خود کشی کا راستہ

خود کشی کا راستہ
خود کشی کا راستہ

  

اہل لاہور کو زندہ دلان لاہور کہا جاتا ہے۔ اہل پنجاب کو زندہ دلان پنجاب کا خطاب سرسید احمد خان نے دیا تھا۔1873ء میں وہ پہلی مرتبہ لاہور تشریف لائے۔ انہوں نے ایک بڑے جلسے میں تقریر کی۔ شہر لاہور کے روساء اور عوام نے دل کھول کاداد دی۔ سرسید احمد خان اہل لاہور سے بہت خوش تھے کیونکہ ہندوستان کے دوسرے صوبوں میں ان کی بہت زیادہ مخالفت ہورہی تھی۔ ان پر کفر کے فتوے لگائے جا رہے تھے۔ دو اصحاب تو ان کے خلاف کفر کے فتوے لینے کے لئے خصوصی طور پر سرزمین حجاز گئے تھے اور انہوں نے وہاں کے علماء سے یہ فتوے حاصل کئے تھے کہ سرسید مسلمان نہیں ہیں اور ان کے مدرسے کو چندہ دینا حرام ہے۔ برصغیر کا دورہ کرنے والے جمال الدین افغانی نے بھی سرسید پر کڑی تنقید کی تھی اور کہا تھا کہ کتا اپنی خوراک حاصل کرنے کے لئے مالک کے سامنے دم ہلاتا ہے جبکہ سرسید چندے کے لئے انگریزوں کے سامنے داڑھی ہلاتا ہے۔ لاہور میں اپنی غیرمعمولی پذیرائی پر سرسید احمد خان بہت خوش ہوئے تھے۔

سرسید احمد خان ان علمائے کرام سے خاصے ناراض تھے جو مسلمانوں کو دنیا سے بیزار ہونے کا درس دیتے تھے۔ انہیں بتاتے تھے کہ اس چند روزہ دنیا میں کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہے جس حالت میں بھی پیدا ہوئے ہو، اسی میں اپنی زندگی گزارو اور رخصت ہو جاؤ۔ وہ انہیں یہ نہیں بتاتے تھے کہ ہر اعتبار سے دنیا ہی اہم ہے۔ یہاں جو کچھ کرو گے اس کا نتیجہ اگلی دنیا میں حاصل ہو گا اور یہاں اگر کچھ نہیں کرو گے توپھر آخرت میں بھی اپنا حصہ تلاش کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ وہ ان علمائے کرام اور پیروں کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے تھے جو مریدوں کو تو قناعت کی تلقین کرتے تھے مگر خود ان سے نذرانے وصول کرنے کے لئے نت نئے ہتھکنڈے ایجاد کرتے رہتے تھے۔سرسید احمد خان جب لاہور آئے تو اس وقت یہاں انگریز کی حکومت نے تین عشرے بھی مکمل نہیں کیئے تھے جبکہ برصغیر میں ان کے اقتدار کا آغاز ہوئے ایک صدی سے زیادہ عرصہ بیت چکا تھا۔ کمپنی کی حکومت کی زیادتیوں، لوٹ کھسوٹ اور استحصال کا جو تجربہ اہل بنگال کو ہوا تھا ایسا برصغیر کے کسی دوسرے علاقے کے لوگوں کو نہیں ہواتھا۔ دہلی پر اقتدار قائم کرنے تک انگریز برصغیر سے خاصے واقف ہو گئے تھے۔ وہ اپنی تعداد کے کم ہونے کی کمزوری سے آگاہ تھے اس لئے انہوں نے یہاں انتظامی امور کو اس انداز سے چلانے کی کوشش کی کہ انہیں کم از کم مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے۔

اس کے باوجود 1857ء میں ان کے خلاف بڑی بغاوت ہوئی تھی۔ 1849ء تک پنجاب میں سکھوں کی حکومت رہی تھی اور یہ دور مسلمانوں کے لئے انتہائی ابتلا کا دور تھا۔ وہ نہ صرف معاش کے مسائل سے دوچار تھے بلکہ مذہبی معاملات میں بھی ان کے ساتھ خاصا برا سلوک ہوتا تھا۔ تاریخ میں سکھوں کے دور میں مسلمانوں کی مساجد میں گھوڑے باندھنے کی مثالیں موجود ہیں۔ شاہد ملک صاحب کبھی کبھار کہتے ہیں کہ شاید اسی دور میں پنجابی مسلمانوں میں پنجابی زبان سے بیگانگی کی صورت پیدا ہوئی کیونکہ یہاں کے مسلمان پنجابی بولنے والے سکھ حکمرانوں کی زیادتیوں کا نشانہ بن رہے تھے۔ سید احمد شہید اور سید اسماعیل شہید نے سکھ حکومت کے خلاف زوردار جدوجہد کی تھی۔ سید اسماعیل شہید سے ایک موقعہ پر جب یہ دریافت کیا گیا کہ انگریزبھی تو غیر مسلم ہیں اور انہوں نے ہندوستان پر قبضہ کر رکھا ہے۔ آپ ان کے خلاف تلوارکیوں نہیں اٹھاتے ہیں؟ آپ سکھوں کے خلاف ہی کیوں جہاد کر رہے ہیں؟ تو اس پر سید اسماعیل شہید نے کہا تھاکہ انگریزوں کی حکومت میں مسلمانوں کو مذہبی آزادی حاصل ہے اور یہ حکومت ان کے دین کے معاملات میں دخل اندازی نہیں کرتی۔

انگریزوں نے پنجاب پر قبضہ کیا تو یہاں امن و امان کی بحالی کو وہ اپنا سب سے بڑا کارنامہ قرار دیتے تھے۔ پرکاش ٹنڈن نے اپنی کتاب ”پنجاب ساگا“ میں لکھا ہے کہ سکھ دور میں ہر طرف لوٹ مار کی کیفیت رہتی تھی اور اس کے سپاہی ہر جگہ لوگوں سے ان کی چیزیں چھینتے رہتے تھے۔ انگریزی حکومت کے قیام کے بعد پنجاب میں دکانداروں کو اس وقت بڑی حیرت ہوتی تھی جب سپاہی دکان سے کوئی چیز لینے کے بعد اس کی قیمت بھی ادا کرتے تھے۔سرسید پنجاب آئے تو انگریزی راج خاصا مضبوط ہو چکا تھا۔ انہوں نے اپنی تقریر میں پنجاب کو ایک ایسا خطہ قرار دیا جس کی شادابی اور سرسبزی، خوبی اور خوشحالی پورے ہندوستان میں ضرب المثل ہے۔ سرسید نے اپنی تقریر میں جس چیز کا بطور خاص تذکرہ کیا وہ قومی ہمدردی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان میں یہ صفت عنقا ہو گئی ہے اور ہندوستان کے اکثر ملکوں (صوبوں) میں اور خصوصاً ہماری قوم میں اس کا مطلق پتا نہیں ملتا۔ مگر خدا کا شکر ہے کہ میں پنجاب میں اس (قومی ہمدردی) کا نشان پاتا ہوں۔

سرسید احمد خان کا کہنا تھا کہ اس وقت ہندوستان میں آباد سب قوموں سے زیادہ خوار اور ابتر حالت میں مسلمان ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلمان ان تمام اوصاف سے محروم ہو رہے ہیں جو ترقی کے لئے لازم ہیں۔ اس کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ شمال و مغربی اضلاع اور ملک اودھ کے بعض زمینداروں اور تعلقہ داروں نے زراعت کے لئے مشینیں خریدی ہیں۔ ان میں آبپاشی کے لئے استعمال ہونے والے پمپ بھی ہیں۔ سرسید احمد خان کا کہنا تھا کہ جب تک ان پمپوں کو کوئی انگریز چلاتا ہے تب تک وہ خوب چلتے ہیں اور جہاں وہ گیا اور ہندوستانی صاحبوں کے ہاتھ میں آیا اور بند ہوا۔سرسید احمد خاں کا کہناتھا کہ جب تک قومی ہمدردی نہ ہو، قومی عزت حاصل نہیں کی جا سکتی اور قومی ہمدردی انہیں سب سے زیادہ پنجاب میں نظر آ رہی تھی۔ ان کا کہناتھا کہ کسی قوم کا فرد اگرانفرادی طور پر ترقی بھی کرے تو اسے ایک بدتہذیب یا پسماندہ قوم کافرد ہونے کی وجہ سے کوئی عزت نہیں ملے گی۔ سرسید احمد خان کی اس تقریر کو 144 سال گزر چکے ہیں۔ آج پنجاب، پاکستان کا اہم ترین صوبہ ہے۔ پاکستانی سیاست اور تاریخ پر اس کے گہرے اثرات ہیں۔ مگر آج کے پنجاب میں وہ قومی ہمدردی نہیں ہے جس کا سرسید احمد خان نے مشاہدہ کیا تھا۔

