دنیا کی بڑی فضائی کمپنیوں کے جہازوں سے شراب کیوں غائب ہورہی ہے؟

دنیا کی بڑی فضائی کمپنیوں کے جہازوں سے شراب کیوں غائب ہورہی ہے؟
دنیا کی بڑی فضائی کمپنیوں کے جہازوں سے شراب کیوں غائب ہورہی ہے؟

  

لندن(ڈیلی پاکستان آن لائن)دنیا بھرمیں کورونا وائرس کے پھیلاو کے باوجود احتیاطی تدابیر لازمی قرار دیے جانے کے بعد حکومتوں نے لاک ڈاون یا تو ختم کردیا ہے یا مرحلہ وار اس میں نرمی کی جا رہی ہے۔

ایسے میں کئی ایسے اقدامات بھی نظر آرہے ہیں جن کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ فضائی سفر بحال ہوچکا ہے تاہم دوران سفر مناسب فاصلہ اور ماسک لازمی ہیں۔

کورونا کا پھیلاو روکنے کے لیے دنیا کی بڑی فضائی کمپنیوں نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے دوران سفر پیش کی جانے والی الکوہل(شراب)  کو کم کرنا یا بالکل ختم کرنا شروع کر دیا ہے۔

وائرس کے پھیلنے کا ایک طریقہ آلودہ جگہوں سے رابطے کے پوائنٹ سے ہوتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ یہ سٹرا، کپوں، اور مشروبات کی بوتلوں یا ڈبوں سے پھیل سکتا ہے۔

امریکہ میں ڈیلٹا ایئر لائن صرف بوتل بند پانی پیش کر رہی ہے۔ امریکی فضائی کمپنیاں صرف بین الاقوامی پروازوں پر الکوہل پیش کر رہی ہیں۔

ورجن اٹلانٹک اور ورجن آسٹریلیا فی الحال الکوہل پیش نہیں کر رہیں، اور نہ ہی کے ایل ایم، برٹش ایئر ویز اور ایزی جیٹ وغیرہ۔

 واضح رہے دنیا بھر میں اب تک 81 لاکھ سے زائد افراد کورونا سے متاثر ہو چکے ہیں جبکہ ہلاکتوں کی تعداد چار لاکھ 43 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔

دنیا کا سب سے زیادہ متاثرہ ملک امریکہ ہے جہاں متاثرین کی تعداد 21 لاکھ سے زائد ہے جبکہ ایک لاکھ 16 ہزار سے زائد ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔

برازیل دنیا میں متاثرین کی تعداد کے اعتبار کے بعد اب برطانیہ کو پیچھے چھوڑتے ہوئے اموات کی تعداد میں بھی دوسرے نمبر پر آ چکا ہے۔

مزید :

کورونا وائرس -