فلائیڈ کے بے رحمانہ قتل سے کم از کم وقتی طور پر سہی، یہ تا ثر مضبوط ہوا ہے کہ امریکی آئین کی لاکھ گارنٹیوں اور امریکہ کلر بلائینڈ جیسے دلربانعروں کے باوجودغیر سفید فام افرادبالخصوص کالوں کی نہ تو زندگی اور آزادی کی کوئی عملی ضمانت ہے نہ ہی خوشی کا حصول ان کے لیے اتنا سہل ہے جتنا کسی سفید فام کے لیے ہو سکتا ہے۔ یوں آپ کسی سفید فام سے نسل پرستی یا نسلی امتیاز کی بات کریں گے تو وہ اس کو فوری طور پر جھٹلا دے گا اور بحث سے کترائے گا۔ اس طرح کے مباحث میں اس نوع کے جملے اکثر سننے کو ملتے ہیں۔ میرے تو کئی غیر سفید فام دوست ہیں، میں نے تو کبھی ان کو نفرت کی نگاہ سے نہیں دیکھا، سفید فام براؤن اور کالے لوگوں سے شادیاں بھی کرتے ہیں، ہمارا آئین بھی اس کے خلاف ضمانت دیتا ہے اور نسلی امتیاز روا رکھنا قابلِ تعزیر ہے وغیرہ وغیرہ۔ فرد کی سطح پر دیکھا جائے تو یہ بات کافی حد تک درست بھی معلوم ہوتی ہے مگر جب سب ہی سفید فام یہ دعوی کرتے ہیں کہ وہ نسل پرست نہیں تو پھر یہ شور کیسا؟ عمیق نگاہی سے مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ چند ایک شدت پسندوں کے سوا کوئی بھی نسل پرستی کی کھلے عام حمایت کرتا نظر نہیں آئے گا مگر یہ امریکی اور یورپی معاشروں کی ایک ایسی تلخ حقیقت ہے جس پر ان معاشروں کا فکر و نظر رکھنے والا طبقہ متفکر بھی نظر آتا ہے اور شرمندہ بھی۔

درحقیقت نسلی امتیاز کی جڑیں بہت گہری ہیں اور اس کا تانا بانا ان کے معاشرتی، ثقافتی اور سیاسی نظام میں گندھا ہوا ہے۔ سفید فام لوگوں میں بے شمار لوگ سچے دل سے نسل پرستی کے خلاف ہیں اور ان میں سے کچھ اس کا اظہار بھی کرتے ہیں مگر وہ بھی اس سٹر کچر ل (Structural)اور سسٹیمک Systemic) (نسل پرستی سے کسی نہ کسی طرح مستفید ہوتے ہیں۔ امریکی دانشور پیگی میکنٹوش اس کو مراعات سے لبالب ایسے بیگ سے تشبیہہ دیتی ہیں جس کا کوئی وزن بھی نہیں لیکن پھر بھی وہ فوائد سے بھرا ہوتا ہے۔مطلب یہ کہ سفید فام لوگوں کو بغیر کچھ کئے بیشمار مراعات اور سہولیات حاصل ہوتی ہیں جن سے دوسری اقوام ہمیشہ محروم ہی رہتی ہیں۔ پیگی نے کم ازکم پچاس ایسی غیر مرئی اور غیر محسوس مراعات کی ایک لسٹ مرتب کی ہے جو ہر سفید فام کو گود سے گور تک حاصل ہوتی ہیں خواہ وہ اس سے آگاہ ہو یا نہ ہو۔ مثال کے طور پر صحت اور تعلیم کے حوالے سے سفید فام کو ان تفکرات کا سامنا نہیں ہوتا جو غیر سفید فام کو، شاپنگ مال ان اشیا ء سے بھرے پڑے ہیں جو سفید فام لوگوں کے کلچر کے مظہر ہوتے ہیں، تاریخ سے مراد سفید فام لوگوں کی تاریخ ہے اور چند سال قبل تک کالوں کی تاریخ پر مشکل سے ہی کوئی کتاب دستیاب تھی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ سفید فام لوگوں کو اپنے بچوں کو یہ نہیں بتانا پڑتا کہ نسل پرستی کیا ہوتی ہے اور اس کے مضمرات کیا ہیں؟

نسلی برتری کے احساس کے لیے کسی سیاسی جماعت یا نازی ازم جیسے نظریے کا پیروکار ہونا ضروری نہیں اور نہ ہی اس کے لیے کسی باقاعدہ تعلیم یا تربیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ افراد کے اندر یہ احساس غیر محسوس طور پر آس پاس پھیلے ہوئے ثقافتی ماحول سے از خود سرایت کر آتا ہے۔ سن 1940 ء میں ڈاکٹر کینتھ نے بچوں پر ایک تجربہ کیا جس میں سیاہ فام بچوں کو سیاہ اور سفید گڑیاؤں میں سے انتخاب کرنا تھا۔ زیادہ بچوں نے سفید گڑیا کو پسند کیا۔ سن 2010 ء میں یہی تجربہ دونوں نسل کے بچوں پر دہرایا گیا اور نتائج وہی رہے۔ گویا اسی سالوں میں لا شعوری نسل پرستی میں کوئی فرق نہیں آیا۔

عام آدمی تو ایک طرف بڑے بڑے سیلیبریٹیز بھی نسلی امتیاز کی زد سے نہیں بچ سکے۔ معروف ٹینس سٹار سیرینا ولیم نے ایک مرتبہ غصے سے ریفری کو چور کہہ دیا جس پر اس کو باقاعدہ تحریری سرزنش کا سامنا کرنا پڑا جبکہ سفید فام جان مکینرو جو مونہہ پھٹ مشہور تھے، کھیل کے دوران اس سے بڑی بڑی بدتمیزیاں کر جاتے تھے مگر ان کو کبھی کچھ نہ کہا گیا۔ اس بات کا اعتراف خود مکینرو نے بھی میڈیا کے سامنے کیا۔ نسلی امتیاز کا اظہار ایک اور طریقے سے بھی کیا جاتا ہے جس کو ٹون پولیسنگ کہا جاتا ہے۔ غیر سفید فام لوگوں کو ان کے لب و لہجہ کی وجہ سے بھی غیر مہذب گردانا جاتا ہے۔ وہ اگر غصیلی آواز میں اپنی شکایت کا بھی اظہار کر دیں تو بھنویں تن جاتی ہیں اور اکثر اوقات ان کو اونچی آواز میں اپنا احتجاج ریکارڈ کروانے پر بھی پر تشدد ہونے کے الزام کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسی طرح اگر کوئی غیر سفید فام شستہ گفتگو کرے یا دھیمے اور مہذب لب و لہجے میں اپنے جذبات یا غصے کا اظہار کرے تو اس کو بڑی خوشگوار حیرت کیساتھ دیکھا جاتا ہے گویا کوئی انہونی ہو گئی ہو! یہ بذات خود نسلی امتیاز کا ایک خفی انداز ہے۔ تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ سیاہ فام حضرات حقوق کی بات تو کرتے ہیں لیکن اپنے آپ کو بہتر کرنے کی طرف کوئی توجہ نہیں کرتے۔

نوے فیصد سٹریٹ کرائم سیاہ فام حضرات ہی کرتے ہیں، تعلیم میں بھی ان کی دلچسپی برائے نام ہے، مصنف کا ذاتی تجربہ ہے کہ نیو یارک میں ان کی گلیوں سے گزرتے ہوئے خوف آتا ہے۔ آوارہ گرد لڑکوں کی منڈلیاں جگہ جگہ بیٹھی نظر آتی ہیں۔ ظاہر ہے دیکھنے والے کے ذہن میں یہ چیزیں کوئی اچھا تاثر قائم نہیں کرتیں۔ یہاں تک کہ صدر اوباما تک یہ کہنے پر مجبور ہوئے کہ سیاہ فام لوگوں کو بھی اپنے کلچر میں تبدیلیاں لانے کی ضرورت ہے۔ یہ بات اس لیے بھی درست نظر آتی ہے کہ سیاہ فام کے خلاف مخاصمت کے جذبات جس قدر شدید نظر آتے ہیں، اسقدر کسی اور غیر سفید فام قومیت کے خلاف دکھائی نہیں دیتے۔ مثلا ساؤتھ ایشیا ئی لوگوں کو اس طرح کے تعصب کا سامنا نہیں ہوتا کیونکہ وہ محنت سے اپنا کیرئیر بناتے ہیں، اپنے رویے سے اپنے آپ کو پر امن ثابت کرتے ہیں اور کسی پرتشدد کاروائی کا حصہ بھی نہیں بنتے۔

دوسری طرف ہم نے دیکھا کہ نسل پرستی مختلف شکلوں میں موجود ہوتے ہوئے بھی جب جارج فلائیڈ کو قتل کی شکل میں اس کاکھل کر اظہار ہوا تو تمام امریکی معاشرہ اس کے خلاف سراپا احتجاج بن گیا۔ عوام، سول سوسائیٹی، میڈیا اور سیاسی حلقوں کی جانب سے کھل کر اس کی مذمت کی گئی اور ایسے اقدامات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے جن سے آئیندہ نسل پرستی کا خاتمہ بھی ہو اور ایسے واقعات کی بھی روک تھام ہو سکے۔ ہم کچھ بھی کہیں لیکن یہ ان معاشروں کے زندہ اور باضمیر ہونے کی کھلی دلیل ہے۔ ثقافتی تبدیلیاں کبھی راتوں رات رونما نہیں ہوتیں، اس کے لیے طویل جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔ غلامی کے سیاہ دور سے آج تک یہ جنگ جاری ہے اور نہیں معلوم کب تک جاری رہے گی لیکن یہ بات یقین کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ امریکی صدر کی حماقتوں کے باوجود سفر کی سمت درست ہے۔ ہمارے یہاں یہ عمومی رویہ ہے کہ مغرب میں ہمیں ذرا بھی خرابی نظر آجائے ہم خوب اس کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں لیکن اسی نوع کی خرابیاں ہمارے یہاں پائی جائیں تو ٰ آسانی سے نظر انداز کر دیتے ہیں۔

آئیے اس تناظر میں ہم اپنے معاشرے کا جائزہ لیتے ہیں کہ ہم نفرت اور تعصبات کے حوالے سے کہاں کھڑے ہیں۔ امریکہ میں تو انسان گورے اور کالے میں ہی تقسیم ہیں جبکہ ہمارے یہاں تو یہ تقسیم کثیرالجہتی ہے۔کہیں امیر اور غریب کی طبقاتی تقسیم تو کہیں مذہب اور فرقوں کا بٹوارہ، کہیں برادریوں کی اونچ نیچ او رکہیں اقلیتوں کے ساتھ ہمارا حسن سلوک سب ہمارے ہی معاشرے کا نا قابل تردید حصہ ہیں۔ امیر غریب کی تقسیم تو یقینا ًمغرب میں بھی پائی جاتی ہے لیکن فلاحی ریاستیں اپنے غریب کو لاوارث نہیں چھوڑتیں اور مشکل پڑنے پر مثلاً بیمار ی کی صورت میں غریب کو بھی ویسا ہی علاج اور دیگر سہولیات میسر ہوتی ہیں جیسی امیر کو۔ ذات برادری کی بنیاد پر تعصب بھی ہمارا ہی طرہء امتیاز ہے کہ راجپوت، جٹ اور گجر ہونا تو پیدائشی عزت و وقار کا حقدارجبکہ دیگر برادریاں، خاص کرہاتھ سے کام کرنے والی برادریاں، کمتر، بے وقار اور کمی کمین!۔تعصب کا یہ کھیل برادریوں تک ہی محدود نہیں، ہماری اقلیتیں بھی مستقل ہماری نفرت کا شکار چلی آ تی ہیں۔ ہمارے گھروں میں ہمارا ہی گند صاف کرنے والوں کو ”چوڑا“ کہنا چہ معنی دارد۔ کیا یہ نسلی تعصب کی بدترین مثال نہیں ہے؟ برطانیہ میں کوئی پاکستانی کو ”پاکی“کہہ کر مخاطب کرے تو اسے نسل پرستی کے الزام میں جیل کی ہوا بھی کھانا پڑ سکتی ہے۔

کیا ہمارا قانون اقلیتوں کو اس حوالے سے کوئی تحفظ فراھم کرتا ہے؟ جب ہمارا مذہب انسانوں کے درمیان تفریق رکھنے کا روا دار نہیں تو قانون میں یہ سقم کیوں؟ اور تو اور ہم تو کالی رنگت والی لڑکی کو اپنی بہو بنانا پسند نہیں کرتے۔ یہ نسلی تعصب نہیں تو کیا ہے؟ فرق صرف یہ ہے کہ ایک کالے جارج فلائیڈ کے قتل پر تو سارا امریکہ اٹھ کھڑا ہوتا ہے اور اپنے زندہ اور باضمیر ہونے کا اعلان کرتا ہے جبکہ یہاں پوری جوزف کالونی کو خاکستر کرنے اور کوٹ رادھا کشن میں لاشوں کے گلے میں رسیاں ڈال کر گھسیٹنے پر بھی ہمارے ضمیر کو خراش تک نہیں آتی اور قانون کو ہاتھ میں لینے کے خلاف ایک آواز سنائی نہیں دیتی۔جب بڑے سے بڑے جرم سے نپٹنے کے لیے قانون موجود ہے تو یہ وحشت کس بات کی غماض ہے؟۔ کیا ہمارے پاس اپنے اس غیر منصفانہ رویے اور د ھرے معیار کا کوئی منطقی اور اخلاقی جواز ہے؟ کیا ہم اپنے آپ کو ایک ز ندہ قوم کہلانے میں حق بجانب ہیں؟

مزید :

رائے -کالم -