دنیا میں دوسروں کے عیب چھپائیے۔۔۔آخرت میں آپ کے عیب چھپائے جائیں گے

دنیا میں دوسروں کے عیب چھپائیے۔۔۔آخرت میں آپ کے عیب چھپائے جائیں گے

  

تحریر: مولانا فضل الرحیم اشرفی

مہتمم جامعہ اشرفیہ لاہور

”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو بندہ کسی دوسرے کے عیب کو دنیا میں چھپاتا ہے اللہ تعالیٰ قیامت کے روز اس کے عیب چھپائیں گے۔“ (مسلم شریف)

سَتَر کا معنی ہے چھپانا۔اسی سے لفظ الستار بنا۔ جس کا معنی ہوا بہت زیادہ چھپانے والا بہت زیادہ پردہ کرنے والا۔ ”الستار“ اللہ رب العزت کا اسم مبارک ہے جس کا مفہوم ہے عیبوں کو چھپانے والا۔

اسماء الحسنیٰ میں الستار بہت مشہور نام ہے اور بہت سے مسلمان اپنا نام عبدالستار رکھتے ہیں یہ نام قرآن مجید میں موجود نہیں البتہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایمان لانے کی تعلیم دیتے ہوئے جن چھ کلمات کی تلقین فرمائی ان میں سے پانچواں کلمہ استغفار ہے اس کلمہ میں اللہ تعالیٰ کا یہ نام موجود ہے۔

(اسْتَغْفِرُاللّٰہَ رَبِّیْ مِنْ کُلِّ ذَنْبٍ اَذْنَبْتُہ عَمَدًا اَوْخَطَاءً سِرًّا اَوْ عَلَانِیَۃً وَ اَتُوْبُ اِلیِْہِ مِنَ الذَّنْبِ الَّذِیْ اَعْلَمُ وَمِنَ الذَّنْبِ الَّذِیْ لَا اَعْلَمُ اِنَّکَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ وَسَتَّارُ الْعُیُوْبِ وَغَفَّارُ الذُّنُوْبِ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ)

”میں اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرتا ہوں ہر اس گناہ سے جو میں نے جان بوجھ کر کیا یا غلطی سے۔ چھپ کر کیا ہو یا ظاہر کر کے۔ میں اللہ ہی کی طرف رجوع کرتا ہوں اس گناہ سے جو میں نہیں جانتا۔ اے اللہ بے شک تو ہی غیب کی باتوں کو جاننے والا ہے اور تو ہی عیبوں کو چھپانے والا ہے اور گناہوں کو بخشنے والا ہے اور گناہوں سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قوت صرف اللہ ہی کی مدد کی وجہ سے ہوتی ہے جو بلند مرتبہ اور بزرگی والا ہے۔“

یہ کلمہ استغفار اور اس کا ترجمہ اس لیے ذکر کیا کہ اس سے اللہ تعالیٰ کے اسم گرامی الستار کے مفہوم کو سمجھنے میں آسانی ہو جائے گی۔ پہلی بات تو یہ کہ اس کلمہ میں ایک لفظ آیا ستار العیوب یعنی اللہ تعالیٰ ہی عیبوں کو چھپانے والااور ان پر پردہ ڈالنے والا ہے اور دوسری بات یہ سمجھ میں آتی ہے کہ بے عیب ذات صرف خدا تعالیٰ کی ہے باقی عام انسان عیبوں سے پاک نہیں۔ ہر انسان کے اندر کوئی نہ کوئی عیب موجود ہے۔ اگر کوئی انسان ہم میں سے یہ کہے کہ ”میرے اندر کوئی عیب نہیں۔“تو یہ بات ہی کہنا انسان کے اندر بہت بڑا عیب ہے کیونکہ بے عیب ذات تو صرف اللہ کی ہے اور پھر اس کی مزید صفت یہ ہے کہ وہ اپنے بندوں کے عیبوں کو بھی چھپا دیتا ہے ان پر پردہ ڈال دیتا ہے اور اسی خوبی کی تعلیم اللہ تعالیٰ نے بندوں کو دی کہ وہ اپنے جیسے انسانوں کے عیب ظاہر نہ کریں اس کے لیے قرآن حکیم میں لفظ غیبت کا تذکرہ آیا۔ غیبت کہتے ہیں کسی کے عیب کو دوسرے انسان کے سامنے بیان کرنا اس کی غیر موجودگی میں۔ دوسرے انسانوں کی برائیوں کے ذکر کرنے کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

 ترجمہ: ”اور تم ایک دوسرے کی غیبت نہ کیا کرو تم میں سے کوئی یہ پسند کرتا ہے کہ اپنے مردار بھائی کا گوشت کھائے کیا؟ نہیں تم اسے ناپسند کرتے ہو۔“

اللہ تعالیٰ نے دوسرے انسانوں کے عیبوں کے تذکرہ سے اتنی سختی سے منع فرمایا لیکن ہم جب اپنے معاشرے پر نظر ڈالتے ہیں تو تقریباً ہر محفل اس گناہ سے آلودہ نظر آتی ہے۔ جہاں دوچار افراد مل کر بیٹھے وہاں کسی نہ کسی کی برائی ضرور ہو گی۔

