یونیورسٹیوں کی خود مختاری ختم کرنے کا فیصلہ؟

یونیورسٹیوں کی خود مختاری ختم کرنے کا فیصلہ؟
 یونیورسٹیوں کی خود مختاری ختم کرنے کا فیصلہ؟

  

کورونا کی وبا کی وجہ سے پاکستان کا تعلیمی نظام پہلے ہی انہاط پذیر ہے مارچ 2020سے ملک بھر کے چھوٹے بڑے تعلیمی ادارے اور مدارس بند ہیں سرکاری اور پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی بندش کی وجہ سے بچے بچیاں والدین پر مسلط ہیں۔ والدین کا ٹائم ٹیبل تبدیل کر دیا ہے لاک ڈاؤن اور کورونا کے خوف کی وجہ سے بچے احتیاط کریں یا نہ کریں۔ والدین اس بات پر ہی خوش ہیں کہ ہمارے بچے کم از کم گھروں میں تو ہیں موبائل اور ٹی وی سے کھل کر استفادہ کر رہے ہیں۔ تعلیمی ادارے بند ہونے کے بعد یقینا گھروں کا ماحول تبدیل ہوا ہے۔ غیر سنجیدگی آئی ہے۔ بچوں کی موبائل، انٹرنیٹ مصروفیت نے والدین میں بلڈ پریشر کا مرض تیزی سے بڑھا دیا ہے۔ تعلیمی اداروں کی بندش سے فیسوں کی ادائیگی نہیں ہو پا رہی جس کی وجہ سے والدین اور تعلیمی اداروں کی انتظامیہ ایک دوسرے کے بالمقابل آ گئے ہیں۔ والدین اپنی مجبوریاں حکومت کے سامنے رکھ رہے ہیں۔ تعلیمی اداروں کے مالکان کرائے کی بلڈنگ کے کرایوں کی ادائیگی، اساتذہ، ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کا رونا رو رہے ہیں۔ حکومت کی طرف سے اداروں کی بندش کو بنیاد بنا کر فیسوں میں 20فیصد کمی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔

والدین بضد ہیں جب تک تعلیمی ادارے بند ہیں 20فیصد کٹوتی لاگو کی جائے پرائیویٹ سکولز مالکان مارچ، اپریل، مئی سے آگے بڑھنے کے لئے تیار نہیں۔ زمینی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے مالکان کو والدین کی مجبوریوں کو سامنے رکھنا ہوگا اور والدین کو پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی حالت زار کو سامنے رکھنا ہوگا۔ کرائے کی عمارتیں، اساتذہ ملازمین کی تنخواہیں۔یوٹیلٹی بلز تو حکومت اور عمارتوں کے مالکان چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہیں حکومت کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دونوں سٹیک ہولڈر کو ایک ساتھ بٹھا کر فیصلہ کر دینا چاہیے۔ تعلیمی اداروں اور حکومت کی طرف سے آن لائن ٹی وی چینل اور آن لائن کلاسز کے ڈرامے کو بھی سنجیدگی سے لینا ہوگا صرف فیسوں کی وصولی کا جواز نہیں بنانا چاہیے۔طلبہ و طالبات کے تعلیمی نقصان کو کم سے کم کرنے کے لئے جدید تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے آن لائن نظام سے استفادہ کرنا چاہیے۔ آج کی نشست میں بات یونیورسٹیوں کی کرنی تھی۔ دنیا بھر میں پاکستان کی پہچان پاکستان کی تعلیمی یونیورسٹیاں ہی ہیں۔

کورونا اور لاک ڈاؤن کے دنوں میں یونیورسٹیوں کے ایکٹ میں تبدیلی کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ تعلیمی اداروں کی بندش کے دنوں میں ہی یونیورسٹی ایکٹ میں تبدیلی سمجھ سے بالاتر عمل ہے۔ وفاقی بجٹ میں تعلیمی بجٹ میں کمی حکومت کی غیر سنجیدگی کا مظہر ہے۔ 4فیصد ب جٹ کا مطالبہ یکسر نظر انداز کرکے 2.5رکھا گیا ہے یہی حال پنجاب کے بجٹ کا ہے 103ارب کی ڈیمانڈ کی گئی تھی 59ارب رکھا گیا ہے۔ یونیورسٹیوں کی 1973ء سے پہلے کی صورت حال میں یونیورسٹیاں خود مختار تھیں وائس چانسلر بااختیار تھے۔ 1973ء ایکٹ کے ذریعے تبدیلی لائی گئی اور یونیورسٹیوں کی خود مختاری کم کرنے کی کوشش کی گئی۔ البتہ باہمی اتفاق رائے سے سینڈیکٹ کی صدارت وائس چانسلر کی ذمہ داری رہی۔ سنڈیکٹ کے 14ارکان میں 3افراد کی نامزدگی گورنر پنجاب کرنے لگے۔ سپیکر سنڈیکٹ کا ممبر ہوتا ہے۔ سیکرٹری فنانس اور سیکرٹری ایجوکیشن اور چیف جسٹس باقاعدہ ممبر ہیں۔4ممبر اساتذہ میں سے ہوتے ہیں۔ ایک لیکچرار اسسٹنٹ پروفیسر، ایسوسی ایٹس پروفیسر، پروفیسر سنڈیکٹ ممبر ہوتے ہیں۔ صدارت وائس چانسلر کرتے ہیں عملی طور پر دیکھا گیا ہے ابھی بھی سنڈیکٹ میں حکومتی ارکان کی اکثریت ہوتی ہے سنڈیکٹ میں کئے گئے فیصلوں کی منظوری سینٹ میں ہوتی، سینٹ سنڈیکٹ کے فیصلوں کو مسترد یا منظور کر سکتا ہے۔ 1973ء کے بعد یونیورسٹیوں کا تعلیمی نظام مضبوط ہوا ہے گورننس بڑھی ہے دنیا میں پاکستان کی یونیورسٹیوں کا گریڈ بڑھا ہے۔

