مزدوروں کا تحفظ محکمہ لیبر کی ذمہ داری ہے، شوکت یوسفزئی

مزدوروں کا تحفظ محکمہ لیبر کی ذمہ داری ہے، شوکت یوسفزئی

  

پشاور(سٹاف رپورٹر)خیبرپختونخوا کے وزیر لیبر اینڈ کلچر شوکت علی یوسفزئی کی زیر صدارت صوبہ میں مزدوروں کے تحفظ اور صحت کی بہتری کے لئے بننے والے مجوزہ قانون کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیر قانون سلطان محمد خان، مشیر وزیر اعلی برائے صنعت عبدالکریم اور مشیر وزیر اعلی برائے اقلیتی امور وزیر ذادہ کے ساتھ ایڈوکیٹ جنرل شمائل بٹ، سیکرٹری لیبر کامران رحمان خان، سیکرٹری لاء مسعود احمد اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ سول سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہونے والے اجلاس سے خطاب میں وزیر لیبر شوکت علی یوسفزئی کا کہنا تھا کہ قانون سازی کا مقصد کام کی جگہوں میں مزدور کا تحفظ ممکن بنانا ہے۔ شوکت یوسفزئی کا کہنا تھا کہ مزدوروں کی حفاظت محکمہ لیبر کی ذمداری ہے تاہم اس کے باوجود بعض ادارے محکمہ لیبر کے دائرہ کار سے باہر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجوزہ قانون کے نفاذ سے اب محکمہ لیبر کا دائرہ کار کان کنی کے شعبے میں کام کرنے والے مزدوروں تک بڑھ جائیگا۔ اجلاس میں مجوزہ قانون کی مختلف شقوں کے حوالے سے تفصیلی بحث کی گئی۔ مزدوروں کے تحفظ کے لئے بننے والے مجوزہ قانون میں سزاؤں کو بھی مزید سخت کردیا ہے، جس کے تحت قانون کی خلاف ورزی کرنے کی صورت میں کم سے کم سزاء بیس ہزار جبکہ زیادہ سے زیادہ حد دس لاکھ روپے تک مقرر کی گئی ہے، جبکہ خلاف ورزی دہرانے پر کم سے کم جرمانے کی حد پچاس ہزار اور زیادہ سے زیادہ جرمانہ بیس لاکھ روپے عائد کیا جاسکے گا۔ مجوزہ قانون میں ایک سال تک قید کی سزاء بھی سنائی جاسکے گی۔مجوزہ قانون کے تحت محکمہ لیبر مختلف شعبوں میں کام کرنے والے مزدوروں کے لئے احتیاطی تدابیر کے حوالے سے گائیڈ لائنز جاری کرسکے گا۔ مجوزہ قانون کے تحت کونسل کا قیام بھی عمل میں لایا جائیگا۔

مزید :

صفحہ اول -