کورونا کیخلاف اقدامات کیلئے ”بڑی بیٹھک“ آئندہ دو ماہ کے دوران وباء کیخلاف مشترکہ اور مربوط حکمت عملی اپنانا ہو گی، قوم متحد ہو کر اس غیر معمولی چیلنج کامقابلہ کرے: وزیراعظم

    کورونا کیخلاف اقدامات کیلئے ”بڑی بیٹھک“ آئندہ دو ماہ کے دوران وباء ...

  

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک،آن لائن)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہمیں آئندہ دو ماہ کے دوران کورونا وبا سے لڑنے کے لیے قوم بن کر مشترکہ اور مربوط حکمت عملی اپنانا ہوگی۔تفصیل کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کا دورہ کیا، اس موقع پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ بھی ان کے ہمراہ تھے۔ وفاقی وزرا، وزیراعظم آزاد کشمیر، چاروں صوبوں اور گلگت بلتستان کے وزرائے اعلیٰ نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی عمران خان نے کہا کہ پاکستان نے کورونا وائرس کیخلاف متوازن انداز میں اقدامات اٹھائے ہیں،ہر کسی کو انتہائی احتیاط کا مظاہرہ کرنا ہوگا،ہمیں آئندہ دو ماہ متحد و منظم ہو کر وباء کیخلاف لڑنا ہوگا،اجلاس میں وفاقی وزیر اسد عمر اور ڈی جی آپریشنز و پلاننگ این سی او سی میجر جنرل آصف محمود گورایا نے وزیراعظم کو کووڈ 19کے پھیلاؤ،ہسپتالوں پر دباؤ،اموات اور مستقبل کے منصوبوں کے حوالے سے تفصیلی تجزیوں کے ساتھ بریفنگ دی۔وزیراعظم کو ملک بھر میں وباء کے پھیلاؤ کی روک تھام،ایس او پیز پر عملدرآمد سمیت تمام سٹاک ہولڈرز کے ساتھ تعاون کے ذریعے بیماری کی روک تھام اور فیصلوں پر عملدرآمد کے حوالے سے حکمت عملی سے متعلق بھی بریف کیا گیا۔شرکاء کو خاص طور پر چیلنج سے نمٹنے کیلئے ملک کے ہیلتھ کیئر سسٹم میں بہتری کے حوالے سے اقدامات اور خامیوں کی نشاندہی بارے بھی بریف کیا جبکہ ہیلتھ کیئر پروفیشنلز کی صلاحیتوں کو بڑھانے،مریضوں کیلئے بیڈز کی دستیابی میں اضافے،اہم ادویات کی بلاتعطل دستیابی اور آکسیجن کی موزوں فراہمی کے حوالے سے بھی بتایا گیا۔شرکاء نے اس اس عزم پر بھی اتفاق کیا کہ زندگی اور ذریعہ معاش کے درمیان توازن کی حکمت عملی کو جاری رکھا جائے گا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ جبکہ کاروبار کھلے رہنے چاہئیں،ایس اوپیز پر عملدرآمد کو آگاہی مہم اور انتظامی اقدامات کے ذریعے یقینی بنایا جائے گا۔وباء کا مرکز بننے والے اداروں میں سمارٹ لاک ڈاؤن کا استعمال کیا جارہا ہے اور اس حوالے سے ٹیکنالوجی ہتھیار جو حالیہ استعمال کئے گئے این سی او سی کی جانب سے ان پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔فورم کو مریضوں سے رابطے والے افراد کی تلاش اور مرض کے پھیلاؤ کے حوالے سے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال پر بھی بریف کیا گیا اور یہ بتایا گیا کہ گزشتہ4 روز کے دوران مثبت ٹیسٹوں کے حوالے سے کیسز میں کمی آئی ہے،تمام صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور وزیراعظم آزاد کشمیر نے اپنے اپنے علاقوں میں کئے جانے والے اقدامات کے حوالے سے بریف کیا اوراس بات کا متفقہ طور پر اعتراف کیا کہ وفاقی حکومت تمام پہلوؤں سے معاونت فراہم کر رہی ہے۔اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے خطاب کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مرض کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے تمام تر کوششوں کو بروئے کار لانے پر توجہ مرکوز کی جائے۔ہسپتالوں میں ادویات،آکسیجن اور بستروں کی دستیابی یقینی بنائی جائے۔انہوں نے پوری قوم پر زور دیا کہ اس چیلنج سے نمٹنے کیلئے مکمل طورپر یکجہتی قائم کی جائے،تمام پاکستانی عمر رسیدہ اور بیمار افراد کو محفوظ بنائیں،خاص طور پر ایسے افراد جو دل اور شوگر کے امراض میں مبتلا ہیں۔وزیراعظم نے این سی او سی کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے کورونا وائرس کے خلاف متوازن انداز میں اقدامات اٹھائے ہیں،تاہم ہر کسی کو انتہائی احتیاط کا مظاہرہ کرنا ہوگا،ہمیں آئندہ دو ماہ کے عرصے میں متحد اور منظم انداز میں ملکر اس مرض کے خلاف لڑنا ہوگا۔ہمارے اقدامات بحران کی نوعیت اور مفاہمت کے ذریعے رد عمل کی کامیابی کا تعین کریں گے۔وزیراعظم عمران خان نے ہیلتھ کیئر ورکرز کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ وہ اس نازک مرحلے میں ہمیں قابل فخر بنا رہے ہیں اور پوری قوم ان کے کردار کو سراہتی ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ میڈیا نے اب تک ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے،کسی قسم کی سنسنی خیزی کے حوالے سے انہیں خود سے چیک رکھنا چاہئے۔دریں اثناء نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی)کے اجلاس سے متعلق پریس بریفنگ میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا ہے کہ ملک بھر میں اسمارٹ لاک ڈان پر عملدرآمد شروع ہوگیا ہے، اگلے چند ہفتے انتہائی مشکل ہیں، اگر عوام احساس ذمہ داری پوری کریں گے تو حکومت بھی اپنے حصے کی تمام ذمہ داری ادا کرکے ہر ممکن سہولت فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس سے متعلق ٹیکنالوجی کے ذریعے حاصل کردہ اعداد و شمار کی روشنی میں تمام صوبوں کو اسمارٹ لاک ڈان کی معلومات شیئر کردی ہیں۔اسلام آباد میں وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران اسد عمر نے کہا ملک بھر کے 20 شہروں کے انتہائی متاثرہ علاقوں میں اسمارٹ لاک ڈان پر عملدرآمد شروع ہوگیا ہے جبکہ گلگت بلتستان میں جلد شروع ہوجائے گا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ 'وفاقی حکومت این سی او سی کے پلٹ فارم سے صوبوں کی مدد کررہی ہے جس میں قابل ذکر آکسیجن اور آکسیجن بیڈ کی فراہمی پر خصوصی طور پر توجہ دی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ 'ہماری ٹیم نے تمام صوبوں کا دورہ کیا اور وہاں موجود ہسپتالوں کی شناخت کی جہاں طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ جون کے آخر تک ایک ہزار بیڈ اور جولائی کے اواخر کے 2 ہزار بیڈ کا اضافہ کیا جائے گا۔اسد عمر نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی خصوصی ہدایت تھی کہ طبی عملے کی ضروریات اور ان کی امداد کے لیے مجوزہ پیکج پر تیزی سے عملدرآمد کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ نئی وبا کے تناظر میں نئی ادویات متعارف ہورہی ہے اس لیے ڈریپ میں نئی ادویات کی رجسٹریشن کا عمل تیز کردیا گیا اور این سی سی نے بھی اس پر زور دیا تھا۔اسد عمر نے کہا کہ ادویات کی رجسٹریشن جو مہینوں میں ہوتی تھی اب دو ہفتے کے اندر کردی جاتی ہے۔این سی او سی نے فیصلہ کیا تھا کہ سرکاری ہسپتالوں میں مہنگی ادوایات خرید رکھ کر رکھی جاسکے تاکہ مستحق مریضوں کو فراہم کی جا سکیں۔ان کا کہنا تھا کہ اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ کووڈ 19 کے مقابلے میں تمام سیاسی جماعتوں کا نقطہ نظر ایک ہونا چاہیے، تمام سیاسی اختلافات ایک طرف رکھ دیے جائیں تاکہ قوم کو تسلی ہوسکے کہ حکومت سمیت دیگر سیاسی قائدین کے رہنما کووڈ 19 کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگلے چند ہفتے انتہائی مشکل ہیں، اگر عوام احساس ذمہ داری پوری کریں گے تو حکومت بھی اپنے تمام وسائل کا استعمال کرکے سہولت فراہم کرے گی اس لیے ثابت قدم رکھیں۔

بڑی بیٹھک

لاہور، اسلام آباد،کراچی (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) جمعرات کے روزملک بھر میں کورونا سے مزید 131 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ، 5403 نئے کیسز رپورٹ ہوئے سندھ میں ایک ہی روز سب سے زیادہ 48افراد جاں بحق ہو گئے جس سے ملک میں اموات کی مجموعی تعداد 3165 جبکہ مریضوں کی تعداد 163190 تک پہنچ گئیاب تک پنجاب میں کورونا سے 1202 اور سندھ میں 964 افراد انتقال کرچکے ہیں جب کہ خیبر پختونخوا میں 773 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔اس کے علاوہ بلوچستان میں 99، اسلام آباد میں 94، گلگت بلتستان میں 18 اور آزاد کشمیر میں مہلک وائرس سے 15 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ بروز جمعرات ملک بھر سے کورونا کے مزید 5403 کیسز اور 131 ہلاکتیں سامنے آئیں جن میں پنجاب سے 1899 کیسز اور 53 ہلاکتیں، سندھ سے 2286 کیسز اور 48 اموات، خیبر پختونخوا سے 569 کیسز اور 18 اموات، اسلام آباد 395 کیسز 4 ہلاکتیں، بلوچستان سے 204 کیسز 6 اموات، آزاد کشمیر سے 37 کیسز اور 2 ہلاکتیں اور گلگت بلتستان سے 13 کیسز سامنے آئے۔پنجاب سے کورونا کے مزید 1899 کیسز اور 53 ہلاکتیں سامنے ا?ئی ہیں جن کی تصدیق پی ڈی ایم اے نے کی۔صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق مطابق صوبے میں کورونا کے کل کیسز کی تعداد 60138 اور اموت 1202 تک جا پہنچی ہیں۔پی ڈی ایم اے کے مطابق پنجاب میں اب تک کورونا سے 17825 افراد صحتیاب ہوچکے ہیں۔وفاقی دارالحکومت سے کورونا کے مزید 395 کیسز اور 4 اموات سامنے آئیں جس کی تصدیق سرکاری پورٹل پر کی گئی ہے۔آزاد کشمیر سے اکورونا کے مزید 37 کیسز اور 2 ہلاکتیں سامنے آئیں جو سرکاری پورٹل پر رپورٹ کیے گئے ہیں۔سندھ سے جمعرات کو 2286 کیسز اور 48 اموات رپورٹ ہوئیں جس کی تصدیق وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی جانب سے کی گئی۔محکمہ صحت سندھ کے مطابق صوبے میں کورونا کے مجموعی مریضوں کی تعداد 62269 اور اموات 964 ہوگئی ہیں۔ مراد علی شاہ نے بتایا کہ صوبے میں 48 مریض انتقال کرگئے جو اب تک کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔جمعرات کو خیبر پختونخوا میں کورونا وائرس سے مزید 18 افراد جان کی بازی ہارگئے جس کے بعد صوبے میں ہلاکتوں کی تعداد 773 تک جاپہنچی ہے

