پٹرول بحران، وزیراعظم کا ملوث عناصر اور کمپنیوں کیخلاف کارروائی کا حکم، لائسنس معطل یا منسوخ، ذخیرہ شدہ آئل مارکیٹ میں سپلائی کرنے کی ہدایت

      پٹرول بحران، وزیراعظم کا ملوث عناصر اور کمپنیوں کیخلاف کارروائی کا ...

  

 اسلام آباد(سٹاف رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وزیراعظم عمران خان نے پٹرول کے مصنوعی بحران میں ملوث کمپنیوں کیخلاف کارروائی کا حکم دیدیا۔پٹرول بحران پر وزیراعظم کو تحقیقاتی رپورٹ پیش کی گئی جس میں بتایا گیا 9 آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے جان بوجھ کرپٹرول بحران پیدا کیا، سٹوریج میں پٹرول ہونے کے باوجود یکم جون سے پٹرول کی سپلائی محدود کی گئی۔تحقیقاتی ر پو ر ٹ پر وزیراعظم عمران خان نے پٹرول کے مصنوعی بحران میں ملوث افراد اور کمپنیوں کیخلاف کارروائی کا حکم دیا ہے۔وزیراعظم نے بحران میں ملوث کمپنیوں کے لائسنس معطل اور منسوخ کرنے کی ہدایت کی ہے۔وزیراعظم نے یہ بھی ہدایت کی کہ ذخیرہ شدہ پٹرول مارکیٹ میں سپلائی کیا جائے۔ وزیراعظم کو پٹرول بحران کی رپورٹ پیش کر دی گئی۔ عمران خان نے پٹرول بحران میں ملوث کمپنیوں اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی ہدایت کرتے ہوئے ملوث افراد کو گرفتار اور ذخیرہ شدہ پٹرول جبری طور پرمارکیٹ میں سپلائی کرنے کا حکم دیدیا۔وزیراعظم عمران خان کو پیش کی جانیوالی رپورٹ میں پٹرول بحران کے ذمہ داروں کا تعین بھی کیا گیاہے۔ اوگرا نے پٹرول بحران کی ذمہ داری پٹرولیم ڈویژن پر عائد کر دی۔رپورٹ کے مطابق 9 ائل مارکیٹنگ کمپنیوں نے جان بوجھ کر بحران پیدا کیا، ڈی جی آئل ڈاکٹر شفیع آفریدی اور پٹرولیم ڈویژن افسران اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہے۔عمران خان نے کہا کہ پٹرول بحران کسی صورت برداشت نہیں کیا جائیگا، بحران میں ملوث کمپنیوں کے لائسنس معطل اور منسوخ کیے جا ئیں، تمام آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو 21 دن کا ذخیرہ یقینی بنانے کا پابند کیا جائے۔خیال رہے کہ ملک میں پٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے بعد یکم جون سے مختلف شہروں میں پٹرول کی شدید قلت پیدا ہو گئی تھی،پٹرول کی سپلائی نہ ہونے کے باعث متعدد پٹرول پمپس بند جبکہ جو کھلے ہوئے تھے وہاں پر گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئی تھیں۔میڈیا پر خبر نشر ہونے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے ملک میں ہونے والے پٹرول بحران کا نوٹس لیتے ہوئے وزیر پٹرولیم عمرایوب خان سے واقع کی رپورٹ طلب کی تھی۔وزیر پٹرولیم عمر ایوب خان نے 72 گھنٹوں میں پٹرول کی سپلائی نارمل ہونے کا دعویٰ کیا تھا تاہم وفاقی وزیر کے دعوے کے بعد بھی ملک کے کئی شہروں میں پٹرول کی قلت برقرار ہے۔

وزیراعظم حکم

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے تعلیمی نظام میں طبقاتی تفریق کو ختم کرنا موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ مدارس کو مرکزی دھارے میں لانے کیلئے طے شدہ لائحہ عمل پر عملدرآمد کے حوالے سے کوششیں تیز کی جائیں۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم کے زیر صدارت اہم اجلاس ہوا جس میں کورو نا وائرس کی وجہ سے تدریسی اداروں کی بندش کے باوجود نظام تعلیم کو جاری رکھنے کیلئے مختلف اقدامات پر بریفنگ میں بتایا گیا کہ ایک اندازے کے مطابق 70 سے 80 لاکھ طلبہ ٹیلی سکولنگ سے مستفید ہو رہے ہیں۔ ملک میں ای تعلیم پورٹل کا اجرا بھی کیا جا رہا ہے۔وزیراعظم عمران خان نے اس موقع پر کہا کہ تمام صوبائی وزرائے تعلیم کی مشاورت سے تعلیمی اور تدریسی عمل کے حوالے سے مشترکہ حکمت عملی تشکیل، تعلیمی اداروں کی مالی مشکلات اور والدین کے فیسوں کے حوالے سے تحفظات کو دور کرنے کیلئے بھی حکمت عملی وضع کی جائے۔ فاصلاتی تعلیم اور خصوصاً موجودہ حالات میں مختلف ذرائع سے تدریسی عمل تک آسان رسائی کو یقینی بنایا جائے۔ اس ضمن میں تمام موجود ذرائع اور وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ اجلاس میں بین الاقوامی اداروں کی معاونت سے ملک میں نظام تعلیم کی بہتری کیلئے مختلف اقدامات کے حوالے سے بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ وزیراعظم نے کہا کورونا کی صورتحا ل کی وجہ سے تعلیم کے شعبے کو غیر معمولی چیلنجز درپیش ہیں، اس کے باوجود ہر ممکنہ کوشش کی جائے کہ تدریسی عمل کسی صورت متاثر نہ ہو۔ تعلیم کے شعبے میں درپیش چیلنجز سے نمٹنے کیلئے آؤٹ آف باکس سلوشن تجویز کیے جائیں، درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرتے ہوئے معیاری تعلیم کے فروغ اور آسان رسائی کے مشن کو آگے بڑھایا جا سکے۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا مدارس کو مرکزی دھارے میں لانے خصوصاً مدارس میں زیر تعلیم بچوں کو جدید علوم کی تعلیم سے آراستہ کرنے اور انکو ہنر مند بنانے کے حوالے سے مدارس کیساتھ طے شدہ لائحہ عمل پر عمل درآمد کے حوالے سے بھی کوششیں تیز کی جائیں۔ اجلاس میں وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود، وزیرِ اطلاعات سینیٹر شبلی فراز، معاون خصوصی برائے اطلاعات لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ، وزیر برائے ہائر ایجوکیشن پنجاب راجہ یاسر ہمایوں، چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن طارق بنوری اور سینئر افسران شریک تھے۔وزیراعظم کو تفصیلی بریفنگ بتایا گیا کہ پہلی جماعت سے پانچویں جماعت تک کیلئے متفقہ نصاب تشکیل دیدیا گیا ہے جس کا اپریل 2021میں نفاذ کر دیا جائیگا،اس کے علاوہ چھٹی سے آٹھویں جماعت کا نصاب مرتب کرنے کیلئے متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی جا رہی ہے۔ ملک کے دور دراز علاقوں میں طلبہ کی تعلیم کیلئے ریڈیو پاکستان کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔ وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ فاصلاتی تعلیم اور خصوصاً موجودہ حالات میں مختلف ذرائع سے تدریسی عمل تک آسان رسائی کو یقینی بنایا جائے اور اس ضمن میں تمام موجود ذرائع و وسائل برؤے کار لائے جائیں۔ بین الاقوامی اداروں کی معاونت سے ملک میں نظام تعلیم کی بہتری کیلئے مختلف اقدامات کے حوالے سے بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ مختلف صوبوں میں قائم وفاقی یونیور سٹیو ں کے ذیلی کیمپسز کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ اس حوالے سے مفصل لائحہ عمل مرتب کیا جائے تاکہ جہاں تعلیم کے معیار کو برقرار رکھا جا سکے وہاں اس بات کو بھی یقینی بنایا جا سکے کہ ذیلی کیمپسز میں زیر ِ تعلیم طلبہ کی تعلیم میں کوئی حرج اور خلل نہ پڑے۔وزیر اعظم نے کہا کہ نوجوانوں کو جدید علوم سے آراستہ کرکے موجودہ اور مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے تیار کرنا وقت کی اہم ضرورت اور ہماری اولین ترجیح ہے۔

عمران خان

مزید :

صفحہ اول -