وزارت توانائی، اوگرا، فیول کرائسسز کمیٹی، ایف آئی اے کو نوٹس جاری، جواب طلب

  وزارت توانائی، اوگرا، فیول کرائسسز کمیٹی، ایف آئی اے کو نوٹس جاری، جواب ...

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، نیوز ایجنسیاں) پٹرول بحران پر بنی ’فیول کرائسز کمیٹی‘ کو پٹرولیم کمپنیوں نے چیلنج کردیا، اسلام آباد ہائی کورٹ نے پیٹرولیم مصنوعات کی ذخیرہ اندوزی پر حکومتی کارروائی کیخلاف درخواست میں فریقین کو نوٹس جاری کردئیے۔ تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کیس کی سماعت کی،جہاں آئل کمپنی کے وکیل عابد ساقی نے دلائل میں کہا کہ آٹھ جون کو وفاقی وزیر نے پٹرول کی ذخیرہ اندوزی کیخلاف کارروائی کیلئے فیول کرائسسز کمیٹی تشکیل دی اوگرا آرڈیننس کے تحت وفاقی وزیر ایسی کمیٹی تشکیل نہیں دے سکتا۔ درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اوگرا ریگولیٹر ہی اپنے وضع کردہ طریقہ کارکے تحت ایکشن لے سکتا ہے، ایف آئی اے کو کمیٹی میں آئل کمپنیز کو ہراساں کرنے کے ڈالنا بھی غیر قانونی ہے جبکہ پی ایس او کو بھی کمیٹی کا ممبر ہونا مفادات کا ٹکراؤ ہے کیونکہ وہ مقابلے کی کمپنی ہے، جس پر جسٹس اطہر من اللہ نے کہا ایگزیکٹو کے اختیارات میں عدالت تحمل کا مظاہرہ کرتی ہے، اوگرا اور ایف آئی اے کو کمیٹی میں ڈال دیا گیا، پھر وہ بعد میں کیس کیسے دیکھیں گے۔ بعد ازاں عدالت نے وزار ت توانائی،اوگرا، فیول کرائسسز کمیٹی اور ایف آئی اے کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 25 جون تک جواب طلب کرلی۔

نوٹس جاری

مزید :

صفحہ آخر -