”حضرت شیخ جنید بابا ؒ پشاوری نقشبندی قادری اویسی“

”حضرت شیخ جنید بابا ؒ پشاوری نقشبندی قادری اویسی“

  

برصغیر میں اسلام کی ترویج و ترقی میں بزرگان دین کا کرداربڑا اہم ہے جن کی بدولت یہ خطہ اسلام کی لازوال دولت سے مالا مال ہوا ہے برصغیر پاک و ہند کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ یہاں دین اور اشاعت اسلام کا سہرا اولیاء کرام کے سر رہا ہے سرحد کا ہر علاقہ تاریخی جغرافیائی، معاشرتی اور معاشی اقدار کے باعث منفرد اہمیت رکھتا ہے اس کا ہر گوشہ آپ کواپنی داستانیں سنا تاہے اور خاص کر سر زمین پشاور کو اس حوالے سے خاص حیثیت حاصل ہے کیونکہ یہاں کئی ممتاز روحانی شخصیات نے قدم رکھا اور اہل شہر عرصہ دراز تک ان کے فیوض و برکات سے مستفید ہو تے رہے اور قیامت تک ہوتے رہیں گے مختلف ادوار میں بہت سے اولیاء کرام نے اپنی فیضان نظر سے لاکھوں انسانوں کے سینوں کو نور معرفت سے منور کیا اور بھٹکی ہوئی انسانیت کو راہ ہدایت دکھائی ان اولیاء کرام نے نہ صرف روحانی فیوض و برکات سے دنیا کے کونے کونے کو منورکیا بلکہ مظلوم و دکھی انسانیت کی عملی مدد میں کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہ رکھی جن میں سے ایک عظیم نام حضرت شیخ جنید بابا پشاوریؒ کابھی ہیں حالانکہ اس عظیم المرتبت ہستی کا تذکرہ اس مختصر مضمون میں تحریر کر ناراقم ناچیز فقیر اورخاکپائے مرشد کے بس کی بات نہیں یہ تو بس میرے پیر و مرشد حضور حضرت سید مستان شاہ سرکار حق با با جی دامت برکاتہم کی مجھ پر خاص نظر کرم ہے کہ آج سلسلہ عالیہ قادریہ جنیدیہ کے سر چشم سید نا حضرت شیخ جنید پشاوری ؒ کا ذکر جمیل سپرد قلم کر نے کی سعادت حاصل کر رہا ہوں صوبہ خیبرپختونخوا میں سلسلہ عالیہ قادریہ جنیدیہؒ کے سر چشمہ سید نا شیخ جنید پشاوری ؒ کا شمار بھی انہی اولیاء اللہ میں ہو تا ہے جن کی خدمات اسلام کیلئے لازوال اور اپنی مثال آپ ہیں آپ کی ولادت 27 رجب المرجب 1069 ھ حیدر آباد (صوبہ سندھ) میں ہوئی آپ ؒ کا نام نامی اسم گرامی جنید ہے زہد و تقویٰ کی بدولت حضرت شیخ جنید کہلائے آپ ؒ مولداً حیدرآبادی،مسکناً پشاوری،مذہباً حنفی،طریقتاً قادری،استفادتاً اویسی اور مشرباً محمدی تھے آپ ؒ نے سب سے پہلے قرآن پاک حفظ کیا اور اپنے وقت کے جید علمائے کرام سے تعلیم حاصل کی اور صاحب سلوک و طریقت مشائخ عظام سے مستفیض ہوئے اور اسی لئے معرفت و طریقت کے نور سے روشن ماحول میں پرورش پانے والا یہ نوجوان بھی اپنے وقت کا کامل اہل دل و اہل نظر بنا جس کی پوری زندگی عرفان الہی کی خوشبووٗں سے بسی ہوئی تھی اور حضور نبی کریم ﷺ کی روحانیت سے فیض حاصل کیا ہواتھا آپ ؒ نے 1103 ھ میں حضرت شیخ میاں عبد الحئی سندھی نقشبندی ؒ سے سلسلہ نقشبندیہ میں بیعت فر مائی تھی آ پؒ غوث الزماں اورشہنشاہ ولایت حضرت شیخ جنید بابا ؒ پشاوری اپنے پیر مرشد کی وفات کے بعد اسلام کی تبلیغ کی غرض سے سندھ کو خیر باد کہہ کر پشاور تشریف لے آئے آپ ؒ کی تشریف آوری سے پہلے یہاں قادریہ سلسلے کے بزرگ ابو البرکات حضرت سید حسن بادشاہ قادری الگیلانیؒ اور نقشبندیہ سلسلے کے بزرگ حضرت حافظ عبدالغفور بابا نقشبندی ؒ کے فیوض اوربرکات جاری تھے دوران سفر آپؒ نے پشاور میں بیرون لاہوری دروازہ موجودہ شیخ آباد (شیخ جنید آباد) کو اپنا مسکن بنا یا اس جگہ کو اپنا مسکن آپ ؒ نے کیوں بنایا؟ اس بارے بہت سی روایات اور وجوہات ہیں جن میں سے ایک بڑی وجہ یہ کہی جاتی ہے کہ اس مقام سے کچھ فاصلے پر ہندووٗں کی آبادی تھی اورآپ ؒ نے مناسب یہی سمجھا کہ سب سے پہلے انہی لوگوں میں ”امر باالمعروف و نہی عن المنکر“ کے سلسلہ رشد و ہدایت کا آغاز فرمایاجائے اور یہاں ایک تا لا ب کے کنارے جھونپڑی بنا کر اللہ تعا لی کی یاد میں مشغول ہو گئے آپ ؒ کے متعلق بھی بتایا جاتا ہے کہ آپ زیادہ تر گوشہ تنہائی میں بیٹھ کر مراقبہ فرماتے،آپ ؒ فرائض واجبات اور مستحبات کی بڑی پابندی فرماتے تھے،نوافل کا خاص طور سے اہتمام فرماتے،آپ ؒ کثرت سے قرآن پاک کی تلاوت،تہجد کی نماز میں کبھی ناغہ نہ کرتے تھے رمضان المبارک میں پوری رات عبادت فرماتے اکثر تہجد کے بعد مراقبہ میں مصروف ہو جاتے،یہاں تک کہ فجر کی نماز کیلئے مسجدتشریف لیجاتے،وہاں اشراق تک مراقبہ میں رہتے اور دیگر وظائف پڑھتے،گویا ہمہ وقت روحانی حضوری رہتی اور مرشد کامل واکمل کے آرزوئے دیدار میں مضطرب رہتے ”فنافی الشیخ“کی منزل بھی طے کر چکے جبکہ مذکورہ ذکر شدہ دونوں بزرگوں کے یکے بعد دیگرے1665 ء اور 1696 ء میں دنیا سے پردہ فرما جانے کے بعد آپ ؒ کو پشاور کا تاج ولایت اور تخت غوثیت عطاء کیا گیایعنی1114 ھ میں آپؒ کو سلسلہ نقشبندیہ کی خلافت عطا ہوئی اس وقت آپ ؒ کی عمر پینتالیس برس تھی صو بہ خیبرپختونخوا سرحد میں آپ ؒ وہ پہلی عظیم شخصیت ہیں جنہوں نے سلسلہ عالیہ قادریہ جنیدیہ کی بنیاد ڈالی اور غوث الاعظم سیدنا حضرت شیخ عبدالقادرجیلانیؒ کا فیضان جاری فرمایا آپ ؒ عبادت اور نماز کی ادائیگی کیلئے ایک روایت کے مطابق مسجد خواجہ معروف تشریف لاتے تھے جوکہ اس وقت کے شہر میں واقع تھی یعنی آج کا شیخ جنید آباد اتنا گنجان آباد نہیں ہوا کرتا تھا اس وجہ سے اسے شہر سے باہر کا علاقہ گردانا جاتا تھا یہاں پر آپ ؒ پورا دن رب کریم کے حضور عبادت میں مشغول رہتے عبادت میں آپؒ زیادہ ترتلاوت قرآن پاک فرماتے تھے اور نماز عشاء کی ادائیگی کے بعد آپ ؒ واپس اپنے مسکن نہر والی جھونپڑی تشریف لے آتے رات کا بیشتر حصہ بھی عبادت و ریاضت میں گزارتے تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے یہ بزرگ اور خاص لوگ دنیاوی خواہشات سے دور اور اپنے خالق حقیقی کی عبادت میں زیادہ وقت گزارنے کے عادی ہوتے ہیں ان کو اس ظاہری دنیا سے کوئی خاص لگاوٗ نہیں ہوتا ان کا سودا ہی الگ ہوتا اور ان کی دنیا ہی الگ ہوتی ہے جس میں سب کیلئے محبت،شفقت اور مہربانی ہوتی ہے آپ کی عبادات و ریاضت کا نتیجہ یہ نکلا کہ اللہ تعالی نے آپ کو مخلوق میں معزز و مکرم کر دیا چنانچہ مسلمان تو مسلمان غیرمسلم بھی آپ کی تعظیم و تکریم بجا لا تے تھے اور بہت کم وقت میں آپ ؒ کی حاضری کیلئے ہر مذہب کے لوگ جوق درجوق آنا شروع ہو گئے اور فیض یاب ہونے لگے آپؒ کے رہن سہن کا طریقہ اورطرز بود و باش انتہائی سادہ اور فقیر انہ تھی آپؒ اپنے لباس اور خوراک میں بھی سنت رسول ؐ کے مطابق انتہائی سادگی اپناتے تھے سلطان الاصفیاء امام العارفین حجۃ الکاملین شیخ جنید پشاوری رحمۃ اللہ علیہ اسی قدسی گروپ کے سرخیل ہیں جو حضور پر نور،شافع یوم النشور، رحمت عالم حضرت محمد ﷺ کی کمال محبت اور اتباع سے ولایت الہیہ کے بلند و برترمقام پر متمکن ہوئے کائنات کی ہر چیز میں ذات حق شانہ کا مشاہدہ آپ ؒ پر غالب تھا جسے تصوف کی اصطلاح میں فنا فی اللہ کہا جا تاہے اور یہ مقام اس وقت تک نہیں ملتا جب تک انسان اپنی صفات کو صفات حق شانہ میں فنا نہ کردے آپؒ مخلوق خدا کو خالق حقیقی کی وحدانیت اورعشق رسول ﷺکی تعلیم دیتے تو آپ کی باتیں سیدھی دل پر اثر کرتی تھی کیونکہ آپؒ کا انداز گفتگواتنا پر اثر اور دل نشیں ہوتا کہ سننے والے آپ کے گرویدہ ہو جاتے اور اطمینان و سکون کی دولت سے مالا مال ہو جاتے جبکہ آپ ؒکے خصائل حمیدہ کی تابندگی سے اہل فقر و تصوف تازگی پا تے تھے یہی وجہ تھی کہ بہت تھوڑے عرصے میں ہزاروں غیر مسلم آپؒ کے دست حق پرست پر حلقہ بگوش اسلام ہوئے اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ وقت بھی آگیا جس کا آپ ؒ کو بہت شدت سے انتظار تھا اور عین ضرورت کے مطابق آپؒ کا مسکن ایک بہت بڑی عبادت گاہ اور پھر درسگاہ میں تبدیل ہو گیاآپؒ نہایت حسین و جمیل تھے آپؒ میں اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺکا عشق کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا علاوہ ازیں حضرت شیخ جنید بابا ؒ ایک مستجاب الدعوات اور صاحب الکرامات بزرگ تھے اللہ تعالیٰ نے آپؒ پر اپنا خصوصی کرم کیا ہوا تھا بہت سی ایسی روایتیں موجود ہیں جن میں آپ ؒ کی کرامات کا پتہ چلتا ہے اگر آپ ؒ کی کرامات کو جمع کیا جائے تو ایک الگ مضمون بنتا ہے اس جگہ آپ ؒ کی مشہور و مقبول کرامت تحریر کی جاتی ہے حضرت شیخ جنید پشاوریؒ کے ارفع القاب میں ایک لقب ”سنگ پارس“ ہے اور اس کے متعلق ایک مشہور واقعہ زبان زد عام ہے وہ یہ کہ ایک حجام آپ کی حجامت کی خدمت پر مامور تھا اس نے آپ کی کافی عرصہ خدمت کی ایک دن اُس نے دست بستہ عرض کی کہ سرکار ہم پر بھی نظر کرم فرمائیں اور داتائے سرحد کی ایک نظر عنایت سے (جو اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے آپ کو عنایت تھا) اُس حجام کے وہ تمام اُسترے جو آپ کے بدن مبارک سے مس ہوئے تھے سونا بن گئے اسی حجام نے قصہ خوانی میں ایک مسجد تعمیر کرائی پشاور کے باسی اور اہل تصوف اس مسجد کو اب بھی نائی مسجد کہتے ہیں آپؒ کے گلشن تصوف سے کئی بڑے بڑے اولیائے کرام نے جنم لیا جنہوں نے تصوف کے ساتھ ساتھ جہاد فی سبیل اللہ کے ذریعے اس خطے کو فرنگیوں کی غلامی سے آزاد کرا یا ان میں حضرت محمد شعیبؒ صاحب تورڈھیر،حضرت عبدالغفور صاحب ؒ سیدو شریف،حضرت پیر صاحب ؒ آف مانکی شریف،حضرت ہڈے ملا صاحبؒ،حاجی صاحب ترنگزئیؒ،حضرت محمد عمر شاہ صاحبؒ کربوغہ شریف،حضرت حاجی محمد امین صاحبؒ عمرزئی،اور حاجی شیخ گل صاحبؒ لنڈی کوتل شریف،ان لاکھوں میں سے چند نام اسی فیضان کی برکات ہیں جنہوں نے تصوف کے ساتھ جہاد فی سبیل اللہ میں ایک اعلیٰ مقام پیدا کیا قیام پاکستان انہی اللہ والوں کے فیض روحانی کا مرہون منت ہے۔آپؒ حسن و اخلاق کے پیکر،بنی نوع انسان کے سچے ہمدرد،مخلص،خیر خواہ،بڑے متقی،پرہیزگار،متواضع،قناعت پسند،منکسرالمزاج،خوش طبع،درویش کامل واکمل،مشفق و مہربان اور اپنی ذات میں ایک انجمن،ایک تحریک اور غوث زمانہ تھے آپ ؒ علوم ظاہری کی تحصیل و تحقیق میں جو وقت صرف کرتے تھے اس کا واحد مقصد اپنی عملی زندگی کو شریعت کے مطابق قائم کرنا تھا آپ ؒ صرف صداقت عمل کے علمبردار تھے جس مقام یا گوشۂ سے حق و صداقت کا نور چمکتا دیکھتے اس سے اپنے سینہ دل اور عمل کو منور کر لینے میں عارنہ سمجھتے تھے امر واقعہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کے مقرب بندوں کا کام دنیا میں اپنی حد پر پہنچ کر اختتام کی سرحدوں کو چھونے لگتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ اپنے مقرب بندوں کو اپنے پاس بلا لیتا ہے۔

من تو شدم تو من شدی من تن شدم تو جاں شدی

تاکس نہ گوید بعد ازاں من دیگرم تو دیگری

چنانچہ حضرت شیخ جنید پشاوریؒ بھی اپنے رب کی بندگی کا حق ادا کرنے کے بعد اختتام حیات کی سرحد پر 28 شوال المکرم 1162 ھ کو اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ روایات کے مطابق آپؒ کی نماز جنازہ حضرت شیخ میاں محمد عمر چمکنی نقشبندی ؒنے پڑھائی جو آپ ؒ کے ہم عصر ولی اللہ تھے مشائخ کرام سے روایات ہیں کہ جب حضرت میاں صاحب ؒ نے حضرت شیخ جنید پشاوری ؒ کا جسد خاکی مبارک لحد میں اُتاراتو آپ ؒ کو نئے گھر یعنی قبر کی دائمی زندگی کی مبارکباد پیش کی تو جواب میں آپ ؒ نے حضرت میاں صاحب کو مقام غوثیت عطا ء فرماتے ہوئے ان کو مبارکباد دی آپؒ کو وصال فرمائے ہوئے تین صدیاں گزرچکی ہیں لیکن آج بھی آپ کے مزار شریف پرعام لوگوں سے لے کر مشائخ عظام،پیران طریقت، فقیر، درویش قلندر، مست مجذوب، دنیا دار، دیندار اور جیدعلمائے کرام یہاں آکر باقاعدگی سے حاضری دینے آتے ہیں خصوصاًمیرے پیر و مرشد پیرسید مستان شاہ سرکارحق باباؒ تمبر پورہ شریف ؒ دنیا سے پردہ فرمانے سے پہلے اکثر چادراوڑھ کرحضرت شیخ جنید بابا ؒ کے مزار مبارک پر رونق افروز ہوتے تھے اور بابا جی ؒ کے حضور حاضری کے بعد عبادت و ریاضت میں مشغول ہو جاتے تھے اور اکثر و بیشتر پیر صاحب حق بابا پرجذب و کیف کی حالت طاری ہوجاتی تھی۔راقم الحروف نے بھی آپ ؒ کے در بار پر حاضر ی کا شرف کئی مرتبہ حاصل کیا ہے ایک خاص ہی سرور کیف و مستی کا عالم ہے خاکسار تو یہی کہے گا کہ آپؒ کے دربار کوہر بار پر غوث، قطب ابدال اور قلندر ہمہ وقت حاضری دیتے ہیں ایک عجیب سی مہک ہے اور یہ ملک حقیقتاً اس چمنستان میں اسی بادِ صبا کی لائی ہوئی ہے جسے عرف عام میں صوفیائے عظام اور اولیائے کرام کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے اس حقیقت کو وہی لوگ جانتے ہیں جو چشم بصر رکھتے ہیں۔

آنکھ والا تیرے جوبن کا تماشا دیکھے

دیدہ کور کو کیا آئے گا نظر کیا دیکھے

صوبہ خیبرپختونخوا میں سلسلہ عالیہ قادریہ جنیدیہؒکے بانی اور روحانی پیشوا حضرت شیخ جنید باباپشوری ؒکا 279واں سا لا نہ عرس مبارک 29شوال بمطابق 21جون2020؁ء کو نہایت عقیدت و احترام سے منا یاجاتا ہے۔جس میں قرآن خوانی،محفل ذکر،مواعظہ حسنہ، محفل نعت پاک ﷺ درودسلام کا اہتمام کیا جاتا ہے۔صوبہ خیبرپختونخوا کے علاوہ ملک کے دیگر شہروں اور بیرونی ممالک سے بھی ہزاروں عقیدت مند عرس مبارک کی تقریبات میں شرکت کرتے ہیں،حضرت شیخ جنید بابا ؒ کا مزار مبارک شیخ آبادبیرون لاہور ی گیٹ پشاورشہر

میں عقیدت مندوں کے لئے مرجع خلائق ہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -