پنجاب کے سرکاری ملازمین تنخواہوں، پنشن میں اضافہ نہ کرنے پر سراپا احتجاج

  پنجاب کے سرکاری ملازمین تنخواہوں، پنشن میں اضافہ نہ کرنے پر سراپا احتجاج

  

لاہور(این این آئی) پنجاب کے سرکاری ملازمین تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ نہ کئے جانے کیخلاف سراپا احتجاج بن گئے،سرکاری ملازمین نے شدید گرمی کے باوجود سول سیکرٹر یٹ کے مرکزی داخلی راستے پر احتجاج کیا، کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے نمٹنے کیلئے پولیس کی بھاری نفری تعینات رہی۔تفصیلات کے مطابق تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ نہ کرنے کے حکومتی فیصلے کیخلاف پنجاب سول سیکرٹریٹ ایمپلائز کوآرڈی نیشن کونسل نے سول سیکرٹریٹ میں احتجاجی مظاہرہ کیا،شدید گرمی کے باوجود سول سیکرٹریٹ میں کام کرنیوالے ملازمین داخلی گیٹ پر جمع ہوئے اور اپنے مطالبات کے حق میں نعرے لگاتے رہے۔ ملازمین نے تمام ایڈہاک ریلیف کوبنیادی تنخواہ میں ضم کرنے، پے سکیلز ریوائز کرنے، تنخواہوں میں مہنگائی کے تناسب سے اضافہ کرنے کے مطالبات کے حامل پلے کارڈز بھی اٹھا رکھے ہیں۔ کونسل کے عہدیدار چوہدری محمد سلطان گجرنے کہا تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ حیرن کن اور سرکاری ملازمین کو زندہ درگور کرنے کے مترادف اقدام ہے،بجٹ کی منظوری سے قبل تنخواہوں میں مہنگائی کی شرح کی مناسبت سے اضافہ کیا جائے۔راجہ سہیل نے کہا حکومت نے ملک بھر کے 36لاکھ سے زائد سرکاری ملازمین پر مہنگائی کے لگے گہرے زخموں پر مرہم رکھنے کی بجائے نمک چھڑکا ہے۔چوہدری غلام غوث نے کہا آئی ایم ایف، ورلڈ بنک، اور دیگر عالمی مالیاتی اداروں کی ایڈوائس پر بنائے گئے وفاقی وصوبائی بجٹ موجودہ حکومت کی ترجیحات کے عکاس ہیں۔عبدالکریم اعوان نے کہا موجودہ بے قابو مہنگائی کی صورتحال میں ملازمین کو یکسر نظرانداز کرنا انہیں زندہ درگور کرنے کے مترادف ہے،کونسل کے عہدیدار صاحب خان نے کہا ہر سال سرکاری ملازمین کی قربانی لینا کہاں کا انصاف ہے۔ملک پرویز اختر نے کہا حکومت اپنے فیصلہ پر نظرثانی، تنخواہوں میں مہنگائی کے تناسب میں اضافہ کیساتھ ساتھ، میڈیکل اور ہاؤس رینٹ میں 100 فیصد اضافہ کرے۔ملازمین کے احتجاج کے باعث سول سیکرٹریٹ کے باہر ٹریفک کا نظام بھی متاثر ہوا۔

ملازمین احتجاج

مزید :

صفحہ آخر -