کورونا ہلاکتیں

لاہور،راولپنڈی (مانیٹرنگ ڈیسک،آن لائن)صوبائی حکومت نے پاکستان کی طرح پنجاب بھر میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں مسلسل اضافے کو سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے ”سلیکٹڈ لاک ڈاؤن“کی منظوری دے دی ہے جس پر جمعرات کی صبح سے عملدرآمد شروع کر دیا گیا ہے ہاٹ سپاٹ قرار دیئے گئے منتخب علاقوں میں لاک ڈاؤن 30جون تک جاری رہے گا اس ضمن میں ایڈیشنل چیف سیکریٹری (ہوم)پنجاب مومن آغانے بدھ اور جمعرات کی درمیانی رات گئے باقاعدہ تحریری حکمنامہ جاری کر دیا ہے ”کوڈ آف کریمنل پروسیجر 1898 کی سیکشن144(6)کے تحت نوٹیفکیشن کے تحت راولپنڈی شہر(راول ٹاؤن)کی8یونین کونسلوں سمیت شہر چھاؤنی کے22 مخصوص اورگنجان علاقوں میں 13دن لاک ڈاؤن جاری رہے گا لاک ڈاؤن کے لئے منتخب شدہ علاقوں کے تمام داخلی و خارجی راستوں پر پولیس اور رینجرز تعینات کی جائے گی جہاں سے کسی کو بلا ضرورت نقل حمل کی اجازت نہیں ہو گی جبکہ اشیائے ضروریہ کے علاوہ ہر طرح کا کاروبار زندگی معطل رہے گالاک ڈاؤن کی زد میں آنے والے راول ٹاؤن کے علاقوں میں یونین کونسل 21میں ڈھوک کالا خان، یوسی22میں قیوم آباد اور اقبال ٹاؤن،یوسی23میں ڈھوک پراچہ اور ڈھوک کشمیریاں،یوسی24میں کری روڈ، علی آباد، ڈھوک علی اکبر،یوسی 25میں صادق آباد اورمجسٹریٹ کالونی،یو سی 26میں آفندی کالونی،سٹلائیٹ ٹاؤن (اے اورسی بلاک)،یوسی 28میں مسلم ٹاؤن اوریونین کونسل29میں خرم کالونی شامل ہیں جبکہ کینٹ کے علاقوں میں ڈھیری حسن آباد، ٹاہلی موہری،غوثیہ چوک،جھاورہ، ٹنچ بھاٹہ،پیپلز کالونی اور علامہ اقبال کالونی شامل ہیں اس حوالے سے جاری ہدائیت نامے میں کہا گیا ہے کہ لاک ڈاؤن کے علاقوں میں تمام مارکیٹیں، شاپنگ مال،ریسٹورنٹ سرکاری، نیم سرکاری اور نجی دفاتر مکمل بند رہیں گے لاک ڈاؤن میں آنے والے علاقوں میں افراد اور پبلک ٹرانسپورٹ کی آمدورفت پر مکمل پابندی ہو گی البتہ ضرورت کے تحت پرائیویٹ گاڑی میں صرف 1شخص کو آمدورفت کی اجازت ہو گی اسی طرح ان علاقوں میں کسی بھی قسم کے مذہبی، سیاسی و سماجی اجتماعات پر مکمل پابندی ہو گی لاک ڈاؤن کے علاقوں میں گروسری سٹور،جنرل سٹور، کریانہ سٹور،آٹا چکیاں،سبزی وپھلوں کی دکانیں،تندور اور پٹرول پمپ صبح9بجے سے شام7بجے تک کھلے رہیں گے جبکہ تمام میڈیکل سٹور، فارمیسیاں،لیبارٹریاں،کولیکشن پوائنٹ،ہسپتال اور کلینک 24گھنٹے کھلے رہیں گے اسی طرح دودھ دہی،مرغی، گوشت، مچھلی کی دکانیں اور بیکریاں صبح7بجے سے شام 7بجے تک کھولنے کی اجازت ہو گی بڑے ڈیپارٹمنٹل سٹوروں میں گروسری اور فارمیسی کے علاوہ تمام حصے مکمل بند رہیں گے کورونا کیسز کی روک تھام کے لیے کراچی کے تمام اضلاع کی 43 یونین کونسلز میں سخت لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا گیا ہے۔کورونا سے بچاؤ کی نئی حکمت عملی کے تحت محکمہ صحت، سندھ حکومت اور ڈپٹی کمشنرز نے کورونا ہاٹ اسپاٹس کی نشاندہی کر کے کمشنر کراچی کو رپورٹ پیش کی تھی جس پر ان تمام علاقوں کو 15 روز کے لیے سیل کرنے کا حکم نامہ جاری کیا گیا ہے۔کراچی کے مختلف علاقوں میں 2 جولائی تک لاک ڈاؤن کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے جس کا اطلاق آج شام سے ہو گا۔لاک ڈاؤن والے علاقوں میں آنے اور جانے والوں کو ماسک لگانا لازمی ہوگا، لاک ڈاون کے علاقوں میں پبلک ٹرانسپورٹ اور ڈبل سواری کی پابندی ہو گی۔ان علاقوں میں تجارتی سرگرمیوں پر پابندی ہوگی تاہم اشیا خورو نوش اور میڈیکل اسٹورز شام 7 بجے تک کھولے جاسکیں گے۔جن علاقوں میں اسمارٹ لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا گیا ہے ان میں کورنگی، جنوبی، شرقی، غربی، سینٹرل اور ملیر کے مختلف علاقے شامل ہیں۔کراچی کے ضلع شرقی، غربی اور ضلع کورنگی کی 43 یونین کونسلز شامل ہیں، تمام علاقوں کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد سے سیل کیا جائے گا۔ضلع غربی میں 13 یونین کونسلز میں اسمارٹ لاک ڈاون کیا جائے گا، ضلع شرقی میں 16 یونین کونسلز میں لاک ڈاون کیا جائے گا۔محمد علی سوسائٹی، بہادر آباد، عیسیٰ نگری، میں اسمارٹ لاک ڈاون کا فیصلہ کیا گیا ہے جب کہ گلشن اقبال، صفورا گوٹھ،عسکری فور، گلستان جوہر بلاک 13، پی ای سی ایچ ایس بلاک دو اور چھ شامل بلتی محلہ، مارٹن کوارٹرز، فاطمہ جناح کالونی بھی ضلع شرقی میں شامل ہیں، تین ہٹی، جہانگیر روڈ ایک اور دو نمبر، سولجر بازار اور نمائش بھی سیل ہونے والے علاقوں میں شامل ہیں۔ضلع کورنگی کی 14 یونین کونسلز میں پابندی عائد کی جائے گی، ناتھا خان گوٹھ، کھوکھراپار، بھٹائی کالونی، زمان ٹاون، چکراگوٹھ کورنگی، لانڈھی، ملیر اور شاہ فیصل کالونی میں لاک ڈاون کیا جائے گا۔ دیگر علاقوں میں ناصر کالونی، عوامی کالونی، ماڈل کالونی، الفلاح، ڈرگ روڈ اور ایئرپورٹ شامل ہیں۔ حیدرآباد میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن کے لیے نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے،حیدرآباد کے 90 سے زائد علاقوں میں 19 جون سے 2 جولائی تک 14 روز کا لاک ڈاؤن کیا جائے گا۔ حیدرآباد کے ڈپٹی کمشنر فواد غفار سومرو کے مطابق حیدرآباد کے 90 سے زائد علاقوں میں 19 جون سے 2 جولائی تک 14 روز کا لاک ڈاؤن کیا جائے گا۔ جاری نوٹیفکیشن کے مطابق لاک ڈاؤن کا اطلاق 19 جون کی صبح 9 بجے سے شروع ہوگا، اسمارٹ لاک ڈاؤن کے نفاذ کو پولیس، رینجرز اور متعلقہ اسسٹنٹ کمشنر یقینی بنائیں گے۔ کوئٹہ شہر کے کورونا سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں لاک ڈاؤن کا فیصلہ محکمہ داخلہ کے اجلاس میں کیاگیا جس کیلئے محکمہ صحت سے شہر میں کورونا سے زیادہ متاثرہ علاقوں کا ڈیٹا اور تفصیلات طلب کرلی گئی ہیں۔محکمہ داخلہ نے اس ضمن میں کیسکو، سوئی گیس کمپنی، واسا اور پی ٹی سی ایل کو متعلقہ علاقوں میں مطلوبہ سہولیات کی دو ہفتے تک مکمل فراہمی کے لیے اقدامات کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔ خیبر پختونخوا میں کورونا وائرس سے حالات مزید خراب ہوگئے، 3 دنوں کے دوران 9 علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا، ایبٹ آباد، سوات، نوشہرہ، مردان، چترال اور ملاکنڈ دیگر علاقوں میں بھی لاک ڈاؤن نافذ ہے، پشاور کے مختلف علاقوں میں احکامات پر مکمل عملدرآمد نہ ہوسکا۔خیبر پختونخوا میں کورونا کے کیسزکی بڑھتی ہوئی تعداد پیش نظر مختلف اضلاع میں سمارٹ لاک ڈاؤن کے نفاذ کا سلسلہ جاری ہے

لاک ڈاؤن

مزید :

صفحہ اول -