آخر ایسا کیوں ہوتا ہے۔ اس کی نفسیاتی وجہ یہ ہے جس سے آپ بھی اتفاق کریں گے کہ عام انسان کی فطرت اور طبیعت کچھ ایسی ہے کہ اسے دوسرے کی برائیاں بیان کر کے مزہ آتا ہے۔ایک عجیب سی لذت ملتی ہے، اور دوسری طرف سننے والے پر بھی یہی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔کئی بار اس کا تجربہ ہوا کہ اگر محفل میں عام سی باتیں ہو رہی ہوں تو دل اُکتا جاتا ہے آدمی تھوڑی دیر بعد بور ہو جاتا ہے لیکن اگر اس محفل میں کسی کے عیب اور اس کی برائیاں بیان ہو رہی ہوں تو کئی گھنٹے گزر جائیں احساس ہی نہیں ہوتا۔ سننے والے بھی خوب کان لگا کر سنتے ہیں اور کئی دفعہ تو یہاں تک تجربہ ہوا کہ کسی شخص کو دوسرے کا عیب معلوم ہوا تو اب وہ بے چین ہو جاتا ہے کہ مجھے کوئی بھی ملے تو میں اس سے یہ بتاؤں کہ فلاں میں یہ عیب ہے حالانکہ ہم سب کا خالق و مالک جس کی خوبی یہ ہے کہ وہ ہمارے عیبوں پر پردہ ڈالنے والا ہے۔ اور پھر اس ذات نے ہمیں یہ تعلیم بھی دی کہ دوسرے کے عیوب کا تذکرہ نہ کیا جائے۔ لیکن ہر محفل میں دوسرے لوگوں کی برائیاں کرنے والے آخر ان پر پردہ رکھنے کی کوشش کیوں نہیں کرتے تو اس کی چند وجہیں ہوتی ہیں۔ ان میں سے ایک وجہ غصہ ہے۔ کہ جب کوئی شخص کسی سے ناراض ہوتا ہے تو اس کی برائیاں بیان کرتا رہتا ہے اس لیے اسلام نے غصہ اور ناراضگی سے منع فرمایا۔ دوسری وجہ تکبر اور غرور ہے کہ انسان خود اپنے آپ کو بڑا سمجھتا ہے تو دوسروں کو حقیر سمجھنے سے منع کیا تیسری وجہ اپنی عبادت اور نیکی پر ناز ہونا۔ کئی لوگوں کو اپنی پرہیزگاری اور عبادات پر اتنا ناز ہوتا ہے کہ وہ دوسرے کے گناہوں اور برائیوں کو ظاہر کرتے ہیں۔ اس لیے اللہ رب العزت نے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پرہیز گاری پر ناز کرنے سے منع فرمایا۔

چوتھی وجہ محفل میں دوسروں کی برائیاں بیان کرنے کی یہ ہوتی ہے کہ آدمی جب دیکھتا ہے کہ دو چار دوست کسی آدمی کے عیب ظاہر کر رہے ہیں تو پھر اس آدمی کا بھی جی چاہتا ہے کہ میں اس شخص کا کوئی عیب ظاہر کروں چنانچہ اسلام نے بری محفل میں بیٹھنے سے منع کیا دوسروں کے عیب ذکر کرنے کی ایک وجہ حسد بھی ہوتی ہے۔ کہ انسان کے دل میں اگر کسی شخص کے بارے میں حسد ہو تو انسان اس شخص کی برائیاں ظاہر کرتا ہے۔ لہٰذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسد کرنے سے بھی منع فرمایا۔

اسی طرح اور بہت سی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے انسان دوسرے کے عیب کو ظاہر کرتا ہے۔ اس لیے ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ جب محفل میں کسی کی برائی ہو تو ہم کہنے والے کی خدمت میں درخواست کریں کہ وہ برائی نہ کرے۔ اگر اس کی طاقت نہ ہو تو محفل سے کنارہ کش ہو جائیے اور جب کسی کی برائی معلوم ہو تو اسے کسی کے سامنے ظاہر نہ کریں اس لیے کہ جو دوسروں کے عیب چھپاتا ہے اللہ اس کے عیب چھپاتا ہے۔ اور پھر اپنے نفس کی طرف دیکھئے کہ ہم میں یہ برائی تو موجود نہیں۔ اگر موجود نہیں تو اللہ کا شکر ادا کریں۔ اگر موجود ہو تو پھر پہلے اپنے اندر اس برائی کو ختم کرنے کی کوشش کریں اور پھر دوسرے شخص کے بارے میں دعا کریں کہ اللہ اس برائی کو اس شخص سے ختم فرما دے جب دل میں یہ درد ہو تو پھر کبھی کسی کی برائی زبان پر نہیں آتی۔ اے ستار العیوب۔ عیبوں کو چھپانے والے ہم سب کے عیبوں پر پردہ ڈال دے اور پھر ان عیوب کو دور کرنے کی توفیق عطا فرما۔ آمین۔

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -