منی لانڈرنگ کیس، حمز ہ شہباز کے جوڈیشل ریمانڈ میں یکم جولائی تک توسیع

    منی لانڈرنگ کیس، حمز ہ شہباز کے جوڈیشل ریمانڈ میں یکم جولائی تک توسیع

  

لاہور(نامہ نگار)احتساب عدالت نے حمزہ شہباز کے خلاف منی لانڈرنگ اور آمدنی سے زائد اثاثہ جات انکوائری سے متعلق کیس میں نیب حکام کو جلد ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیتے ہوئے ملزم کے جوڈیشل ریمانڈ میں یکم جولائی تک توسیع کردی ہے۔احتساب عدالت کے ایڈمن جج جواد الحسن نے پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز کے خلاف آمدنی سے زائد اثاثہ جات اور منی لانڈرنگ کیس کی سماعت کی،گزشتہ روز کورونا وائرس کے باعث حمزہ شہباز کو عدالت میں پیش نہیں کیا جا سکا، نیب لاہور کی جانب سے دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ حمزہ شہباز پر ذاتی ملازمین کے ذریعے منی لانڈرنگ کرنے کا الزام ہے، نیب کے پراسکیوٹر نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف، ان کے صاحبزادے اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی حمزہ شہباز،ان کے بھائی سلمان شہباز اورنصرت شہباز نے اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کی،شہباز شریف اور ان کے اہل خانہ نے جعلی غیر ملکی ترسیلات کے ذریعے کالے دھن کو سفید کیا، حمزہ شہباز کے وعدہ معاف گواہ بیان قلمبند کروا چکے ہیں، حمزہ شہباز کے وکیل کا موقف ہے کہ سیاسی خاندان سے تعلق ہونے پر انہیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، حمزہ شہباز کو 190 سے زائد دنوں سے گرفتار کیا گیا مگر ابھی تک کوئی ریفرنس دائر نہیں کیا گیاہے،نیب نے منی لانڈرنگ کی تحقیقات شروع کرتے ہوئے نیب آرڈیننس کی دفعہ 18 کو پس پشت ڈالا ہے، چیئرمین نیب نے تحقیقات کے لئے قانونی رائے نہیں مانگی،حمزہ شہباز کے خلاف کیس میں اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کی بھی خلاف ورزی کی گئی ہے،حمزہ شہباز کے خلاف منی لانڈرنگ کی تحقیقات آئین کے آرٹیکل 10 (اے)کی بھی خلاف ورزی ہے، نیب کو سرے سے ہی منی لانڈرنگ کیس کی تحقیقات کا اختیار نہیں، حمزہ شہباز کے وکلاء کا مزید موقف ہے کہ اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ خصوصی قانون ہے جس میں چیئرمین نیب کو مداخلت کا اختیار نہیں، چیئرمین نیب کو صرف آرڈیننس کی دفعہ 18 کے تحت تحقیقات کا اختیار ہے، نیب کی تحقیقات 2005 ء سے 2008 ء کے دوران بیرون ملک سے موصول ہونے والی رقم کے گرد گھومتی ہیں،2005 ء سے 2008ء حمزہ شہباز پبلک آفس ہولڈر نہیں رہے، بیرون ملک سے وصول رقم 14 سال پرانی ہے جس کا صرف محدود ریکارڈ موجود ہے۔

حمزہ شہباز

مزید :

صفحہ آخر -