حکومتی احتساب سے بغض کی بو آتی ہے، حمزہ، پتہ ہے آپ کی ٹی ٹی بند ہو گئی: اسلم اقبال

      حکومتی احتساب سے بغض کی بو آتی ہے، حمزہ، پتہ ہے آپ کی ٹی ٹی بند ہو گئی: ...

  

لاہور (آن لائن) پنجاب اسمبلی کا اجلاس سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی کی صدارت میں 2 گھنٹے تاخیر سے مقامی ہوٹل میں شروع ہوا، آئندہ مالی سال کے بجٹ-21 2020 پر پنجاب اسمبلی اجلاس میں عام بحث کا آغاز ہوا تو اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز نے ایوان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کورونا کے باعث نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کا ماحول یکسر تبدیل ہو گیا ہے۔ آج سخت گرمی میں ہسپتالوں میں مریض پریشان ہیں۔ چھ ہزار لوگ روزانہ کورونا وائرس سے شکار ہو رہے ہیں۔ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بار بار کہتی رہی لاک ڈاون لگایا جائے لیکن ان کی نہ سنی گئی۔ ایکسپو سینٹر میں 90 کروڑ ادا کیے گئے لیکن مریض سہولتوں سے محروم ہیں۔ چین میں وائرس شروع ہوا تو کہا گیا معمولی فلو ہے پینا ڈول سے ٹھیک ہو جائے گا۔قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ممبرز،ڈاکٹرز،پرامیڈکس،پولیس کے نوجوان کورونا کے باعث دم توڑ گئے ہیں۔ ڈاکٹرز نے جو کہا وہ سب آج سچ ہو رہا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کراچی صرف اتحادیوں سے ملاقات کے لئے گئے لیکن کتنا اچھا ہوتا کہ وہ پی آئی اے طیارہ حادثہ پر بھی کراچی جاتے،یہ خود کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ حمزہ شہباز نے کہا کہ چالیس فیصد فصلیں تباہ ہو چکی ہیں زراعت ملکی معیشت کا اہم حصہ ہے۔ بجٹ میں سرکاری ملامین کی تنخواہیں ایک فیصد بھی نہیں بڑھائی گئی۔انہوں سپیکر پنجاب اسمبلی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ بھی کورٹ میں گئے ہیں،آپ کو بھی پتہ چل گیا ہو گا کہ نیب پولیٹیکل انجینئرنگ کرتا ہے، نیب اور معیشت ساتھ ساتھ نہیں چل سکتا۔کنٹینر پر چڑھ کر دعوی کرنے والے بے نقاب ہو گئے ہیں وہ ایک دعویٰ پورا نہیں کر سکے۔احتساب ہونا چاہیے لیکن بلاتفریق ہونا چاہیے لیکن اس احتساب میں بغض کی بو آتی ہے، احساس پروگرام میں بدنظمی انتہا پر تھی، بجٹ میں کرونا وائرس کے لیے صرف 4 ارب روپے رکھے گئے، بجٹ صرف الفاظ کا دہندہ ہے۔ کورونا کے ٹیسٹ کی قیمت 9 سے 11ہزار روپے ہے، غریب کورونا ٹیسٹ کروائے یا اپنے غریب بچوں کا پیٹ پالے۔کورونا کو تین مہینے ہوئے ہیں لیکن معیشت کی خرابی حکومت پر جاتی ہے جو اس نے برباد کر دی ہے۔ حکومت کورونا وائرس کے پیچھے نہیں چھپ سکتی۔ حمزہ شہباز نے کہا کہ آٹا چینی سکینڈل کی رپورٹ کہاں گئی اور اس پر حکومت نے کیا ایکشن لیا۔اپوزیشن پر طرح طرح کے الزامات لگائے جاتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ نیب نے اس ملک کو تباہ کیا ہے۔نیب کی آنکھیں کب کھلیں گی پشاور میٹرو بس انکوائری کب ہوگی، ایک سال گزر گیا لیکن نیب میرے خلاف ریفرنس دائر نہیں کر سکا۔ مجھے نہیں معلوم میرے خلاف نیب نے کیا کیس بنایا ہے۔ ایک لاکھ بیس ہزار لوگ بے روز گار ہو گئے ہیں ایک کروڑ نوکریوں کا وعدہ کہاں گیا۔ڈینگی آیا 30 ارب کا ہم نے بجٹ رکھا،سری لنکا سے ٹیمیں آئیں۔ تمام اسٹیک ہولڈرز کو اکٹھا کیا اور ڈینگی پر قابو پایا۔ ایک لاکھ ساٹھ ہزار لوگ کورونا سے متاثر ہو چکے ہیں تین ہزار اموات ہوئیں۔ چاروں صوبوں میں کورونا ایس پیز کی دھجیاں بکھیری جا رہیں ہے۔ کورونا کو تو صرف تین ماہ ہوئے ہیں اس سے پہلے بھی مہنگائی عروج پر تھی۔ حمزہ شہباز نے کہا کہ 10 ہزار ارب کا قرضہ ہم نے پانچ سالوں میں لیا، نئے پاکستان والوں نے صرف ڈیڑھ سال میں 10 ہزار ارب قرضہ لیا۔دو سالوں کی کہانی یہ ہے کہ پنجاب 4 چیف سیکرٹری اور پانچ آئی جی بدل چکے ہیں۔فارن فنڈنگ کیس کھولیں سٹے آرڈر کے پیچھے مت چھپیں، دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا۔ حکومتی رکن میاں اسلم اقبال نے حمزہ شہباز کی تقریر کے ردعمل میں کہا ہے کہ پاکستانی معیشت کا پتہ ہے کہاں کھڑی ہے ہمیں نہ سیکھایا جائے، کاش اپوزیشن لیڈر بجٹ کتاب کو کھولتے اور دیکھتے۔ آپ یہ کیا بات کرتے ہیں آپ کے کھانچے بند ہوگئے ہیں۔ آپ کی ٹی ٹی بند ہوگئی ہے آپ کی اپنی معیشت خراب ہوئی اس میں کوئی شک نہیں۔کک بیک سٹوریاں کہاں ہیں قوم آپ سے پوچھتی ہے، آٹے اور چینی کی بات کرتے ہیں شوگر ملیں اور آٹے کی ملیں کس کی ہیں، 40 شوگر ملوں میں سے 7 ان کی ہیں بتائیں چینی چوری کا کام آپ سے شروع ہوا، ان کی شوگر ملوں نے ابھی بھی 78 کروڑ روپے دینے ہیں۔ سستی روٹی آٹا سکیم سے اربوں روپے اپنی جیب میں ڈالے بتائیں وہ پیسے کہاں ہیں۔ ٹرین کے اندر آگ لگ گئی، ایل ڈی اے کے اندر جب آگ لگی تو وہ کس نے لگائی، وہ سابق حکومت کا کارنامہ ہے کیونکہ ایل ڈی اے میں ان کے ذاتی معاملات تھے۔ان سے پوچھیں ماڈل ٹاؤن میں 14 لوگوں کو قتل کیوں کیا۔عمران خان کی کوئی مل نہیں چینی چور یہ ہیں۔ میاں اسلم اقبال نے کہا کہ یہ بتائیں سرجیکل ٹاور وزیر آباد کارڈیالوجی میرے حلقہ کا ہسپتال کیوں نہ مکمل کیا گیا۔ ہیلتھ سیکٹر میں ان کے بجٹ سے 74 ارب زیادہ رکھا ہے۔ان میں بغض بہت زیادہ ہے جس کو ماپنے کا کوئی پیمانہ نہیں۔ 2008 میں انہوں نے جناح ہسپتال،پنجاب اسمبلی کی بلڈنگ مکمل نہیں کی۔یہ کھاتے بھی ہیں اور روتے بھی ہیں۔تین کمروں کے ہسپتال بنا کر کہتے ہسپتال بنائے۔ ڈاکٹرز،اور نرسز کی بھرتیاں ہماری حکومت میں ہوئیں ہیں۔ (ن) لیگ کے دور میں ایک ایک بیڈ پر تین تین مریض ہوتے تھے۔ ہارٹ اٹیک،بجلی بل،مریض،جو مسائل ہیں وہ سب اورنج لائن ٹرین پر لے جاتے ہیں۔ آپ کو اتنی جلدی تھی تو اورنج لائن ٹرین منصوبہ مکمل کرکے جاتے۔ آئی جی،چیف سیکر ٹری تبدیل کر دئیے یہ حکومت کا استحقاق ہے۔ یہ نہیں کہ آئی جی کو گھر کا ملازم بنایا جائے اسے ذاتی کام کیلئے رکھا جائے۔ ہم نے آئی جی کو گھر کی لونڈی نہیں بنایا بلکہ میرٹ پر کام کیے ہیں۔ لوکل گورنمنٹ کا مطلب اختیارت نچلی سطح پر ملتوی کرنا تھا۔ کتنا لالچ تھا کہ مطلب کا ڈی جی،آئی جی،لگا لیں۔ میاں اسلم اقبال کی تقریر کے دوران ن لیگی رکن اسمبلی عظمی بخاری سیخ پا ہو گئیں اور اپنی نشست سے اٹھ کر میاں اسلم کو تقریر سے روک دیا۔ عظمیٰ بخاری نے کہا کہ جو آپ باتیں کر رہے ہیں وہ اب برداشت سے باہر ہو گیا ہے۔ سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہٰی نے کہا کہ یہ کوئی طریقہ نہیں ہے آپ ٹھیک نہیں کر رہی ہیں۔ آپ نے ایسا کرنا ہے تو باہر چلی جائیں جس پر (ن)لیگی رکن اسمبلی عظمیٰ بخاری ایوان واک آؤٹ کر کے باہر چلی گئیں۔ پیپلزپارٹی کے رکن مخدوم عثمان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم تو کہتے ہیں اپوزیشن کے ساتھ بیٹھیں اور مسائل کا حل نکالیں۔ حکومت کرونا کے پیچھے چھپ رہی ہیں۔ کرونا سے پہلے کون سا گروتھ ریٹ کی توقع کی جا رہی تھی۔ تمام شعبوں میں حکومت ناکام نظر آئی۔ اپوزیشن بھی عوام کی نمائندگی کرر ہی ہے۔ صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت نے پوائنٹ آف آرڈر پر بتایا کہ جس دن بجٹ پیش کیا گیا تو اپوزیشن نے طوفان بدتمیزی کھڑا کیا۔ آج اپوزیشن لیڈر کی تقریر کے دوران حکومتی بنچوں نے جمہوری رویہ دکھایا،اپوزیشن لیڈر کو حکومتی بنچوں کا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔ سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی نے کہا کہ اپوزیشن کے پارلیمانی ارکان نے ملاقات میں بجٹ کے دوران شورشرابا پر معذرت کی ہے لیکن اچھا ہوتا کے وہ ایوان میں بھی معذرت کرتے۔پی ٹی آئی ممبران نے جس تحمل سے اپوزیشن لیڈر کی تقریر سنی خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ پنجاب اسمبلی سیکرٹریٹ جاری ایجنڈے کے مطابق بجٹ پر عام بحث 23 جون تک جاری رہے گی۔ جس میں ہر ممبر کو 5 منٹ دیئے جائیں گے۔ سپیکر نے ایجنڈا مکمل ہونے پر اجلاس آج دوپہر 2بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔

پنجاب اسمبلی

مزید :

صفحہ آخر -