شادی ہالز ایسوسی ایشن کا ایس او پیز کے تحت کھولنے کیلئے مظاہرہ

شادی ہالز ایسوسی ایشن کا ایس او پیز کے تحت کھولنے کیلئے مظاہرہ

  

پشاور(سٹی رپورٹر)پشاور میں کورونا وائرس کے پھیلا کے پیش نظر 4 ماہ سے بند شادی ہالوں کو ایس او پیز کے تحت کھولنے اور شادی ہالز سے جڑے افراد کو فاقوں سے بچانے کے لئے خیبر پختونخوا شادی پالز ایسوسی ایشن کی جانب سے خیبر پختونخوا اسمبلی کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرے میں صوبہ کے تمام اضلاع سے تعلق رکھنے والے شادی ہالز مالکان،میل اور فی میل سٹاف نے شرکت کی۔ مظاہرے کی قیادت خیبر پختونخوا شادی ہالز ایسوسی ایشن کے چیئر مین خان گل، خالد ایوب، جمروز خان، آصف جمال، شیراز گوہر ارباب فاروق، محمد زمان اور دیگر کر رہے تھے، مظاہرین نے اپنے مطالبات کے حق میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے، مظاہرے کے دوران گفتگو کرنے ہوئے خان گل کا کہنا تھا کہ گزشتہ چار ماہ سے صوبہ بھر میں باقی تمام کاروبار سمیت کورونا وائرس کے پیش نظر شادی ہال بھی بند کئے گئے اور حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے باقی کاروباری حلقوں کی طرح انہوں نے بھی اپنے کاروبار بند کئے لیکن اب ایک مہینہ ہو گیا ہے کہ حکومت کی جانب سے باقی تمام کاروبار تو کھول دیئے گئے لیکن صرف شادی ہالز کو کھولنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے جس کی وجہ سے شادی ہالوں سے وابستہ طبقہ فاقہ پر مجبور ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف پشاور میں تقریبا 140شادی ہالز ہیں جہاں پر ہزاروں کی تعداد میں سٹاف کام پر مامور ہے جو گزشتہ چار مہینوں سے بند پڑے ہیں جن پر کرائے جمع ہوگئے ہیں جن لوگوں سے سرمایہ کاری کی تھی لاک ڈان کی وجہ سے ان کی سرمایہ کاری ڈھوب گئی اور ان پر قرضے چڑھ گئے ہیں انہوں نے کہا کہ شادی ہالز بند ہونے کی وجہ سے لوگوں نے گھروں میں شادیوں کے تقریبات منانا شروع کر دیئے ہیں جس سے کورونا وباکے پھیلنے کا زیادہ خدشہ ہے جبکہ اگر حکومت ایس او پیز کے شرائط پر شادی ہالز کو کھولنے کی اجازت دے دیں تو وہ زیادہ اچھا ہو گا جس میں ایس او پیز کی پابندیوں کا خیال رکھا جائیگا اور سماجی فاصلوں کی پابندی بھی کی جائیگی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کہ حکومت ہمارا معاشی قتل عام بند کرے اور باقی بازاروں اور شعبوں کی طرح ہمارا کاروبار بھی کھول دیا جائے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -