صوابی کے مختلف علاقوں میں لاک ڈاؤن،داخلی وخارجی راستے سیل

صوابی کے مختلف علاقوں میں لاک ڈاؤن،داخلی وخارجی راستے سیل

  

صوابی (بیورورپورٹ)صوابی میں کورونا وائرس سے متاثرہ علاقوں صوابی کے محلہ شمشہ خیل،ڈھنڈ چم، ٹوپی کے محلہ بوٹکہ اور موضع ڈاگئی کے محلہ زنگی خیل میں پولیس کا سمارٹ ڈاون،داخلی و خارجی راستوں کو سیل کر دیا گیاعوام کورونا وائرس سے متاثرہ علاقوں کی جانب آمدورفت سے گریز کریں اور ڈیوٹی پر تعینات پولیس افسران کے ساتھ تعاون کریں۔ کورونا وائرس کے باعث لاک ڈاؤن کئے گئے علاقوں میں صوابی پولیس کی جانب سے سیکورٹی انتظامات مکمل کر لئے گئے ضلع صوابی میں کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کے باعث ضلعی انتظامیہ کی جانب سے 4علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاؤن کردیا گیا ہے۔ ڈی پی او صوابی کی ہدایات پر تمام سیل علاقوں میں نقل و حرکت اور کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے فول پروف سیکیورٹی انتظامات مکمل کرلئے گئے۔ سیکیورٹی پلان کے تحت جملہ علاقوں کے لئے ڈی ایس پی ہیڈکوارٹر حاجی سیف علی کی قیادت میں متعدد پولیس افسران تعینات کئے گئے ہیں۔ سرکل ڈی ایس پیز کی نگرانی میں 03سب انسپکٹرز،06 اے ایس آئی،12ہیڈ کنسٹیبلز اور 80 سے زائد کنسٹیبلان کو تعینات کیا گیا ہے۔سمارٹ لاک ڈاؤن کئے گئے علاقوں کو تین سب سرکل میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ڈی ایس پی سرکل ہیڈکوارٹر حاجی محمد،ڈی ایس پی صوابی احسان شاہ، ڈی ایس پی رزڑ علامہ اقبال اور ڈی ایس پی ٹوپی افتخار علی و علاقہ ایس ایچ اوز سیکیورٹی انتظامات کا وقتاً فوقتاً جائرہ لے رہے ہیں۔ سرکل صوابی میں کورونا سے متاثرہ علاقہ محلہ شمشہ خیل،شین ڈنڈ چم سرکل رزڑ میں گاوں ڈاگئی محلہ زانگی خیل،اور سرکل ٹوپی میں دیہہ بوٹکا کے علاقوں کو سیل کیا گیا ہے۔مذکورہ علاقوں میں ہر قسم کے آمد ورفت بند ہے۔۔ تمام علاقوں میں ادویات، اشیاء ضروریہ کی فراہمی اور دیگر ضروری انتظامات کے حوالے سے صوابی پولیس ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مل کر فرائض سرانجام دے گی۔ ضلع صوابی کے رہائشیوں کو مذکورہ علاقوں کا رخ نہ کرنے کے حوالے سے بھی آگاہ کیا گیا۔ڈی پی او صوابی کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے پیدا موجودہ صورتحال میں پولیس اور انتظامی اداروں کی جانب سے جاری ہدایات پر عمل کریں۔اور پولیس فورس کے ساتھ تعاون کریں۔سماجی فاصلوں اور ماسک کے استعمال کو یقینی بنائیں۔غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔شہریوں کے ذمہ دارانہ رویوں کی بدولت اس وباء پر کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -