سندھ حکومت کا بجٹ خوبصورت الفاظ کا مجموعہ ہے،کاشف سعید شیخ

    سندھ حکومت کا بجٹ خوبصورت الفاظ کا مجموعہ ہے،کاشف سعید شیخ

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر) جماعت اسلامی سندھ کے جنرل سیکریٹری کاشف سعید شیخ نے کہا ہے کہ سندھ حکومت نے ایک روایتی بجٹ پیش کیا جس میں سندھ اور عوام کی ترقی و فلاح و بہبود کے لیے کچھ بھی نہیں ہے،سندھ میں تسلسل کے ساتھ پیپلزپارٹی کی حکومت ہے مگر عوام آج بھی پینے کے صاف پانی سے لیکر صحت و صفائی اور تعیلیمی سہولیات سے محروم ہیں۔کورونا کی صورتحال نے سندھ حکومت کے دعووں کے برعکس صحت کے شعبے کی کمزوریوں کو بے نقاب کردیا ہے،صحت زراعت اور امن وامان کے لیے بجٹ تو رکھا جاتا ہے مگر اسے عملی جامعہ پہننانے کی بجا ئے کرپشن کی نظر کیا جاتا ہے،ڈاکٹرز و پیرا میڈیکل اسٹاف کو رسک الاونس خوش آئند ہے۔سندھ حکومت کی جانب سے پیش کردہ سال 2020,21کے بجٹ کے حوالے وڈیو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے صوبائی جنرل سیکرٹری نے مزید کہا کہ پیش کردہ بجٹ سے لگتا ہے کہ وفاقی حکومت کی طرح سندھ کا بجٹ بھی اعدادو شمار کی کاریگری سے پیش کیا گیا جس میں عوام کے لئے کچھ بھی نہیں ہے۔ ملک کے سب سے بڑے شہر اور صنعتی حب کراچی کے لئے سب سے کم ترقیاتی بجٹ رکھا گیا۔نئے ٹیکس نہ لگانا، تعلیم و صحت کے بجٹ میں اضافہ اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ قابل تعریف قدم ہے۔ عوام پہلے ہی بے روزگاری اور مہنگائی سمیت ظلم و ناانصافیوں کی چکی میں پس رہے ہیں،نئے ٹیکس یا اس میں اضافہ سے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوجائے گا کیونکہ ٹیکس لگانے سے عوام دوست کم اور عوام دشمن بجٹ زیادہ ہو جاتا ہے۔تاہم بجٹ میں بلند و بانگ دعووں کو عملی شکل دینے میں حکومت کو سنجیدہ اقدامات کرنا ہوں گے،ماضی کاتجربہ بھی یہی بتاتا ہے کہ سالانہ بجٹ وقت پر استعمال نہیں ہو پاتا یا کرپشن کی نظر ہو جاتا ہے۔ٹڈی دل کے روک تھام اور کورونا وائرس سے نجات کیلئے مختص کردہ 134ارب روپے کسانوں کو ریلیف دینے اور عوام کو کوڈ19سے محفوظ کرنے کی بجائے اس رقم کا بڑا حصہ کرپشن کی نذر ہوجائے گا، سندھ میں گذشتہ دسمبر سے ٹڈی دل نے کسانوں کا جینا حرام اور لاکھوں ایکڑ پر مشتمل فصلوں کو چٹ کردیا ہے لیکن سندھ کا محکمہ زراعت اپنے سیر سپاٹوں کیلئے تو 12بڑی گاڑیاں خرید چکا اور سروے کے نام پر عیاشیاں کی جارہی ہیں لیکن وفاق کی جانب سے فراہم کردہ جہاز میں ایندھن ڈالنے کے پیسے نہیں ہیں، دوسری جانب کورونا وائرس کی وجہ سے فرنٹ لائن پر لڑنے والے ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل عملے اور پولیس کے جوانوں کو وائرس سے بچا? کیلئے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے جس کی وجہ سے مایہ ناز ڈاکٹرز شہید جبکہ بڑے پیمانے پر پولیس اہلکار اور پیرامیڈیکل کا عملہ کورونا وائرس کا شکار ہوچکا ہے۔ بجٹ میں غریب اور محنت کش طبقات کیلئے ریلیف کا کوئی بھی انتظام نہیں کیا گیا،کورونا محض بہانہ ہے سندھ حکومت صحت کے حوالے سے سنجیدہ ہوتی تو کراچی سمیت سکھر، حیدرآباد، میرپورخاص اور لاڑکانہ جیسے بڑے شہروں کے ہسپتالوں کی حالت زار کو سدھارنے کیلئے اقدامات کرتی جہاں پر دیگرامراض تو اپنی جگہ لیکن کتے کے کاٹنے کی ویکسین بھی نہیں ملتی، تعلیم کی صورتحال بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ہے، دیہاتوں میں اسکولز وڈیروں کے اوطاقوں یا پھر اناج کے گداموں میں تبدیل جبکہ شہروں کے اندر بھی تعلیمی اداروں میں پینے کے صاف پانی، واش رومز کی سہولیات بھی میسر نہیں ہیں۔تھرپارکر اور ملحقہ اضلاع میں بھوک، بدحالی اور بیروزگاری کی وجہ سے ہزاروں معصوم بچے موت کا شکار ہوچکے، لیکن ان اضلاع میں حکومت کی جانب سے کوئی مؤثر پلاننگ نہ ہونے کی وجہ سے لوگ اجتماعی خودکشیاں کرنے پر مجبور ہوچکے ہیں، موجودہ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ ہی گذشتہ تیرہ سالوں کے دور می ں زیادہ تر وزیرخزانہ کے منصب پر فائز ہیں اسکے باوجود ترقیاتی اسکیموں کا بجٹ خرچ نہ ہونا اورمنصوبوں کا پایہ تکمیل تک نہ پہنچنا ان کی نااہلی ہے،ضلعی ترقیاتی اسکیموں کے حوالے سے فنڈز فی الفور ریلیز کئے جائیں اور آڈٹ میں ظاہر ہونے والے کرپشن کا حساب دیا جائے۔

مزید :

صفحہ آخر -