کراچی کے میڈیکل اسٹورز سے ڈیکسا میتھا سون غائب ہونا شروع ہو گئی

  کراچی کے میڈیکل اسٹورز سے ڈیکسا میتھا سون غائب ہونا شروع ہو گئی

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر) برطانیہ میں کورونا وائرس کے لئے زندگی بچانے والی دوا قرار دیئے جانے کے بعدکراچی کے میڈیکل اسٹورز سے ڈیکسا میتھاسون غائب ہونا شروع ہوگئی ہے جبکہ ادویات ساز اداروں اور ڈسٹری بیوٹرز نے اس کی قیمتوں میں 100گنا اضافہ کردیا ہے۔تفصیلات کے مطابق جناح اسپتال،سول اسپتال،عباسی شہید اسپتال کے باہر میڈیکل اسٹورز پر ڈیکسا میتھاسون کی دوا نایاب ہوگئی ہے۔ صدر، کالاپل، ڈیفنس،سلطان آباد،محمود آباد، قیوم آباد، لیاری،کورنگی، لانڈھی، بلدیہ ٹاون سمیت دیگر کئی علاقوں کے میڈیکل اسٹورز پر بھی یہ دوا دستیاب نہیں۔میڈیکل اسٹورز مالکان کا کہنا ہے کہ ڈیکسا میتھا سون پر ذخیرہ اندوز فعال ہوگئے ہیں اور انہوں نے مارکیٹ سے دوا اٹھانا شروع کردی ہے۔پاکستان کیمسٹ اینڈ ڈرگ ایسوسی ایشن کیسینئر وائس چیئرمین عبدالصمد بڈھانی نے بتایا کہ ڈیکسا میتھا سون انجکشن کی ہول سیل قیمت 450، ریٹیل قیمت 528 روپے تھی لیکن جیسے ہی ذخیرہ اندوزی شروع ہوئی تو اس کی قیمت 800 سے 1000 تک چلی گئی ہے اور اس کی فروخت روک دی گئی ہے۔ہول سیل کیمسٹ کونسل آف پاکستان کے صدر عاطف بلو کہنا ہے کہ کمشنر کراچی کو صورتحال سے آگاہ کردیا ہے کہ ادویات کی قلت اور نرخوں کے اضافے کے ذمہ دار ہول سیل ادویات فروش نہیں بلکہ ادویات ساز کمپنیاں اور ان کے مخصوص سٹریبیوٹرزہیں۔زبیر میمن صدر ہولسیل فارما آرگنائزیشن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کورونا مریضوں کو لگنے والے انجکشن کے غائب ہونے کا نوٹس لے۔ انجکشن بلیک کرنے والے عناصر کو پکڑا جائے اور انجکشن میڈیسن مارکیٹوں کو بھی سپلائی کی جائے۔دوسری جانب ادویات کے تاجروں کا کہنا ہے کہ ہول سیل مارکیٹوں میں ادویات کی قیمتوں میں کسی قسم کو ئی اضافہ نہیں کیا گیا ہے، کمپنیوں نے مارکیٹوں میں ادویات کی مصنوعی قلت پیدا کرکے ہول سیلرز کو بھی یہ ادویات پوری قیمتوں میں سپلائی کی جارہی ہے اور ہول سیلرز مقررہ قیمت پر ہی فروخت کررہے ہیں۔

مزید :

صفحہ آخر -