قومی اسمبلی، اپوزیشن کی جانب سے بجٹ کا ہر تخمینہ مشکوک، صنعت کسان اور عوام کے معاشی قتل عام کی ایف آئی آر قرار

      قومی اسمبلی، اپوزیشن کی جانب سے بجٹ کا ہر تخمینہ مشکوک، صنعت کسان اور ...

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، نیوز ایجنسیاں) قومی اسمبلی میں وفاقی بجٹ2020-21 پر عام بحث چوتھے روز بھی جاری رہی۔اپوزیشن ارکان نے بجٹ کوغیر حقیقی،صنعت،کسان غریب دشمن قرار دیتے ہوئے کہا حکومت جھوٹ پھیلاؤ، غریب مکاؤ، آئی ایم ایف بلاؤ، مافیا بڑھاؤ اور ڈنگ ٹپاؤ پالیسی پر گامزن ہے،بجٹ مڈل کلاس،کسانوں،ہیلتھ ورکزاور عوا م کے معاشی قتل عام کی ایف آئی آر ہے، عوام کو معاشی قاتلوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیاگیا ہے، آئندہ سال ایک بار پھرٹیکس ہدف پورا نہیں ہو گا، بجٹ خسارہ، قرضہ، بیروز گاری بڑ ھے گی، برآمدات اور ترقی کی شرح مزید کم ہو گی،بجٹ کا ہر تخمینہ مشکوک ہے، غیر حقیقی اہداف مت رکھے جائیں،ملازمین کی تنخواہیں نہ بڑھانے سے معیشت متاثر ہوگی،اس بار بھی صرف امیروں کو نوازا گیا، غریبوں کے ہاتھ میں رقم دینا ہو گی تا کہ معاشی سر گرمی بڑھے،ایسے حالات میں زراعت کو ترقی دی جاتی ہے،کسانوں کو کاٹن کی فصل گنا کی نسبت زیادہ پیدا کرنے کیلئے مراعات دی جائیں، کمیشن بنایا جائے کہ ایک اینٹ نہیں لگائی تو 7178ارب سے زیادہ قرضہ کون لے گیا،اٹھارہویں ترمیم کو چھیڑنے کا منصوبہ خطرناک ہو گا، اس کے بغیر وفاق چلانا مشکل ہو گا، قوم سے غلط بیانی نہ کریں، وزیراعظم بتائیں اور کتنوں کا خون چاہیے، کورونا بے قابو ہو رہا ہے، حکومت بضد ہے کہ ابھی بھی اموات کا جو تخمینہ تھا پورا نہیں ہوا، حکومت کی پالیسی ناکام ہو گئی تو عوام کو ٹی وی پر جاہل کہا جا رہا ہے،صرف تقریروں سے ریاست مدینہ نہیں بنتی،یہ آئی ایم ایف بجٹ ہے،یہ بجٹ بھی منتخب لوگوں نے نہیں بنایا۔ان خیالات کا اظہار اپوزیشن ارکان سید نوید قمر، خان محمد جمالی، محسن داوڑ،انجینئر خرم دستگیر،محسن شاہ نواز رانجھا، امیر حیدر ہوتی غلا م مصطفی شاہ، مولانا عبد الشکور و دیگر نے قومی اسمبلی میں بجٹ پر عام بحث کے دوران کیا۔ جمعرات کو قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر اسد قیصر کی صدارت میں ہوا،جس میں وفاقی بجٹ پر مسلسل چوتھے روزعام بحث جاری رہی۔ اپوز یشن ارکان کا کہنا تھا گزشتہ حکومت اقتصادی ترقی کی شرح 5.5فیصد پر چھوڑ کر گئی تھی، حکومت نے گزشتہ سال یہ شرح 1.9فیصد تک گرائی اور اس سال منفی ہو گئی، کووڈ 19کے اثرا ت اس میں ابھی شامل ہوں گے تو یہ مزید گرے گی، یہ درست تھا کہ ڈالر کو 104پر مصنوعی انداز میں برقرار رکھا گیا جس سے ایکسپورٹ اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کا مسئلہ بنا، حکو مت نے ایک جھٹکے میں ایکسچینج ریٹ ایڈجسٹ کیا اور بڑھادیا، جس حکومت کا دور آپ تاریک دور کہتے ہیں اس دوران ٹیکس ٹو جی ڈی پی 15فیصد تھا اب یہ 12فیصد ہے، معیشت ڈپریشن کی جانب جا رہی ہے، روایتی انداز میں معیشت کو نہیں چلا سکے، کیا آسمان سے ڈالر کی بارش ہو گی، ایف بی آر نے ٹیکس ہدف میں 30فیصد اضافہ کیا ہے اور وہ پورا ہو گا، اس کا مطلب ہے منی بجٹ آئیں گے اور ٹیکس لگے گا، یہ حکومت مزید قرضہ لے گا جو حکومت کیلئے آسان چیز بن گیا ہے، معاشی اصلاحات نہ ہو سکے، خدا کا خوف کریں۔ غیر حقیقی اہدا ف مت رکھے جائیں، صوبے کیسے سرپلس میں رقم دیں گے، ہر حکومت پچھلے قرضے ادا کرتی ہے۔ ہر چیز کو کرونا کے لبادے میں نہیں دیکھنا چاہیے۔ بلوچستان کو کم پانی ملتا ہے، ارسا والے پتا نہیں کب جاگیں گے، ارسا میں بلو چستا ن کی نمائندگی نہیں، وفاقی اور صوبائی حکومتیں ٹڈی دل سے فصلوں کو بچانے کیلئے کردار ادا کریں، ورنہ خریف کی فصل کو نقصان ہو گا، وزراء ایوان میں نہیں، وزیرستان میں جو جنگلات کاٹے گئے اس کی تحقیق کیلئے کمیٹی بنائی جائے، ای ای سی کا بجٹ بڑھایا، انٹرنیٹ کی سہولتیں دور درازعلاقوں میں نہ ہونے سے وہا ں کے طالبعلم آن لائن کلاسیں لینے سے قاصر ہیں، این ایف سی کے معاہدے سے کھلواڑ ہو رہا ہے اور خود ساختہ تبدیلیاں ہو رہی ہیں، خطرناک ہیں، سابقہ فاٹا کیلئے 100ارب کا وعدہ تھا لیکن نہیں ملے،10سال تک 100ارب روپیہ دیا جائے۔ معیشت کورونا سے پہلے ناکام ہو گئی تھی۔حکومت کے جھوٹ ختم نہیں ہو رہے۔ کمیشن بنایا جائے کہ ایک اینٹ نہیں لگائی تو 7178ارب سے زیادہ قرضہ کون لے گیا، گردشی قرضہ 2400ارب کیسے ہو گیا، 1500ارب کی ٹیکس چھوٹ مراعات یافتہ کو دی ہے کون ذمہ دار ہے، ہر سیاسی جماعت کا ایک بیانیہ ہوتا ہے،موجودہ سیاسی جماعت کا بیانیہ تھا کہ انکے مسائل کے حل کیلئے بہترین ٹیم موجود ہے،نیا پاکستان بنا ہے یا نہیں بنا اس پر جتنی بحث کر لیں نتیجے پر نہیں پہنچیں گے، نئے پاکستان کا فیصلہ آنیوالے انتخابات میں عوام کریں گے۔حقائق کے بغیر بجٹ بنانے سے منی بجٹ کی طرف جانا پڑے گا۔اگر سندھ حکومت سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کر سکتی ہے تو وفاقی حکومت کو بھی کرنا چاہیے،18 آئینی ترمیم کو نہ چھیڑا جائے،این ایف سی کیلئے صوبوں کو بیٹھا کر ایک مناسب ماحول پیدا کیا جائے۔ اپوزیشن کا کام حکومت کو وہ وعدے یاد دلاناہے جو انہوں نے کیے تھے،جب ہم ان پر تنقید کرتے ہیں تو ان کی اصلاح کیلئے کرتے ہیں۔صرف تقریروں سے ریاست مدینہ نہیں بنتی،بجٹ منتخب نمائندوں کا نہیں آئی ایم ایف کا بجٹ ہے،آئین میں کہاں لکھا ہے وزیراعظم کا مشیر پارلیمان کو جوابدہ ہے۔ عمران خان قائد قلت ہیں۔ ہماری خواہش ہے موجودہ حکومت اپنی مدت پوری کرے، مگرجو حالات ہیں اس سے لگتا ہے حکومت مالی بل پاس نہیں کرواسکے گی۔ قبائلی علاقوں کو علیحدہ صوبہ بنایا جائے۔وزیر اعظم کے مشیر ملک امین اسلم نے کہا یہ بجٹ آئندہ مالی سال کیلئے بنایا گیا ہے،بجٹ کے اندر کورونا جیسی وبا سے نمٹنے کے فنڈز بھی مختص کیے گئے ہیں،ہم ایک زرعی ملک ہیں اسلئے بجٹ میں زرا عت اور فوڈ سکیورٹی کیلئے خاص اہمیت دی گئی ہے۔تحریک انصاف کے لال چند ملہی نے کہا مشکل صورتحال میں حکومت کی جانب سے ٹیکس فری بجٹ پیش کرنا کامیاب عمل ہے۔

قومی اسمبلی

مزید :

صفحہ اول -