20،30روپے کا ماسک اور 55روپے کا لائف بوائے صابن

20،30روپے کا ماسک اور 55روپے کا لائف بوائے صابن
20،30روپے کا ماسک اور 55روپے کا لائف بوائے صابن

  

آدھا پاکستان لاک ڈاؤن کی زد میں ہے۔ ایک نئی اصطلاح ”سلیکٹڈ لاک ڈاؤن“ بھی اسی وبا کے طفیل وضع ہو کر قبولِ عام حاصل کر رہی ہے۔ ایک صدی پہلے 1918ء میں اسپینی فلو (Spanish Flue) کے نام سے ایک ایسی ہی عالمی وبا (Pandemic) پھیلی تھی۔ آج دنیا کی آبادی ساڑھے سات ارب نفوس پر مشتمل ہے۔ لیکن 1918ء میں یہ آبادی ڈیڑھ ارب تھی اور اس آبادی کا ایک تہائی یعنی 50کروڑ لوگ اسپینی فُلو کا شکار ہوئے تھے جن میں 5کروڑمر گئے تھے۔ اور اس کی ویکسین (ٹیکہ) ابھی ایجاد نہیں ہوئی تھی۔ دوسرے لفظوں میں اگر آج کی عالمی آبادی کا تیسرا حصہ بھی کورونا کی زد میں آئے تو اڑھائی ارب لوگوں کو اس کا شکار ہو جانا چاہیے اور اگر 1918ء میں 50کروڑ کی آبادی میں 5کروڑ لقمہ ء اجل ہو گئے تھے تو آج 250کروڑ کی آبادی میں 25کروڑ لوگ اگر مر جائیں تو ایک صدی پہلے کا حساب ”برابر“ ہو گا۔ کورونا کی آج کی اتلافات اس طرح ہیں کہ کل عالمی آبادی میں ”صرف“ 80لاکھ لوگ اس کا شکار ہوئے ہیں جن میں سے 37لاکھ زیر علاج ہیں، 38لاکھ صحت یاب ہو کر واپس اپنے کام کاج پر جا چکے ہیں اور اموات کی کل تعداد 4لاکھ 36ہزار 786ہو چکی ہے…… کہا جا رہا ہے کہ یہ تعداد ابھی پھیلے گی لیکن میرا خیال نہیں کہ آنے والے دو تین برسوں میں بھی 25کروڑ انسان اس وبا سے جان کی بازی ہار جائیں گے۔ لیکن 1918ء کے مقابلے میں آج ایک صدی بعد مواصلاتی اور ابلاغی ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ نے خوف و ہراس کی جو فضا پیدا کر رکھی ہے معلوم ہو رہا ہے کہ زیادہ تر اموات کا باعث یہی خوف ہے۔ اس خوف کو روکنے کا علاج حضرت اقبال نے جگہ جگہ تجویز کیا ہے لیکن ان کی یہ رباعی اس کورونا وبا کے پیش منظر میں حد درجہ قابلِ اعتنا ہے:

اگر لہو ہے بدن میں تو خوف ہے نہ ہراس

اگر لہو ہے بدن میں تو دل ہے بے وسواس

ملا جسے یہ متاعِ گراں بہا، اس کو

نہ سیم و زر سے محبت ہے،نے غمِ افلاس

جس”لہو“ کا ذکر اقبال نے یہاں کیا ہے وہ گویا ایسا پلازما ہے جس سے ہر طرح کے درد کا درماں کیا جا سکتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ یہ سچ ہے یا جھوٹ، سوال یہ ہے کہ پاکستان کے عوام کی رگوں میں یہ فرق ہے بھی یا نہیں ہے۔ اگر خون ہے تو سب سے پہلے دل جب دھڑکتا ہے تو وہ خون کو نیچے دھڑ کی طرف پھینکنے سے پہلے سر کی طرف پھینکتا ہے۔ دلِ زندہ کا مطلب دماغِ زندہ ہے کہ دل تو محض ایک پمپ ہے، اصل کام دماغ کرتا ہے۔ ترکی کے صدر جنرل جمال گرسل کئی برس تک بے ہوش رہے۔ ان کا دل زندہ تھا لیکن دماغ قریب المرگ تھا۔ دل تو خون پھینکتا تھا، لیکن دماغ وہ فنکشن نہیں کر سکتا تھا جو اسے کرنے چاہئیں تھے۔ تازہ طبی تحقیقات سے یہ بھی ثابت ہو چکا ہے کہ دل کا اپنا ایک چھوٹا سا دماغ (Mini Brain) بھی ہوتا ہے۔ یہ دماغِ صغیر اگر کام کرنا چھوڑ دے تو دماغِ کبیر کے سارے فنکشن درہم برہم ہو جاتے ہیں …… بدن میں زیادہ خون ہو تو دماغِ صغیر تادیر فنکشن کرتا ہے اور اقبال نے اسی ”خون“ کا ذکر کیا ہے:

اگر لہو ہے بدن میں تو خوف ہے نہ ہراس

اگر آج 80لاکھ نفوس اس خوف کا شکار ہوئے ہیں تو ان میں سے آدھے (38لاکھ) صحت یاب ہو کر ہسپتالوں یا اپنے گھروں میں بنائے گئے قرنطینہ کمروں سے باہر نکل کر گلشن کا کاروبار چلانے کے قابل ہو چکے ہیں …… ایک مثال اپنی اور ایک اپنے دوست کی پیشِ قارئین ہے:

میرے بیٹے کو 25مئی (2020ء) کو صبح گلے میں معمولی سی خراش ہوئی شام کو 100ٹمپریچر ہو گیا، بدن میں دردیں شروع ہو گئیں اور اضطراب بڑھ گیا۔ کورونا کی خبریں میڈیا پر عام تھیں اس لئے اس نے فوراً ہی اپنے آپ کو ایک الگ کمرے میں قرنطینہ کر لیا۔ 20دن تک بخار نیچے اوپر ہوتا رہا۔ اسی اثناء میں اس نے کورونا ٹیسٹ بھی کروایا جو Positiveآ گیا لیکن بخار کبھی 101سے اوپر نہ گیا۔ بالآخر 21ویں روز بخار اتر گیا۔ اس نے ازراہِ احتیاط مزید 5دن قرنطینہ میں گزارے اور اب ماشاء اللہ پوری طرح روبہ صحت ہے……دوسری مثال ایک دوست کی ہے۔ وہ ذرا تفصیل سے بیان کروں گا:

کرنل منظور احمد بخشی ریٹائرمنٹ کے بعد راولپنڈی میں مورگاہ آفیسرز کالونی میں رہتے ہیں ان سے دیرینہ رفاقتوں کے رشتے ہیں۔گزشتہ سال دسمبر میں ان کی اہلیہ محترمہ کا انتقال ہو گیا۔24مئی کو ان کے انتقال کے بعد چونکہ پہلی عید تھی اس لئے ان کے بچے جو مختلف شہروں میں (شادیوں کے بعد) رہتے تھے وہ راولپنڈی آ گئے۔ ان کا ایک نواسہ لاہور میں ڈاکٹر ہے(اور کالاشاہ کاکو میں بنائے گئے کورونا ہسپتال میں ڈیوٹی پر تھا)…… ایک روز ظہر کی نماز پڑھ کر جب وہ مسجد سے گھر آئے تو گلے میں خراش سی محسوس ہوئی۔ ان کے مطابق وہ ہیٹ سٹروک کے پرانے مریض ہیں۔ ہر سال گرمی کے موسم میں ان پر ہیٹ سٹروک کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ اور ایسے میں وہ ایک ہومیو پیتھ دوا (Gronino 30) لے لیتے ہیں جو اس مرض کا تیر بہدف علاج ہے اور فوراً آرام آ جاتا ہے۔اسی شام کو ان کو بخار ہو گیا اور بچوں نے تازہ پانی کی پٹیاں ماتھے پر رکھ کر ٹمپریچر نارمل کرنے کی کوشش کی لیکن جب زیادہ افاقہ محسوس نہ ہوا تو خیال آیا شاید کورونا ہو گیا ہے۔ ملٹری ہسپتال (MH) راولپنڈی چلے گئے اور AFIP(آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف پیتھالوجی) سے 5ہزار روپے دے کر ٹیسٹ کروایا تو Positiveآیا۔ چنانچہ وہی کورس شروع کیا گیا جو کورونا پازیٹو مریضوں کو اول اول کرواتے ہیں یعنی حسبِ ضرورت Panadol اور ایک ایک گولی صبح شام Azomax…… ہر دو گھنٹے بعد ٹمپریچر لے کر اس کا ریکارڈ بھی رکھتے رہے۔ ساتھ ہی دیسی ٹوٹکے بھی جاری رکھے، مثلاً ایک تُری کچے لہسن کی، اتنی ہی مقدار میں ادرک، صبح شام ایک ایک لونگ اور رات کو سنا مکی قہوے کا آدھا کپ…… کسی نے بتایا کہ دہی بھی مفید ہے تو موصوف نے دہی کی لسی بنائی اور پورا جگ چڑھا گئے۔ کہنے لگے یہ میرا روز کا معمول بن گیا۔

ان کا نواسہ جو ڈاکٹر ہے اسے بھی کورونا ہو گیا۔ ان کا ٹمپریچر البتہ 101،102 تک چلا گیا۔ ان کا علاج بھی وہی تھا جو نانا ابو کا ہو رہا تھا (لسی کا جگ اس میں شامل نہ تھا!) تقریباً دو ہفتوں کے بعد نانا اور نواسہ دونوں رب کریم کی عنائت سے صحت یاب ہو گئے۔ ڈاکٹر صاحب واپس اپنی ڈیوٹی پر جا چکے ہیں اور نانا نے معمول کی فراغتیں سنبھال لی ہیں …… ان سے میں نے پوچھا کہ عام طور پر میڈیا میں یہ تفصیلات بھی (بزبان ڈاکٹر ظفر مرزا اور ڈاکٹر یاسمین راشد وغیرہ) آتی ہیں کہ جن لوگوں کو شوگر ہو، بلڈ پریشر اوپر نیچے ہوتا رہتا ہو اور کبھی کبھار سانس کی تکلیف بھی ہو جاتی ہو تو ان پر کورونا وائرس کا حملہ شدید بھی ہوتا ہے اور تیز بھی تو اس سلسلے میں آپ کا تبصرہ کیا ہے۔ کرنل بخشی نے کہا: ”بالکل جھوٹ ہے…… میں شوگر کا پرانا مریض ہوں۔ دل کے عارضے کا عالم یہ ہے کہ اب تک تین سٹنٹ ڈل چکے ہیں۔ بی پی بھی اوپر نیچے ہوتا رہتا ہے اور سانس کی تکلیف بھی کبھی کبھی ہو جاتی ہے لیکن الحمدللہ ان کورونائی ایام میں مجھے کبھی یہ محسوس نہیں ہوا کہ میرے یہ دیرینہ عوارض اس وائرس کو تیز تر کرنے کا سبب ہوئے ہیں“۔

مجھے معلوم نہیں کہ یہ جو صبح و شام و شب میڈیا دہائی مچی ہوئی ہے کہ آج 97مریض کورونا کی وجہ سے جاں بحق ہو گئے اور آج دو ہزار 97کیسز رپورٹ ہوئے ہیں تو اس میں کتنی حقیقت ہے اور کتنا افسانہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ماسک پہنیے، بار بار ہاتھ دھویئے اور سماجی فاصلہ رکھئے…… لیکن اگر پھر بھی خدانخواستہ کورونا کی علامات ظاہر ہوں تو فوراً قرنطینہ کیجئے…… جو لوگ اس کی استطاعت نہیں رکھتے وہ کم از کم اول الذکر تین احتیاطی تدابیر پر تو عمل کر سکتے ہیں۔ ان پر کوئی خرچہ نہیں آتا۔ قرنطینہ کی نوبت ہی نہ آنے دیجئے۔ ماشا اللہ آپ عقل مند اور بالغ ہیں۔ کیا اتنی سی کامن سینس بھی نہیں کہ اگر یہ ہاہاکار مچی ہوئی ہے تو دل کی بات بے شک نہ سنیں، دماغ کی تو مانیں!…… کیا بدن میں لہو نہیں ہے؟…… اگر ہے تو خوف و ہراس کا شکار نہ ہوں۔ ماسک نہ پہننا اور ہاتھ نہ دھونا کیا آپ کے انسانی شرف میں کوئی ”بڑا اضافہ“ کر دے گا؟…… اگر نہیں تو اس کے آزمانے میں کیا ہرج ہے؟…… کتنا خرچ اٹھتا ہے ان پر؟ 20،30روپے کا ماسک اور 55روپے کا لائف بوائے…… اور بس!!

مزید :

رائے -کالم -