پاکستان وکلاء نے بنایا تھا۔ قائد اعظم اور اقبال وکیل تھے۔ ہندوستان کے عظیم لیڈر مہاتما گاندھی، جو اہرلال نہرو اور سردار پٹیل بھی وکیل تھے۔ تقیم ہند اس لئے ہوئی تھی کہ ان عظیم راہنماؤں میں قومی ہمدردی کا جذبہ موجود تھا۔ شملہ سے واپسی پر ڈاکٹر پٹیل نے قائد اعظم محمد علی جناح کو آرام کا مشورہ دیا۔ اس کا کہنا تھا کہ اب آپ کی زندگی کے زیادہ دن نہیں ہیں اور ایسی حالت میں اکثر مریض اپنا وقت سینی ٹوریم میں گزارتے ہیں۔ مگر قائد اعظم نے قیام پاکستان کی فیصلہ کن جنگ اس حالت میں ہی لڑی۔ وہ کام، کام اور کام کی زندہ تصویر بن گئے۔ آج جب اخبار میں وکلاء کی ججوں کے ساتھ بدتمیزی کی خبریں پڑھنے کو ملتی ہیں۔ خاتون اسسٹنٹ کمشنر کو تالا لگا کر اس کے کمرے میں بند کرنے کے کارنامے کا پتہ چلتا ہے تو سچی بات یہ ہے کہ قوم کے مستقبل کے متعلق بدترین خدشات نظر آتے ہیں۔پوری دنیا میں جمہوریت اور آئینی بالادستی کے لئے وکلاء شاندارکردار ادا کر رہے ہیں۔ مگر ہمارے ہاں نظام انصاف تیزی سے تباہی کی طرف گامزن دکھائی دیتا ہے۔ ایک ہندوستانی فلم میں ایک جج کہتے ہیں کہ جب دو لوگ آپس میں کسی بات پر لڑتے ہیں تو ایک کہتا ہے کہ میں تمہیں عدالت میں دیکھ لوں گا۔ یہ جملہ عدالتی نظام پر اعتماد کا اظہار کرتا ہے۔ مگر ہمارے ہاں بدقسمتی سے اب ایسا اعتماد کم کم دکھائی دیتا ہے۔ اس معاملے میں قابل افسوس بات یہ نہیں ہے کہ چند وکلاء ایسا کر رہے ہیں۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ ان واقعات پر سینئر وکلاء خاموش ہیں۔ وہ انہیں یہ نہیں بتا رہے ہیں کہ وہ اپنے رویے سے پورے عدالتی نظام کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ طالبان نے مقبولیت حاصل کرنے کے لئے عدلیہ سے نفرت اور فوری انصاف کے نعرے کو استعمال کیا تھا۔

امریکی صدر روز ویلٹ نے کہا تھا کہ جمہوریت کو عوام کے لئے اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ اگر یہ عوام کے لئے کچھ نہیں کرے گی تو لوگ دوسری طرف دیکھیں گے۔ کچھ ایسی ہی صورت میڈیکل کے مقدس شعبے کی ہے۔ مریض مر رہے ہوتے ہیں اور ڈاکٹر ہڑتال کر رہے ہوتے ہیں۔ ہوس زر میں مبتلا کچھ ڈاکٹرغیر ضروری آپریشن کرتے ہیں۔ لیبارٹری ٹیسٹ تجویز کرتے ہیں۔ انتہائی مہنگی ادویات کو نسخوں کا حصہ بناتے ہیں۔ ستم ظریفی یہ نہیں کہ کچھ ڈاکٹر ایسا کر رہے ہیں۔ اصل المیہ یہ ہے کہ اس مقدس پیشے سے وابستہ انتہائی معزز پروفیسر صاحبان بھی نوجوان ڈاکٹروں کو یہ بتانے کا ”رسک“ نہیں لیتے کہ وہ کیا کر رہے ہیں؟ اور وہ دنیا بھر میں اس پیشے کا کیسا چہرہ پیش کر رہے ہیں؟یہاں ہمیں امریکہ کے اہم ترین طبی اداروں کے سینئر پروفیسر یاد آ رہے تھے جنہوں نے صدر اوباما سے احتجاج کیا تھا کہ اسامہ بن لادن کی گرفتاری کے لئے ویکسئین لگانے والے ورکروں کو کیوں استعمال کیا گیاہے۔ انہوں نے صدر اوباما کو یاد دلایا تھا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور امریکی قوانین کے مطابق انٹیلی جنس کے معاملات میں میڈیکل اور ریلیف ورکروں کو استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ یہ خبر پڑھ کر ہمیں اس لئے دکھ ہوا تھا کہ ہمارے ہاں شاید ڈاکٹروں کو یہ علم بھی نہیں ہے کہ اقوام متحدہ یا امریکی قوانین میں طب کے شعبہ سے وابستہ لوگوں کا خصوصی استحقاق ہے اور ان کو خاصی عزت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ جب افراد یا قومیں قومی ہمدردی سے محروم ہو جاتی ہیں تو ان کی سوچ بیمار بلکہ مفلوج ہو کر رہ جاتی ہے۔

چند روز قبل ایک دوست ایک واقعہ سنا رہے تھے کہ ایک پاکستانی بیورو کریٹ ایک برطانوی یونیورسٹی میں پڑھنے کے لئے گئے۔ ان کا ہاسٹل ان کے تعلیمی ادارے سے قدرے فاصلے پر تھا۔ انہیں اکثر دیر ہو جاتی۔ ان کے پروفیسر نے انہیں سائیکل خریدنے کا مشورہ دیا۔ وہ ایک شارٹ کورس پر گئے تھے۔ چار ماہ بعد جب ان کا کورس ختم ہوا تو ان کے پروفیسر نے دریافت کیا کہ وہ سائیکل کا کیا کریں گے؟ انہوں نے بتایا کہ وہ اسے ہاسٹل میں چھوڑ جائیں گے تاکہ کوئی دوسرا استعمال کر لے۔ اس پر پروفیسر صاحب نے انہیں نوٹس بورڈ پر سائیکل برائے فروخت کا اشتہار لگانے کا مشورہ دیا۔ تیسرے دن ایک انگریز نوجوان آ گیا۔ اس نے سائیکل کا معائنہ کیا اور اس کے بعد قیمت دریافت کی۔ ان صاحب نے وہ سائیکل 160پونڈ کی خریدی تھی اور تقریباً تین ماہ کے استعمال کے بعد ان کے خیال میں 90پونڈ مناسب قیمت تھی۔ انہوں نے ڈیمانڈ بتائی۔ انگریز نوجوان نے 90پونڈ ادا کئے اور سائیکل لے کر چلا گیا۔ تیسرے دن وہ صاحب یہ دیکھ کر حیران ہوگئے کہ وہ انگریز نوجوان دوبارہ آ گیا۔ انہوں نے اس کی آمد کی وجہ دریافت کی تو انگریز نوجوان نے کہا کہ ”میں نے انٹرنیٹ سے چیک کیا ہے ایسی نئی سائیکل کی قیمت 160پونڈ ہے جبکہ اس صورت میں یہ تقریباً120 پونڈ کی ہے اور میں ڈسٹرب ہوں کہ کہیں میں نے آپ کی کسی مجبوری کا فائدہ تو نہیں اٹھایا اور آپ نے کم قیمت پر یہ سائیکل فروخت کی ہے۔“ پاکستانی بیورو کریٹ یہ سن کر حیران ہوئے کہ کوئی ایسے بھی سوچ سکتا ہے۔

انہوں نے نوجوان سے دریافت کیا کہ وہ کیا چاہتا ہے؟ اس پر انہیں جو جواب ملا وہ ہلا دینے والا تھا۔”آپ براہ کرم مجھ سے 30پونڈ لے لیں کیونکہ میں اپنی زندگی اس احساس کے ساتھ نہیں گزار نا چاہتا کہ میں نے کسی کی مجبوری سے ناجائز فائدہ اٹھایا تھا۔“یہ واقعہ سننے کے بعد میں اس سوچ میں پڑ گیا ہوں کہ کیا ہم اس انداز سے سوچ بھی سکتے ہیں؟ آج سرسید زندہ ہوتے تو ان سے اس سوال کا جواب لینے کے لئے ضرور درخواست کرتا۔ کیونکہ ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے ہمارے مزاج قبائلی ہوتے جا رہے ہیں۔قبیلے کے ہر فرد کے لئے لازم ہوتا ہے کہ وہ اپنے قبیلے کے افراد کو حق پر سمجھے اور ان کے غلط یا درست ہونے کے معاملے میں دل اور دماغ کو استعمال نہ کرے۔ قوموں کے عروج و زوال کی تاریخ سے یہ نتیجہ اخذ کرنا زیادہ مشکل نہیں کہ ایسی سوچ افراد، قبیلے اور قوم کو خود کشی کے راستہ کی طرف لے جاتی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -