پرویز خٹک کو اتحادیوں کے خدشات دور کرنے کا ٹاسک تفویض، صادق سنجرانی کا بی این پی مینگل سے رابطہ

  پرویز خٹک کو اتحادیوں کے خدشات دور کرنے کا ٹاسک تفویض، صادق سنجرانی کا بی ...

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک،آئی این پی) وزیر اعظم نے مذاکراتی کمیٹی کو اتحادیوں کو منانے کی ہدایت کر دی۔ عمران خان نے پرویز خٹک کو اتحادیوں کے خدشات دور کرنے سے متعلق ٹاسک دے دیا۔ذرائع کے مطابق اتحادیوں کے خدشات پر وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں اسد عمر، پرویز خٹک، اسد قیصر، شفقت محمود اور بابر اعوان شریک ہوئے، اجلاس میں بی این پی مینگل سے ہونے والے مذاکرات اور رابطوں پر بریفنگ دی گئی۔اجلاس میں بی این پی مینگل کے 6 مطالبات کے نکات پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا، جن نکات پر عمل نہیں ہوا ان کی وجوہات بی این پی مینگل سے شئیر کرنے کی ہدایت کی گئی۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے ہدایت کی کہ بی این پی مینگل سے دوبارہ باضابطہ رابطہ کیا جائے۔دوسری جانب حکومت نے سردار اختر مینگل سے پہلا باضابطہ رابطہ کرلیا۔چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے سردار اختر مینگل سے پارلیمنٹ لاجز میں اہم ملاقات،جس میں سیاسی صورتحال پر بات چیت ہوئی،چیئرمین سینیٹ نے پرویزخٹک کی سربراہی میں قائم مذاکراتی کمیٹی کا پیغام سردار اختر مینگل تک پہنچایا اور مذاکراتی کمیٹی کی طرف سے جلد ملاقات کی اطلاع بھی دی۔اس موقع پر سردار اختر مینگل نے اپنے موقف دہراتے ہوئے کہا کہ جو کرنا تھا کرلیا اب میرے پاس کرنے کو کچھ نہیں،اب جو کچھ پیشرفت کرنی ہے حکومت کو کرنی ہے۔ جس پر چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ آپ کا پیغام مذاکراتی کمیٹی کو پہنچا دوں گا مگر ہمیں آپکو ساتھ لیکر چلنا ہے،بلوچستان کے مسائل کے حل کیلئے ہم ملکر زیادہ موثر کوششیں کرسکتے ہیں۔بعد ازاں ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سردار اختر مینگل نے کہا کہ صادق سنجرانی کا تحریک انصاف سے تعلق نہیں،صادق سنجرانی حکومت کے اتحادی اور چیئرمین سینٹ ہیں اسی لئے وہ آئے تھے،چیئرمین سینٹ جاننا چاہتے تھے کہ ایسا کیوں ہوا،چیئرمین سینٹ سے کہا ہے جاکر حکومت سے پوچھیں معاہدوں پر عمل کیوں نہیں ہوا،اگر معاہدوں پر کچھ عمل ہوا ہے تو کتنا ہوا ہے حکومت سے پوچھیں۔دوسری جانب غیرملکی نشریاتی ادارے کو خصوصی انٹرویو کے دوران بتایا کہ موجودہ دور حکومت میں بلوچستان سے 1500 کے قریب جبری گمشدگیاں ہوئی ہیں جبکہ اس عرصے میں 418 افراد بازیاب ہوئے ہیں اور یہ وہ ہیں جنھوں نے ان سے رابطہ کیا یا ان کے ذریعے رہا ہوئے ہیں۔ہم نے قومی اسمبلی میں لاپتہ 5128 افراد کی فہرست پیش کی تھی، اسی دوران مئی تک 500 مزید افراد کی گمشدگی کی ایک اور فہرست دی جبکہ 900 سے 1000 افراد کی ایک اور فہرست ہے جو ابھی تیار ہو رہی ہے یہ تمام لوگ تحریک انصاف کی حکومت میں لاپتہ ہوئے ہیں اس صورتحال سے واضح ہوتا ہے کہ ہمارے مطالبات اور بنیادی مطالبے پر کوئی پیش رفت نہیں ہو رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی ڈیموگرافی میں تبدیلی کے خلاف قانون سازی کیلئے مسودہ ابھی تک قومی اسمبلی کی سٹینڈنگ کمیٹی میں پڑا ہوا،افغان مہاجرین کی واپسی کا اعلان ہوا اس پر عملدرآمد نہیں کیا گیا، صحت، تعلیم، معدنی وسائل اور انفراسٹریکچر،گودار کے ماہی گیروں کے مسائل پر بھی صفر پیش رفت ہوئی۔انھوں نے بتایا کہ پہلے جہانگیر ترین کی سربراہی میں کمیٹی بنائی گئی اس کے بعد نعیم الحق کو سربراہ بنا دیا گیا دوبارہ جہانگیر ترین کو سربراہ بنایا گیا، پھر ان کو ہٹاکر اب پرویز خٹک کو کمیٹی میں رکھا گیا اس صورتحال میں سلسلہ بے ربط ہوجاتا ہے کمیٹی کو مسائل اور صورتحال کو دوبارہ سے سمجھانا پڑتا ہے اس طرح پورا عرصہ صرف ان کمیٹیوں میں گزر گیا ہے، پیش رفت کوئی نہیں ہوئی ہے۔سردار اختر مینگل کا کہنا تھا کہ ہماری سینٹرل کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ اب اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے کہ حکومتی اتحاد کو خدا حافظ کہہ کر نکل آئیں۔ سردار اختر مینگل کا کہنا تھا کہ ان کے مطالبات پر عملدرآمد ممکن نہیں لگتا لیکن یہ ناممکن نہیں ہے۔ حکومت اب پہلے مطالبات پر عملدرآمد کرے اس کے بعد بی این پی کیا، بلوچستان کی تمام اقوام تحریک انصاف میں شامل ہو جائیں گی۔ان کا کہنا تھا کہ 'ہمارے معاہدے حکومت کے ذمہ داران سے ہوئے، ہوسکتا ہے کہ مسنگ پرسنز کی واپسی میں سٹیبلشمنٹ رکاوٹ ہو، لیکن قانون سازی، ترقیاتی منصوبوں، روڈ بنانے میں بھی کیا سٹیبلشمنٹ رکاوٹ ہے، وہ سٹیبلشمنٹ کو ٹیلہ بناکر اس کے پیچھے چھپنا چاہتے ہیں۔'بلوچستان کے سابق وزیر اعلی اور رکن قومی اسمبلی سردار اختر مینگل کا کہنا تھا کہ عوام نے انھیں اسی منشور کے لیے ووٹ دیا تھا تاکہ ان مسائل کو اجاگر کریں اور حل کرنے کیلیے جدوجہد کریں ہم نے حکومت سے علیحدگی کا فیصلہ بھی عوامی امنگوں کی ترجمانی کرتے ہوئے کیا ہے۔بلوچستان میں زیر بحث ڈیتھ سکواڈ کے بارے میں سردار اختر مینگل کا کہنا تھا کہ ان ڈیتھ سکواڈز کو ختم نہیں کیاگیا تھا جن جن اضلاع میں یہ موجود تھے ان کے ایک رکن کی کبھی لاش نہیں ملی اور نہ لاپتہ کیا گیا۔وہ کہتے ہیں کہ 'انھیں گھروں پر بٹھایا گیا یہ سمجھیں کہ شارٹ بریک دیا گیا تاکہ بلوچستان میں جب بھی سیاسی شعور آئے اس کو ختم کرنے کے لیے ہتھکنڈے استعمال کیے جائیں لیکن اس سے نفرتیں بڑھیں گی کیونکہ نظریے اور سوچ کو گولی سے ختم نہیں کرسکتے جہاں لہو گرے گا وہ تناور درخت بنے گا۔'وفاق میں تحریک انصاف کی حمایت اور صوبے میں اپوزیشن میں بیٹھنے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں جب حکومت سازی ہوئی تو تحریک انصاف نے ان سے پوچھا ہی نہیں وہ بھی اس پوزیشن میں نہیں تھے کہ حکومت سازی کرتے اور دوسری بات یہ ہے کہ بلوچستان عوامی پارٹی عرف 'باپ' ان کی ضرورت تھی اور اس کو بنایا ہی حکومت کے لیے گیا تھا انھوں نے وفاقی حکومت کی حمایت کی تھی اس کا حصہ نہیں تھے۔

رابطہ

مزید :

صفحہ اول -