پنجاب یونیورسٹی، یونیورسٹی آف انجینئرنگ، زرعی یونیورسٹی، بہاؤ الدین یونیورسٹی ملتان، قائداعظم یونیورسٹی،اسلامک انٹرنیشنل یونیورسٹی، بہاولپور یونیورسٹی ہمارے صوبہ پنجاب کی ہی نہیں پاکستان کی بھی پہچان ہیں۔ موجودہ حکومت جو اقتدار میں آنے سے پہلے تعلیمی بجٹ بڑھانے،یونیورسٹیوں کی خود مختاری مضبوط کرنے، اساتذہ کے لئے نئے پروگرامات شروع کرنے کی دعویدار تھی اب اپنے منشور اور نعروں کے برعکس نئی بننے والی یونیورسٹیوں اور پرانی یونیورسٹیوں کو ایک ساتھ لاکھڑا کیا ہے۔1973ء کے ایکٹ میں تبدیلی کرکے ایکٹ 2020ء منظور کر لیا ہے جس کے مطابق وائس چانسلرز کے اختیارات محدود کر دیئے گئے ہیں۔پی ٹی آئی حکومت نے چیک اینڈ بیلنس رکھنے کو جواز بنا کر یونیورسٹیوں کی خود مختاری کم کرکے ہائر ایجوکیشن کے سامنے جواب دہ بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ سینڈیکٹ کی صدارت وائس چانسلر سے لے کر ریٹائر جج یابیورو کریٹ کو دینے کی تجویز سامنے آئی ہے۔ وائس چانسلر کو اکراجات کا اڈٹ ہائر ایجوکیشن کے ذمہ لگانے کی تجویز ہے۔ وائس چانسلر پر پیڈا ایکٹ لاگو کیا جا رہا ہے۔

یعنی کلرکوں کی طرح وائس چانسلر کو جب دل کرے گا حکومت برطرف کر سکے گی۔ پی ٹی آئی حکومت کے اقدامات بے وقت کی راگنی اور آ بیل مجھے مار کے مترادف ہے۔ یونیورسٹیوں کے اساتذہ اور سٹاف کے ساتھ ایلومینائی ایسوسی ایشن سراپا احتجاج ہیں۔مجوزہ ترمیمی ایکٹ کو یونیورسٹی کی خود مختاری پر حملہ قرار دے رہے ہیں۔ سڑکوں پر آنے اور تعلیمی بائیکاٹ کا اعلان کر رہے ہیں۔ نائب صدر ایلومینائی ایسوسی ایشن پنجاب یونیورسٹی راجہ منور نے ایسوسی ایشن کا ہنگامی اجلاس طلب کرکے مجوزہ ترمیمی ایکٹ مسترد کر دیا ہے اور پنجاب بھر کی یونیورسٹی کے اساتذہ طلبہ اور فارغ التحصیل طلبہ و طالابت کے ساتھ مل کر احتجاج تحریک کا عندیہ دیا ہے۔ پنجاب یونیورسٹی اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن کے صدر ممتاز انور چودھری بھی مجوزہ ایکٹ کے خلاف میدان میں آ چکے ہیں۔ پنجاب بھر کے اساتذہ مجوزہ ایکٹ کو واپس لینے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ کورونا اور لاک ڈاؤن تعلیمی اداروں کی بندش میں ایسا قانون لانا انصاف نہیں ہوگا۔

وزیراعظم پاکستان عمران خان،وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود، گورنر پنجاب چودھری سرور، وزیراعلیٰ پنجاب کو جذباتی فیصلہ کرنے کی بجائے مشاورتی عمل کے ذریعے فیصلہ کرنا ہوگا۔ نئے ایکٹ کے تحت یونیورسٹیوں میں سیاسی مداخلت بڑھ جائے گی، تعلیم مہنگی ہو جائے گی، ریسرچ رک جائے گی، اساتذہ میں بددلی پھیلے گی، تعلیمی بحران پہلے ہی بہت زیادہ ہے۔ والدین پریشان ہیں، نئے ایکٹ کے بعد اساتذہ بھی پریشان ہو گئے ہیں۔ انتشار کی نہیں اعتماد کی ضرورت ہے۔ یونیورسٹیوں کے بجٹ بڑھانے وائس چانسلر کو اعتماد دے کر اچھے نتائج کے حصول کا وقت ہے۔

مزید :

رائے -کالم -